?️
سچ خبریں:حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ کوئی بھی طاقت فلسطینی عوام کے قانونی اور جائز ہتھیار چھیننے کی جرات نہیں کر سکتی۔
حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی طاقت فلسطینی عوام کے ہتھیار نہیں چھین سکتی کیونکہ یہ ہتھیار حالتِ اشغال میں ایک قانونی اور جائز آپشن ہیں۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ہم ثالثوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی رہنماؤں کی رہائی ممکن ہو۔
یہ بھی پڑھیں:حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات غیر منطقی ہے، غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی کریں گے
الجزیرہ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل آئندہ پیر سے شروع ہونے کا امکان ہے، ان کے مطابق، مروان برغوثی، احمد سعدات اور عباس السید ان ممتاز فلسطینی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں اسرائیلی قابض فورسز آزاد کرنے سے انکار کر رہی ہیں۔
ابو مرزوق نے مزید کہا کہ ہم ابھی پہلے مرحلے میں ہیں، جو جنگ کے خاتمے اور غزہ میں امداد کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے۔ اگلا مرحلہ قومی منصوبے اور غزہ و مغربی کنارے میں امن فورسز کی ممکنہ موجودگی سے متعلق ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قابض حکومت پیچھے ہٹ کر زرد لائن تک چلی گئی ہے، لیکن اب بھی 53 فیصد غزہ پٹی پر قابض ہے۔ ہم مستقبل میں ان کے قبضے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔
فیلادلفیا محور پر اسرائیلی افواج کی موجودگی غزہ کو اندرونی طور پر تنہا کر دیتی ہے۔ انخلا کی جو لائنیں قابضوں نے بنائی ہیں وہ نہ درست ہیں نہ منظم۔ امریکہ نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے فوجی بھیجے ہیں، لیکن یہ فوجی غزہ کے اندر نہیں بلکہ اسرائیل کے اندر تعینات ہوں گے۔
اس سینئر رہنما نے کہا کہ فلسطینی عوام کو نسل کشی کی پالیسی کے مقابلے میں حقیقی حمایت کی ضرورت ہے۔ نیتن یاہو کے یہ بیانات کہ حماس کی عسکری صلاحیتیں ختم کر دی گئی ہیں، صرف اندرونی سیاسی استعمال کے لیے ہیں، کوئی بھی فلسطینی عوام کے ہتھیار چھیننے کی جرات نہیں رکھتا، کیونکہ یہ قبضہ کے خلاف قانونی اور جائز دفاعی حق ہے۔
ابو مرزوق نے مزید کہا کہ قابض فورسز نے دانستہ طور پر اور وحشیانہ انداز میں پورے غزہ کو تباہ کیا، مگر فلسطینی عوام کے صبر و استقامت نے ان کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ آج شمالی غزہ میں عوام کی واپسی کا منظر اس بات کی سب سے بڑی گواہی ہے کہ فلسطینی اپنی سرزمین کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مذاکرات کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ قیدیوں کا مسئلہ ان بہانوں میں سے ایک ہے جسے نیتن یاہو جنگ جاری رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے لیکن اب امریکی عوام بھی نیتن یاہو یا امریکی پالیسی کے ساتھ نہیں ہیں، اور خود واشنگٹن بھی جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
ابو مرزوق نے مزید کہا کہ ہماری جنگ بندی کے بدلے قیدیوں کی رہائی پر آمادگی نے نتنیاہو کے لیے جنگ دوبارہ شروع کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
حماس کے اس سیاسی رہنما نے واضح کیا کہ حماس اکیلے فلسطینی قوم کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرے گی، یہ فیصلہ سب کے اجتماعی اتفاق سے ہوگا۔ ٹرمپ منصوبے اور جنگ بندی کی ہماری مشروط قبولیت، صرف فلسطینی عوام کے اعلیٰ ترین مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔
موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ فلسطینی عوام کا اپنے جائز حق کے دفاع میں فطری ردعمل تھا، اس جنگ کے بعد حماس عالمی ضمیر میں ایک حقیقت کے طور پر ابھری ہے، اور اس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ حماس ایک تنظیم نہیں، بلکہ ایک نظریہ اور قومی منصوبہ ہے، جسے خود فلسطینی عوام کی حمایت حاصل ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا منصوبہ اور نیتن یاہو کی تقریر؛ قبضے کو مضبوط کرنے اور مزاحمت کو ختم کرنے کی سازش
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتفاق ہی فلسطینی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے، ہم فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک جامع قومی اجلاس بلائے تاکہ بنیادی فلسطینی مسائل پر قومی اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں 80 سالہ فلسطینی کی شہادت
?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں: شمالی رام اللہ کے گاؤں جلجلیہ میں رہنے والے 80
جنوری
ایران کے ساتھ جنگ اسرائیل کی سب سے پیچیدہ جنگوں میں سے ایک
?️ 21 جون 2025سچ خبریں: صہیونی ریگیم کے فوجی ترجمان نے اعتراف کیا کہ ایران
جون
صحت انصاف کارڈ کے نظام کی مزید بہتری کے لئے وزیراعظم کا اہم فیصلہ
?️ 4 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے صحت انصاف کارڈ کے
ستمبر
AI بنا امریکی حکام کے کے لیے درد سر
?️ 12 جولائی 2025 سچ خبریں:ایک نامعلوم شخص نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے
جولائی
اردن میں صیہونی حکومت کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی ریلی
?️ 12 مئی 2022سچ خبریں: اردن کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے گذشتہ شب
مئی
ٹرمپ کا دو بڑے امریکی نیوز چینلز کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ
?️ 25 اگست 2025ٹرمپ کا دو بڑے امریکی نیوز چینلز کے لائسنس منسوخ کرنے کا
اگست
امریکہ کی قدیم یونیورسٹی بھی غزہ کی حامی تحریک میں شامل
?️ 29 اپریل 2024سچ خبریں: امریکہ کی ایک پرانی یونیورسٹی بھی غزہ کی حمایت میں
اپریل
حکومت نے سکھ یاتریوں کو کرتار پور آنے کی اجازت دے دی
?️ 22 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی و سی)
اگست