روس کی یوکرین میں جنگ بندی پر مشروط رضامندی

روس کی یوکرین میں جنگ بندی پر مشروط رضامندی

?️

سچ خبریں:روس نے یوکرین میں جنگ بندی کے بارے میں امریکہ کی تجویز پر مشروط رضامندی ظاہر کردی ہے۔  

الجزیرہ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو یوکرین میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی معاہدے کو طویل المدتی امن کی ضمانت فراہم کرنی ہوگی۔
پیوٹن نے زور دیا کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں یوکرین میں جنگ کے بنیادی اسباب کو مدنظر رکھنا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ صرف عارضی جنگ بندی سے کوئی دیرپا حل ممکن نہیں، بلکہ یہ صرف یوکرین کو فوجی بحالی کا موقع فراہم کرے گی۔
یوکرینی وفد اور امریکی نمائندوں نے 11 مارچ کو جدہ میں مذاکرات کیے، جس کے بعد یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا۔
بیان کے مطابق، مذاکرات میں فریقین نے یوکرین کے قدرتی وسائل کی ترقی کے لیے ایک جامع معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔
اہم نکات:
✔ کیف نے 30 دن کی جنگ بندی کی امریکی تجویز قبول کرنے کا عندیہ دیا۔
✔ واشنگٹن نے یوکرین کے لیے فوجی اور انٹیلی جنس معاونت کی بحالی کا وعدہ کیا۔
✔ روس کے لیے جنگ بندی کے معاہدے میں کوئی واضح فائدہ شامل نہیں۔
کریملن کے سینئر مشیر یوری یوشاکوف نے امریکی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
اس معاہدے میں روس کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ 30 روزہ جنگ بندی یوکرین کو سانس لینے اور فوج کو دوبارہ جمع کرنے کا موقع دے گی۔
خبر رساں ادارہ روئٹرز کے مطابق، روسی فوج نے 2024 کے وسط سے اب تک نمایاں پیش رفت کی ہے اور یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، ماسکو کے مطابق، یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی خواہش اس جنگ کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے جنگ بندی کی مشروط حمایت درحقیقت مغرب کے ساتھ سودے بازی کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔
روس کی کوشش ہوگی کہ جنگ بندی کے بدلے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو روکنے، پابندیاں ہٹانے اور دیگر سکیورٹی ضمانتوں کو شامل کرے۔
روس چاہتا ہے کہ اگر جنگ بندی ہو تو یہ عارضی نہ ہو بلکہ مستقل حل کا حصہ ہو، تاکہ مغربی حمایت یافتہ یوکرین کو مزید فوجی و اقتصادی فائدہ نہ پہنچ سکے۔

مشہور خبریں۔

یمن کے پانیوں میں جارح قوتوں کی کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار

?️ 5 جنوری 2022سچ خبریں: یمنی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف علی المشکی نے

امارات کے صدر کی جانب سے بشار اسد کو دبئی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید نے شام کے

تجارتی جنگ خود امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ ہے:چین

?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:چین کی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان میں امریکہ

شام کے بیت‌جن میں صیہونی فوجیوں کو شکست

?️ 30 نومبر 2025سچ خبریں:شام کے شہر بیت‌جن میں صہیونی فوجیوں کے ساتھ ہونے والی

سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی مرکزی ملزم قرار، چالان جمع

?️ 1 اکتوبر 2023سچی خبریں:(سچ خبریں) سائفر کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)

عراقی فوج کی داعش کے خلاف کاروائی

?️ 7 جنوری 2024سچ خبریں: عراقی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی تازہ کارروائی

ایران، روس اور چین کی مشترکہ فوجی مشقیں؛ تہران کی دفاعی طاقت عروج پر  

?️ 13 مارچ 2025 سچ خبریں:ایران، روس اور چین کی مشترکہ فوجی مشقوں کا واضح

ریاض میں دمشق کا سفارت خانہ دوبارہ کھلا

?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شام کا سفارت خانہ دوبارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے