طالبان نے تاجکستان سرحد سے متصل کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا

طالبان نے تاجکستان سرحد سے متصل کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا

?️

کابل (سچ خبریں)  طالبان نے تاجکستان سرحد سے متصل کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے جب کہ اس کی حفاظت پہ مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار سرحد پار کر کے فرار ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قندوز شہر سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے شمال میں شیر خان بندر پر قبضہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

افغان طالبان نے یہ کامیابی اس وقت حاصل کی ہے جب پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے واضح طور پر کہا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی رفتار سست کی جا سکتی ہے۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حکیمی نے عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ دو روز قبل ڈیڑھ گھنٹہ لڑائی کے بعد طالبان نے شیر خان بندرگاہ اور تاجکستان کے ساتھ واقع قصبے اور تمام سرحدی چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ فوج کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ہمیں تمام چوکیاں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور ہمارے کچھ فوجی سرحد عبور کر کے تاجکستان چلے گئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ صبح تک سیکڑوں کی تعداد میں طالبان جنگجو ہر جگہ موجود تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے دریائے پاینج کے پار گزرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

انہوں نے خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مجاہدین شیر خان بندر اور قندوز میں تاجکستان سے ملحقہ سرحدی گزر گاہوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

صوبائی کونسل کے ایک اور رکن عمرالدین ولی نے بتایا ہے کہ پیر کی شب سے اس علاقے سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

اس گزرگاہ پر 700 میٹر طویل پل موجود ہے اور امریکہ کے تعاون سے تعمیر کیا گیا یہ پل 2007 میں کھولا گیا تھا جس کا مقصد وسط ایشیائی ہمسایہ ممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینا تھا۔

قندوز کے صوبائی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ترجمان مسعود وحدت نے بتایا کہ جس وقت قبضہ ہوا اس وقت شیر خان بندرگاہ پر سامان سے لدے ہوئے 150 ٹرک موجود تھے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا کیا بنے گا؟ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا مالی نقصان ہو گا۔

افغان طالبان نے اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ اس شہر پر قبضے کی کوشش کی ہے، اس سے پہلے ستمبر 2015 اور اس سے ایک سال بعد بھی شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

1990 کی دہائی میں اقتدار پر قبضہ کرنے سے قبل قندوز طالبان کا مضبوط گڑھ تھا اور یہاں اکثریتی آبادی پختون ہے جب کہ یہ شہر تاجکستان سے معاشی اور تجارتی نقل و حمل کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغان فوج کا کہنا کہ وہ جلد ہی کھوئے ہوئے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائی کا آغاز کریں گے۔

سیکیورٹی فورسز کے ترجمان جنرل اجمل شنواری نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ مرکزی کمانڈ مکمل کنٹرول میں ہے اور دشمن کے خلاف تمام سیکیورٹی فورسز اور فوجی وسائل متحرک کردیئے گئے ہیں لہذا آپ جلد ملک بھر میں ہماری پیشرفت دیکھیں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکی حکومتی اداروں کو بند کرنے کے بارے میں پینٹاگون کا اظہار خیال

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں: بائیڈن حکومت کے شٹ ڈاؤن کی آخری تاریخ قریب آتے

پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے پر وزیر خارجہ کا بیان سامنے آگیا

?️ 29 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں)ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے پاکستان

 خواتین کے لیے برقع پہننا لازمی نہیں ہے: سینئر طالبان عہدیدار

?️ 11 مئی 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ میں طالبان کے منتخب نمائندے سہیل شاہین نے

پی ٹی آئی نے دوبارہ ہونے والے پولینگ میں بھی میدان مار لیا

?️ 29 جولائی 2021مظفر آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق حلقے میں چار پولنگ اسٹیشنوں

پاکستان کا امریکا میں ہونے والے ’جمہوریت کے سربراہی اجلاس‘ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

?️ 28 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان نے رواں ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے جمہوریت

برطانیہ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ

?️ 14 مئی 2022سچ خبریں:برٹش الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ یوکرین کے

امریکی تھنک ٹینک: شام پر پابندیاں اٹھانے سے القاعدہ مضبوط ہو گی

?️ 17 مئی 2025سچ خبریں: امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے ایک ماہر نے شام پر

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل و قانونی ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ

?️ 21 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے صدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے