افغانستان میں طالبان کے پرتشدد حملے، امریکی کمانڈر نے اہم بیان جاری کردیا

افغانستان میں طالبان کے پرتشدد حملے، امریکی کمانڈر نے اہم بیان جاری کردیا

?️

کابل (سچ خبریں) افغانستان میں طالبان اور افغان فوج کے مابین شدید لڑائی جاری ہے جبکہ طالبان روز بروز اپنے زیر اثر علاقہ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب تک انہوں نے متعدد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے امریکی کمانڈر نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 ہزار افراد پر مشتمل ریپڈ ری ایکشن فورس تشکیل دی ہے جو طالبان کے کا مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مئی کے اوائل میں امریکی فوج کی جانب سے انخلا کے اعلان کے بعد سے افغانستان کے چار سو سے زیادہ اضلاع میں سے 100 سے زائد اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے اور اس ماحول میں دیہی علاقوں میں افغان طالبان اور مقامی سیکیورٹی فورسز میں لڑائی میں شدت اختیار کر لی ہے۔

منگل کو کابل میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل اسکاٹ ملر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ فضائی حملے نہ کیے جائیں لیکن فضائی حملے نہ ہونے کے لیے آپ کو تمام تر تشدد کو روکنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے طالبان کو کہا ہے کہ ان کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جارحانہ کارروائیوں اور فضائی حملوں کو روکا جائے، انہوں نے باور کرایا کہ انخلا کا عمل جاری رہنے کے باوجود امریکی فوج طالبان کے خلاف فضائی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال 11 ستمبر کو امریکی تاریخ کی سب سے طویل ترین جنگ کے خاتمے کے اعلان کیا ہے اور بقیہ فوج کا اسی تاریخ تک انخلا کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع پر قبضے کے دعوؤں کو اکثر سرکاری عہدیدار متنازع قرار دیتے ہیں البتہ ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق مشکل ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران نئے اضلاع کے بیشتر حصوں پر طالبان کے قبضے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں لڑنے والی افغان فوج کے لیے امریکی فضائی مدد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسکاٹ ملر نے اعتراف کیا کہ کسی بھی علاقے پر قبضے کے ملک کی مجموعی سلامتی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اضلاع اہم علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کا عوام، صوبائی دارالحکومتوں اور یقینی طور پر دارالحکومت کی سلامتی سے اہم تعلق ہے۔

طالبان نے حال ہی میں قندوز شہر کے آس پاس کے دیگر اضلاع کے ساتھ شمال میں تاجکستان کے ساتھ ایک اہم سرحدی گزر گاہ پر قبضہ کرلیا جس کے بعد عملی طور پر شہر کا محاصرہ ہو چکا ہے۔

طالبان نے ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کابل پر قبضے کے لیے فوج پر دباؤ ڈالیں گے۔

اسکاٹ ملر نے کہا کہ فوجی قبضہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، یقینی طور پر افغانستان کے لوگوں کے حق میں تو بالکل بھی نہیں ہے، مجموعی طور پر سیکیورٹی کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جسے افغان سیکیورٹی فورسز نے تسلیم کیا ہے اور جب ہم یہاں سے نکلیں گے تو وہ مناسب ایڈجسٹمنٹ کر لیں گے۔

طالبان کے بڑھتے ہوئے پرتشدد حملوں کا سامنا کرنے والی افغان وزارت داخلہ نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایک 4 ہزار افراد پر مشتمل ریپڈ ری ایکشن فورس تشکیل دی ہے جس کی سربراہی فوج کے ریٹائرڈ جرنیل کریں گے جو باقاعدہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کریں گے۔

مشہور خبریں۔

جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ڈرونز کے مقابلے کے لیے صیہونی فوج کا کتوں کا سہارہ

?️ 4 جون 2026سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے

حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر مولانا فضل الرحمٰن کا بیان

?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: جمعیت علمائے اسلام کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے حماس

قیدیوں کا تبادلہ اور مزاحمت کا اخلاق

?️ 4 فروری 2025سچ خبریں: ترکی کی انادولو ایجنسی کی ایک رپورٹکے مطابق غزہ میں

امریکہ لبنان کے ساتھ کالونی جیسا سلوک کر رہا ہے: حزب اللہ

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: لبنان کی پارلیمنٹ میں وفاداری سے مزاحمت کے بلاک کے سینئر

اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ کی صیہونیت مخالف قرارداد کا خیر مقدم کیا

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:    اسلامی تعاون تنظیم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے

ہسپتال میں سلمان رشدی کی تازہ ترین صورتحال

?️ 14 اگست 2022سچ خبریں:    الجزیرہ نے آیت شیطانی کے مرتد مصنف سلمان رشدی

چین کی دہلی پر نظر، انڈیا اور پاکستان کے درمیان مکمل جنگ کا امکان کم

?️ 1 مئی 2025 سچ خبریں:ہندوستان کے سیاسی امور کے ایک ماہر نے یوریشیائی خطے

مسٹر بلنکن، کیا خون خون سے مختلف ہے؟: یمنی اہلکار

?️ 27 فروری 2023سچ خبریں:یمن کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے