افغانستان میں موجود سیاسی بحران جاری، دوحہ میں طالبان اور افغان حکام کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے

افغانستان میں موجود سیاسی بحران جاری، دوحہ میں طالبان اور افغان حکام کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے

?️

دوحہ (سچ خبریں) افغانستان میں جاری موجود سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیئے دوحہ میں طالبان اور افغان حکام کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اتوار کو ہونے والے مذاکراتی دور بغیر کسی نیتجے کے ختم ہو گیا جبکہ ملاقات سے قبل طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے بیان میں ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل پر زور دیا تھا۔

اس مذاکراتی دور میں شرکت کے لیے اعلی افغان حکام بشمول قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبداللہ طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں اطراف نے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے جب کہ ایک مشترکہ بیان میں اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات اور ایک منصفانہ حل پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔

مذاکرات کے دوسرے روز ملاقات سے قبل طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی امارات ایک سیاسی حل کی حمایت کرتی ہے باوجود اس کے کہ اسے میدان میں کامیابیاں مل رہی ہیں۔

مذاکرات کے قطری سہولت کار کا مطلق القحطانی کا کہنا تھا کہ دو روزہ مذاکراتی دور کے دوران دونوں اطراف نے صرف شہریوں کی ہلاکتوں کے روکنے کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے جو کہ اعلان جنگ بندی سے کافی کم ہے۔

مطلق القحطانی کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف نے اعلی سطحی مذاکرات پر زور دیا ہے جب تک کوئی حل طے نہ پا جائے۔ اس مقصد کے لیے اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات ہو گی۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطری دارالحکومت میں کئی مہینوں تک ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی، طالبان کی جانب سے مزید علاقوں پر قبضے کے باعث یہ مذاکراتی سلسلہ اپنی رفتار کھو چکا ہے۔

طالبان رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ کے مطابق طالبان افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے حق میں ہیں لیکن انہوں نے مخالفین پر ’وقت برباد‘ کرنے پر تنقید بھی کی ہے۔

امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے اپنی کارروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ملک کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، اس وقت افغانستان کے 400 میں سے تقریباً نصف اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں۔

دوسری جانب افغان افواج کے ترجمان کے مطابق حکومتی افواج نے طالبان کے خلاف 244 آپریشنز کیے ہیں جن میں 967 دشمن جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا جن میں اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔

اجمل عمر شنوری کے مطابق ہم نے 24 اضلاع واپس حاصل کر لیے ہیں، ہمارا مقصد تمام علاقے واپس لینا ہے، ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی سال کے دوران طالبان اسلامی تعطیلات کے دوران جنگ بندی کا اعلان کرتے رہے ہیں تاہم رواں برس عید کی چھٹیوں کے باوجود طالبان رہنما نے سیز فائر کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

مشہور خبریں۔

سیف القدس کا آپشن موجود ہے؛حماس اورجہاد اسلامی کے عہدیداروں کا مشترکہ اجلاس

?️ 17 مارچ 2022سچ خبریں:فلسطین کی اورجہاد اسلامی تحریک کے سکریٹری جنرل اور حماس کے

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ کون نہیں ہونے دے رہا؟

?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت قیدیوں کے تبادلے  کے کسی بھی معاہدے تک

حضرموت میں سعودی عرب اور امارات کی سرد جنگ میں امریکہ اور برطانیہ کا رول

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: یمن کے سب سے بڑے صوبے حضرموت میں سعودی عرب اور

سعودی دربار سے وابستہ متعدد آفیسر بدعنونی کے الزام میں گرفتار

?️ 3 مارچ 2021سچ خبریں:سعودی شاہی دربار سے وابستہ متعدد افسروں اور افراد کو بدعنوانی

کشمیری کی آزادی کی صورت میں سید علی گیلانی کا خواب جلد پورا ہوگا: صدر مملکت

?️ 2 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ

اسد درانی کے متعلق وزیر دفاع کا اہم انکشاف

?️ 27 جنوری 2021اسد درانی کے متعلق وزیر دفاع کا اہم انکشاف اسلام آباد(سچ خبریں)وزارت

سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کی آبی دہشتگردی ہے، شیخ رشید

?️ 26 اپریل 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا

عراقی ہیکرز کے ہاتھوں صیہونی لگاتار سائبر حملوں کا شکار

?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:عراق سے مسلسل دو روز تک صیہونی حکومت کی ویب سائٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے