?️
کابل (سچ خبریں) افغانستان میں طالبان کے حملوں اور امریکا کی سازش کی وجہ سے ایک سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے جس کے مد نظر افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو تبدیل کردیا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ لڑائی میں تیزی سے اضافے پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدارتی محل کی جانب سے ان تبدیلیوں کا اعلان حالیہ ہفتوں میں ملک کے 34 میں سے 28 صوبوں میں طالبان کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کی لڑائی کے دوران زیر قبضہ علاقوں سے محرومی کے بعد کیا گیا ہے۔
افغان وزیر دفاع اسد اللہ خالد کو ہٹا کر ان کی جگہ بسم اللہ خان محمدی کو عبوری وزیر مقرر کیا گیا ہے، جو طویل علالت کے بعد حال میں وطن واپس لوٹے ہیں، اس کے علاوہ اشرف غنی نے حیات اللہ حیات کی جگہ عبدالستار مرزا کوال کو وزیر داخلہ مقرر کردیا ہے۔
نئے وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی سوویت یونین کے خلاف جنگ میں احمد شاہ مسعود کے سینئر کمانڈر تھے، وہ فوج سے متعلق وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں، اس کے علاوہ سابق صدر حامد کرزئی کی حکومت میں آرمی چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔
جنرل ولی محمد احمدزئی کو افغانستان کا نیا چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کیا گیا ہے، جو جنرل یاسین ضیا کی جگہ لیں گے۔
سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ دو روز قبل ہی شمالی صوبے فریاب میں طالبان کے ساتھ لڑائی میں افغان اسپیشل فورسز کے 24 ارکان ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز صوبے میں طالبان کی جانب سے قبضہ کیے گے اضلاع کو واپس لینے کے لیے کارروائی کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نے یکم مئی سے امریکی فوج کے انخلا کے آغاز سے اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے مہینہ بھر کی مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ امریکی فوج نے اپنی متعدد بیسز خالی کرکے افغان فوج کے حوالے کردی ہیں۔
امریکا نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک فوج کا انخلا مکمل ہوگا اور جب سے طالبان نے تقریباً 30 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ طالبان نے حالیہ ہفتوں میں شدید لڑائی کو پھیلا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں افغان سیکیورٹی فورسز اور عوام کا بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں 8 جون کو ہونے والے واقعات میں 150 افغان فوجی ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔
افغان حکومت کے سینئر عہدیداروں کے مطابق ملک کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہلاکتوں میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا گزشتہ برس طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیں واپس بلالے گا اور نئے امریکی صدر نے 11 ستمبر تک فوجی انخلا کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیاسی مذاکرات بھی طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے بھی دونوں فریقین ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
عمران خان، شاہ محمود قریشی کےخلاف سائفر کیس کی سماعت کرنے والے جج رخصت پر روانہ
?️ 4 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
ستمبر
فواد چوہدری اور کیوبا کے سفیر کے درمیان اہم ملاقات
?️ 10 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری اور کیوبا کے
ستمبر
شرمالشیخ اجلاس میں کیا ہوا؛امریکی اخبار کا انکشاف
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکی اخبار کے مطابق، شرمالشیخ اجلاس میں دستخط شدہ معاہدے میں
اکتوبر
یوم قدس، صہیونی ریاست کی دہشت گردی اور مسلم امہ کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت
?️ 7 مئی 2021(سچ خبریں) گزشتہ نصف صدی سے اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و
مئی
پاکستان کی ترقی کیلئے کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہوں، 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں گا، عمران خان
?️ 17 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
مارچ
فیض حمید کا ساتھ دینے والے سیاستدانوں کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہونا چاہئے۔ رانا ثناءاللہ
?️ 11 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے
دسمبر
جنوبی تھائی لینڈ میں لگاتار17 دھماکے
?️ 17 اگست 2022سچ خبریں:تھائی حکام نے اعلان کیا کہ جنوبی تھائی لینڈ میں کم
اگست
چاہتی ہوں کہ پوری دنیا میں امن قائم ہو: گوہر خان
?️ 23 اگست 2021ممبئی (سچ خبریں) بھارتی رئیلیٹی شو بگ باس کے سیزن 7 کی
اگست