میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور متعدد ہلاک ہوگئے

میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور متعدد ہلاک ہوگئے

?️

میانمار (سچ خبریں) میانمار میں باغی فوج کی حکومت کے خلاف شدید مظاہرے جاری ہیں اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور متعدد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں عوامی سطح پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے منظم مظاہروں کے لیے گلوبل میانمار اسپرنگ انقلاب کے نام سے تنظیم بنا لی ہے، تنظیم کا کہنا تھا کہ میانمار کے عوام کے اتحاد کی آواز سے دنیا کو ہلا دو۔

مظاہرین میں شامل بدھ بکشووں نے ملک بھر میں شہروں اور قصبوں کا رخ کیا جس میں تجارتی مرکز ینگون اور دوسرا بڑا شہر منڈالے بھی شامل ہے جہاں دو مظاہرین ہلاک ہوئے۔

مقامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ منڈالے میں سیکیورٹی افراد سادہ لباس میں اسلحے کے ساتھ موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر کے وسطی قصبے ویٹلیٹ میں دو افراد ہلاک ہوئے اور شان اسٹیٹ کے مختلف علاقوں میں مزید دو افراد ہلاک ہوئے، ایک شہری شمالی شہر ہپیکانٹ میں نشانہ بنا، میانمار کی فوجی حکومت نے ان واقعات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ حکومت پر فوج کے قبضے کے بعد شمال اور مغرب میں سرحدی علاقوں نسلی فسادات بھی پھوٹ پڑے ہیں، ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

میانمار کے متعدد علاقوں میں مسلح عوام اور فوج کے درمیان بھی جھڑپیں جاری ہیں اور حکومتی تنصیبات کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو راکٹ، دھماکوں اور چھوٹے اسلحے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، رپورٹ کے مطابق دھماکوں کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے تسلیم نہیں کی گئی۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ینگون میں قائم بیرک کے قریب تھانے پر دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں گاڑیوں کو آگ لگی تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، بعدازاں شہر کے ایک اور علاقے میں بھی دھماکے کی اطلاع ملی اور ریاست شان میں معروف کاروباری شخصیت کے گھر کے باہر دھماکا ہوا۔

سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 36 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 11 دھماکے ہوئے جن میں اکثر ینگون میں ہوئے۔

سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے حکومت پر قبضے کے بعد اب تک تقریباً 759 شہریوں کو قتل کیا۔

دوسری جانب فوجی حکومت نے تسلیم کیا تھا کہ اپریل کے وسط پر 248 مظاہرین ہلاک ہوئے جو کشیدگی پھیلانے میں ملوث تھے۔

اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کا کہنا تھا کہ مظاہروں اور سول نافرمانی کی تحریکوں سے میانمار کی معیشت کو بدترین نقصان پہنچ رہا ہے 2 کروڑ 50 لاکھ شہری غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔

فوجی حکومت کا کہنا تھا کہ شکایات موصول ہوئی تھیں کہ نومبر کے انتخابات میں آنگ سانگ سوچی کی جانب سے دھاندلی کی گئی ہے جس پر کوئی کام نہیں کیا گیا اور اسی وجہ سے حکومت کو گرادیا گیا۔

آنگ سانگ سوچی فروری کے شروع سے ہی زیرحراست ہیں اور 75 سالہ رہنما کے ہمراہ دیگر سیاسی رہنما بھی جیلوں میں ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایران کا بحری ناکہ بندی اٹھانے کا واضح مطالبہ: مرندی

?️ 21 اپریل 2026 سچ خبریں:محمد مرندی، ماہر امور اسٹریٹجک، نے المیادین نیوز نیٹ ورک

وزیراعظم کی وزیر ِمواصلات اوراین ایچ اے کو مبارکباد

?️ 6 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن سے

صیہونی حکومت کی مدد کا منصوبہ لغو

?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان یوکرین کو مزید امداد

ننکانہ صاحب واقعہ میں پولیس نے 60 افراد کو گرفتار کرلیا

?️ 13 فروری 2023ننکانہ صاحب: (سچ خبریں) ننکانہ صاحب پولیس  نے تھانے کے باہر ایک

خلیج فارس کے ممالک یوکرائن کے بحران میں ثالثی کے چکرمیں

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:یوکرین کا بحران 21ویں صدی کے اہم ترین جغرافیائی سیاسی واقعات

الیکشن کمیشن نے سندھ کے اعلی حکام کو طلب کر لیا

?️ 4 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ناکام بنگلہ دیشی دورہ

?️ 30 مارچ 2021(سچ خبریں) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بہت ہی خوشی اور کافی ساری

Miguel Delivers a Party for the End of the World on ‘War & Leisure’

?️ 15 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے