یمن میں سعودی-اماراتی نیابتی جنگ میں شدت؛ عسکری جارحیت اور سیاسی تلخیاں

یمن

?️

سچ خبریں:یمن کے مشرقی صوبوں پر جنوبی ٹرانزیشنل کونسل (STC) کے کنٹرول میں اضافے نے سعودی-اماراتی نیابی جنگ کو نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے، جس میں ہوائی حملے، زمینی تصادم اور سیاسی الزامات کا تبادلہ شامل ہے۔ یمن کے بحران میں شدت پیدا ہوتی نظر آتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی براہ راست سرپرستی میں جنوبی ٹرانزیشنل کونسل (STC) نے حالیہ ہفتوں میں یمن کے مشرقی تیل سے مالامال اور اسٹریٹجیک علاقوں حضرموت اور المہرہ صوبوں  کے وسیع حصوں پر کنٹرول میں اضافہ کر دیا ہے، اس اقدام کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے سخت مخالفت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یمن سعودی سرحدوں پر حالیہ کشیدگی کی کہانی / صنعا ریاض عناصر کی جارحانہ حرکتوں کا سامنا کرتی ہے

متحدہ عرب امارات سے وابستہ جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کے ترجمان نے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں، سعودی عرب سے وابستہ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے اقدامات کو معاہدوں اور ان کی اختیارات سے باہر اور صدارتی کونسل کے خلاف بغاوت قرار دیا اور کہا کہ العلیمی کا فیصلہ معاہدے کے فریم ورک اور ان کی اختیارات کی حدود سے خارج ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اختیارات صدارتی کونسل کو منتقل ہوئے ہیں، نہ کہ العلیمی کو کہا: العلیمی کے پاس باہمی دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اس ترجمان نے جنوبی یمن میں سعودی عرب کے اماراتی تنصیبات اور فوجی مراکز پر ہوائی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خود دفاع کی بات کہی اور یمن میں امارات کے کردار کو تربیت اور بین الاقوامی فورسز کے فریم ورک میں موجودگی تک محدود قرار دیا۔

اس سے قبل، العلیمی نے امارات سے وابستہ جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کے اقدامات کو سرکاری اداروں کے خلاف بغاوت قرار دیتے ہوئے امارات کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

الزامات کے اس تبادلے اور تند بیانیوں کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات (علاقوں پر قبضہ، محدود ہوائی حملے، ہتھیاروں کی ترسیل) اتحاد کے دو سابق اتحادیوں (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کے درمیان یمن میں نیابی کشیدگی میں انتہائی اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک، یہ لفظی جنگ نہ صرف جنوبی یمن میں اثر و رسوخ پر پرانے اختلافات (جنوبی علیحدگی پسندی، بندرگاہوں اور وسائل پر کنٹرول) کی عکاس ہے، بلکہ یمن کی سرزمین پر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست نیابی جنگ کے خطرے کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

دریں اثنا، جارح اتحاد کے کرائے کے فوجیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آجانے کے بعد، یمن کے مقبوضہ علاقوں میں بحران کے حل کے لیے کسی بھی علاقائی یا بین الاقوامی کوشش نے ثمر نہیں دیکھا، خاص طور پر جنوبی ٹرانزیشنل کونسل (امارات سے وابستہ) کے خلاف سعودی عرب کی براہ راست دھمکی اور اس کونسل کو حضرموت اور المہرہ کے صوبوں سے نکلنے کے حکم کے بعد، مشرقی یمن کا خطہ بحرانی کیفیت میں ہے۔

ایسے حالات میں جب سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سنیچر کو انتباہی لہجے میں جنوبی ٹرانزیشنل کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ثالثوں کی کوششوں کا جواب دے اور المہرہ اور حضرموت کے صوبوں سے اپنی افواج نکال کر پرامن طور پر عدن حکومت (ریاض کی زیر سرپرستی حکومت) کے حوالے کر دے، جنوبی ٹرانزیشنل کونسل نے اس مطالبے کے جواب میں اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اتوار کو سیئون علاقے میں، جو درحقیقت حضرموت کا دارالحکومت کہلاتا ہے، کونسل اور حضرموت و المہرہ پر اپنا تسلط بڑھانے کی اس کی کارروائیوں کی حمایت میں ایک وسیع مظاہرہ کریں۔

جنوبی ٹرانزیشنل کونسل نے آزاد جنوبی یمن کے اعلان کا مطالبہ بھی کیا اور سعودی اتحاد کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو مسترد کر دیا؛ ایک ایسا معاملہ جس کے بارے میں مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا مطلب عملی طور پر ریاض کی خواہشات کو رد کرنا ہے۔

دوسری جانب، مقامی ذرائع نے بتایا کہ اتوار رات حضرموت میں جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کے عناصر اور قبیلے کی اتحادی افواج (سعودی حمایت یافتہ) کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور یہ جھڑپیں اس صوبے کے متعدد علاقوں پر سعودی جنگی جہازوں کی بھاری پرواز کے ساتھ ہمزمان تھیں۔

ان ذرائع نے، جنہوں نے اپنے نام ظاہر نہیں کیے، کہا: یہ جھڑپیں وادی خرد علاقے میں اس وقت پیش آئیں جب جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کے عناصر نے وہاں پیش قدمی کی کوشش کی اور ان کی پیش قدمی کا قبیلے کی افواج نے مقابلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی سعودی جنگی جہاز حضرموت کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے تھے۔

گیل بن یمین علاقے میں، مقامی رہائشیوں نے وہاں جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کے عناصر کی جانب سے ناکہ بندی کی اطلاع دی اور بتایا کہ جھڑپیں رہائشی علاقوں تک پھیل گئیں اور عوام کے گھروں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے خوفزدہ ہو گئے اور چلانے لگے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، حضرموت کے مشرق میں امارات کی حمایت یافتہ افواج کے ایک فوجی قافلے پر سعودی عرب کی جانب سے ہوائی حملہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:حضرموت میں سعودی عرب اور امارات کی سرد جنگ میں امریکہ اور برطانیہ کا رول

عربی اتحاد نامی فورسز کے ترجمان ترکی المالکی نے آج صبح امارات کے ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں پر مکلا بندرگاہ، جنوبی یمن پر حملے کی خبر دی تھی۔

مشہور خبریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے محکمہ سیاحت کے ہیڈ آفس پر چھاپہ مارا

?️ 7 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے محکمہ سیاحت کے

امام خمینی کی نظر میں بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے

?️ 4 جون 2024سچ خبریں: شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی سطح

پشاور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں درخواست نمٹادی

?️ 2 مارچ 2023پشاور:(سچ خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)

صنعا کا یمنی حاجیوں کے خلاف ریاض کے کریک ڈاؤن پر احتجاج

?️ 27 جون 2022سچ خبریں:   سعودی عرب نے نہ صرف یمن پر حملہ کر کے

یوکرین کی فوجی امداد کے لیے امریکی وسائل لامحدود نہیں ہیں: پینٹاگون

?️ 18 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایک بیان میں تاکید کی کہ

قالیباف کے بیروت کے سفر کے بارے میں رائ الیوم اخبار کا تجزیہ 

?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: علاقائی اخبار رائ الیوم نے اپنی ایک رپورٹ میں خطے کی

انصاراللہ کے میزائلوں کی جگہ امریکی فلم؛یمن میں جارحیت پسندوں کی بوکھلاہٹ

?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:یمن میں سعودی جارح اتحاد اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کرنے کا حکم

?️ 6 جون 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے تحریک انصاف کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے