ہماری حالت دن بدن بدتر ہوتے جا رہی ہے؛ صیہونی فوجی قیادت کا اعتراف

صیہونی فوج

?️

سچ خبریں:صیہونی فوج کے شعبۂ افرادی قوت کے سربراہ نے فوج کی خراب صورتحال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے جنگی معذوروں کے بڑھتے ہوئے مسائل کا انکشاف کیا ہے۔

صیہونی فوج کے شعبۂ افرادی قوت کے سربراہ نے فوج میں افرادی قلت، ذخیرہ فوجیوں پر بڑھتے انحصار اور جنگی معذوروں کے بڑھتے مسائل سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات روز بروز مزید خراب ہو رہے ہیں۔

صیہونی ٹیلی ویژن کے چینل 12 کے مطابق میجر جنرل دادو بار خلیفا نے کہا کہ صیہونی فوج شدید افرادی قلت کا شکار ہے اور اس وقت بڑی حد تک ذخیرہ فوجیوں پر انحصار کر رہی ہے۔ ان کے بقول اگر فوجی خدمت کی مدت میں کمی کی گئی تو یہ بحران کئی گنا بڑھ جائے گا۔

انہوں نے ایک سماجی رابطے کے ذریعے چینل 12 کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ خدشہ موجود ہے کہ موجودہ خطرات اور چیلنجوں کے مقابلے میں صیہونی فوج کا حجم ناکافی ہے۔

چینل 12 کے نامہ نگار نے اس اعلیٰ فوجی افسر سے سوال کیا کہ اسرائیل تقریباً تین برس سے جنگ کی حالت میں ہے اور اس دوران ذخیرہ فوجیوں نے سیکڑوں دن محاذوں پر گزارے، اپنے خاندان، ملازمت اور ذاتی زندگی کو ترک کیا، آپ ان سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟

اس کے جواب میں دادو بار خلیفا نے کہا کہ ہم ذخیرہ فوجیوں کے بے حد مقروض ہیں اور انہیں صیہونی فوج کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہ آیا صیہونی فوج ان کی خدمات کا مناسب جواب دے سکی ہے، صہیونی جنرل نے کہا کہ موجودہ جنگ اسرائیل کی تاریخ میں بے مثال ہے اور ان پر خرچ ہونے والا ہر شیکل ضروری اور اہم تھا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ دیگر مسائل بھی فوج پر بوجھ بن رہے ہیں اور مستقبل میں یہ بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ ان مسائل میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر معذور ہونے والے فوجیوں کی دیکھ بھال اور ان کی خدمت کا مسئلہ بھی شامل ہے، جس کے لیے فوج شدید کوششیں کر رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کتنے ذخیرہ فوجی دوبارہ طلبی کے احکامات کی نافرمانی پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے واضح تعداد بتانے سے گریز کیا۔

صہیونی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال چیلنجوں سے بھری ہوئی ہے اور ان میں ایک اہم مسئلہ فوجیوں کے خاندان ہیں۔

نامہ نگار کی جانب سے دوبارہ تعداد پوچھنے پر بھی انہوں نے کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے، تاہم کہا کہ یقیناً کچھ افراد اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران ذخیرہ فوجیوں کی طلبی میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کو کم از کم بارہ ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے، جن میں تقریباً سات ہزار میدان جنگ سے متعلق فوجی شامل ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خلا مزید بڑھ سکتا ہے۔

دادو بار خلیفا نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار ان حالات کی عکاسی کرتے ہیں جو روز بروز مزید خراب ہو رہے ہیں، اور اگر موجودہ فیصلوں کے مطابق فوجی خدمت کی مدت میں کمی کی گئی تو یہ مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔

مشہور خبریں۔

ہم افغانستان کی حکومت کیساتھ تعاون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں: بابر افتخار

?️ 27 اگست 2021  راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار

بھارت کے ساتھ کشیدگی میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ اسحاق ڈار

?️ 15 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ

پیپلز پارٹی کا حکومتی یقین دہانیوں کی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار

?️ 21 دسمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) وفاق میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز

وزیر اعظم کی رہائش گاہ کو عیدمیلادالنبیؐ کے لئے سجا دیا گیا

?️ 16 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان بھر میں عید میلاد النبی کی تیاریاں ہو

‘Cobra Kai’ Season 2 is a Fun, Tragic Journey That Leaves You Wanting More

?️ 9 ستمبر 2022 When we get out of the glass bottle of our ego

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،  ٹرانسپورٹ کرایوں میں من مانی شروع

?️ 8 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں

45 ہزار میٹرک ٹن چینی خریداری کا ٹینڈر جاری، 141 روپے 20 پیسے فی کلو کی پیشکش موصول

?️ 6 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے 45 ہزار میٹرک ٹن

وینزویلا اور کولمبیا آپس میں فوجی تعلقات قائم کرنے کے خواہاں

?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:    وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو نے کل منگل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے