یمن جنگ میں سعودی عرب کو بھاری نقصان، 74 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ اور وژن 2030 کے اہداف خطرے میں

یمن کی جنگ

?️

سچ خبریں:یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی ناکامیوں کے گہرے اثرات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جن کے نتیجے میں 74 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے، معاشی بحران اور سعودی عرب کے وژن 2030 کے امکانات میں کمی کی بات کی جا رہی ہے۔

المسیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، یمن میں فوجی کشیدگی کے معاشی اثرات سعودی عرب پر بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں 74 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے، فضائی آمدورفت میں خلل اور سیاحت و سرمایہ کاری کو پہنچنے والے نقصان کو سعودی وژن 2030 کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔

المسیرہ ویب سائٹ کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یمن میں فوجی کشیدگی بڑھنے کے نتیجے میں سعودی عرب کی اقتصادی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو میزائل حملوں اور مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں آرامکو کی تنصیبات اور ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو یمنی مسلح افواج کی جانب سے متعدد میزائل حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ حملے محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ اور کشیدگی کے مقابلے میں کشیدگی کی حکمتِ عملی کے تحت کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

لبنان کے روزنامہ البناء کے مدیر اور سیاسی تجزیہ کار ناصر قندیل کا خیال ہے کہ یمن میں فوجی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب کی اہم تنصیبات، بالخصوص آرامکو، حملوں کی زد میں آنے کے خطرے سے زیادہ دوچار ہو گئی ہیں۔

انہوں نے المسیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی مصنف تھامس فریڈمین کے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیا، جس میں امریکہ کی حمایت سے مایوسی کے بعد ریاض کو اپنی حکمتِ عملی اور حساب کتاب پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

قندیل نے تصادم کی صورتِ حال کو زمینی جنگ اور میزائل حملوں کے ذریعے بازدارندگی کے دو بنیادی اصولوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو ایک تزویراتی تعطل کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق، فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی اہم تنصیبات کو محفوظ رکھنے کی محدود ہوتی صلاحیت نے سعودی عرب کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس کے برعکس، ان کا کہنا ہے کہ یمن کی میزائل صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ صلاحیتیں دفاعی نظاموں سے آگے نکل چکی ہیں۔

قندیل: طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے

ناصر قندیل کے مطابق، زمینی جھڑپوں میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ دستوں کی پیش قدمی رک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے مفادات اسی میں ہیں کہ وہ یمن میں اپنی مداخلت ختم کرے، یمن کی خودمختاری اور اس کے وسائل کے خلاف کارروائیاں روکے اور اپنے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کی بندش کا سلسلہ ختم کرے۔

دوسری جانب، ماہرِ معاشیات عماد عکوش کا خیال ہے کہ سکیورٹی صورتِ حال میں تبدیلیوں کے باعث سعودی عرب کو بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کا سامنا ہے۔

 ان کے مطابق، ملک کے ہوائی اڈے بند ہوئے ہیں اور ایک ہفتے کے دوران پروازوں کی منسوخی کی شرح 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر تقریباً 134 طیارے موجود تھے، جن میں سے بیشتر کو ریاض اور سعودی عرب سے باہر منتقل کر دیا گیا۔

عکوش: سیاحت اور وژن 2030 کو ریاض کا سب سے بڑا نقصان

عماد عکوش نے گفتگو میں واضح کیا کہ اس جنگ سے سیاحت اور خدمات کے شعبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، کیونکہ سیاحوں اور حجاج کی آمد میں کمی آئی ہے۔

 ان کے مطابق، ہوائی اڈوں اور نقل و حمل کی دیگر تنصیبات تک حملوں کے پہنچنے کے بعد سعودی معیشت کے خطرات کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بیمے کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

عکوش نے ان تبدیلیوں کے سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف پر اثرات کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔

 اس منصوبے کا اعلان معیشت کو متنوع بنانے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سرمایہ کاری کی کشش میں کمی اور خطرات کی سطح میں اضافہ، اس راستے میں ریاض کو درپیش نمایاں چیلنجز میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق، سکیورٹی خطرات برقرار رہنے سے غیر تیل شعبوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور کاروباری اخراجات، بیمے اور تحفظ کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عرب دنیا کے امیر ترین ملک کو 74 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ

اسی سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فوجی کارروائیوں میں شدت کے نتیجے میں سعودی عرب کی حقیقی مجموعی ملکی پیداوار میں 3.3 سے 3.6 فیصد تک سکڑاؤ کی پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کا اقتصادی نظام خطرے کی زد میں ہے۔

ان رپورٹوں کے مطابق، یمن کی فوجی کارروائیوں میں شدت نے سعودی حکومت کے عوامی بجٹ کے خسارے کو مزید گہرا کر دیا ہے اور بجٹ خسارہ ریکارڈ 277 ارب سعودی ریال، یعنی 74 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ رقم سعودی عرب کی مجموعی ملکی پیداوار کے 6 فیصد کے برابر ہے۔

سعودی عرب کی 80 فیصد پروازیں متاثر ہونے کا دعویٰ

اس حوالے سے ماہرِ معاشیات رشید الحداد کا کہنا ہے کہ فضائی نقل و حمل کا شعبہ سیاحت، خدمات اور سرمایہ کاری کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے ریاض کے شاہ خالد، جدہ کے شاہ عبدالعزیز اور دمام کے ہوائی اڈوں کی تزویراتی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہوائی اڈے بین الاقوامی فضائی آمدورفت کے اہم دروازے ہیں۔

 ان کے مطابق، سعودی عرب کے 17 سے 18 ہوائی اڈوں کے درمیان مجموعی فضائی آمدورفت کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ انہی ہوائی اڈوں سے وابستہ ہے۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم نے کابینہ کے پروٹول کو کم کرنے کا حکم دے دیا

?️ 12 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کے ایک ذرائع نے

حماس غزہ جنگ کی فاتح

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں:جو بھی حماس کو تعزیت دے رہا ہے اسے 49 دن

شوکت ترین کو وزیراعظم کا مشیر مقرر کر دیا گیا

?️ 18 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) شوکت ترین کووزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا

اسرائیل کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد مذاکرات ممکن نہیں: حماس

?️ 12 مئی 2026 سچ خبریں:حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ کے میڈیا مشیر، طاہر

وزیر اعظم نے ایک اور یو ٹرن لیا

?️ 19 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ایک اور یور ٹرن لیا

ہم نے نئے خفیہ ہتھیار حاصل کر لیے ہیں: کیم جونگ اُن

?️ 22 ستمبر 2025سچ خبریں: شمالی کوریا کے رہنما کیم جونگ اُن نے اعلان کیا ہے

 وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو نے فوج کو بغاوت کے لئے بھیجا خفیہ پیغام

?️ 16 نومبر 2025 وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو نے فوج کو بغاوت کے

ٹیکس وصولی میں اضافہ مضبوط معیشت سے ہی ممکن ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف

?️ 2 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے