غزہ کو تقسیم کرنے کا نیا امریکی منصوبہ

غزہ کو تقسیم کرنے کا نیا امریکی منصوبہ

?️

سچ خبریں:امریکہ نے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر غور شروع کیا ہے، جس میں ایک حصہ صیہونی فوج کے کنٹرول میں اور دوسرا فلسطینیوں کے لیے ویران چھوڑا جائے گا،یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی ناکام پالیسیوں کا عکاس ہے۔

گارڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس نے ایسے اسناد تک رسائی حاصل کی ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی فوج غزہ کو دو علاقوں سبز اور سرخ میں تقسیم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کب ہوگی؟ قطر سے عرب ممالک کے لیے ٹرمپ کا اہم پیغام

اس منصوبے کے تحت، سبز علاقے میں صرف صیہونی فوج اور بین الاقوامی فوجی استحکام فورسز کی موجودگی ہوگی، اور وہاں کی تعمیر نو کی جائے گی۔

اس کے برعکس، سرخ علاقے کو مکمل طور پر تباہ شدہ حالت میں چھوڑ دیا جائے گا، جہاں زیادہ تر فلسطینی جنگ کے دوران پناہ گزین ہوئے ہیں۔

اس منصوبے کی تفصیلات کے مطابق، بین الاقوامی فوجی استحکام فورسز غزہ کے مشرقی حصے میں صیہونی فوج کے ساتھ مل کر تعینات ہوں گی اور اس علاقے کو پیلی لائن کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا جو اب صیہونی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

 ایک امریکی اہلکار نے گارڈین کو بتایا کہ ان منصوبوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جو اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر اس پیچیدہ تنازعہ کے حل کے لیے ایک غیر واضح اور غیر متعین حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

امریکی فوج کی طرف سے غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے گئے تھے، جن میں فلسطینیوں کے لیے محصور کیمپ بنانے کے منصوبے شامل تھے، تاہم ان منصوبوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

 اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی فوجی فورسز کے لیے کوئی عملی منصوبہ فراہم نہ کیا گیا تو اس تنازعے کا حل ناکامی کا شکار ہو جائے گا۔

گارڈین کے مطابق، امریکی فوج کے حکام نے یورپی ممالک جیسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے غزہ میں اپنے فوجی بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم یورپی حکام کی جانب سے اس تجویز کو وہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طویل عرصے کے بعد عراق اور افغانستان میں فوجی مشنوں کے تجربات نے یورپی رہنماؤں کو غزہ میں امریکی منصوبے کے لیے اپنی فوجی نفری بھیجنے سے روک دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت، امریکی فوج صرف سبز علاقے میں فوجیوں کو تعینات کرے گی اور بعد ازاں تعداد کو بڑھا کر 20000 تک پہنچانے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم، اس منصوبے پر فلسطینیوں اور عالمی ماہرین نے تنقید کی ہے اور اسے امریکہ کی ماضی کی ناکام پالیسیوں کی عکاسی قرار دیا ہے، خصوصاً عراق اور افغانستان میں کیے گئے غیر موثر اقدامات کے تناظر میں۔

مزید پڑھیں:امریکہ کی غزہ کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش

غزہ کی تعمیر نو کی ضرورت فوری طور پر شدت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق 80 فیصد سے زائد عمارات، بشمول تمام اسکول اور ہسپتال، جنگ کے دوران تباہ ہو چکے ہیں،اس کے باوجود اسرائیل نے امدادی سامان کی فراہمی پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا حزب اللہ بھی طوفان الاقصی میں شامل ہو چکی ہے؟

?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں: حزب اللہ کی طرف سے غزہ کی پٹی پر صیہونی

سود کی ادائیگیوں میں 64 فیصد اضافہ ہوا، رپورٹ میں انکشاف

?️ 27 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں برس پاکستان کی قرضوں پر سود کی

سائنس دانوں نے انسانی خلیے سے ننھے روبوٹ تیار کرلیے

?️ 2 دسمبر 2023سچ خبریں: امریکی ماہرین نے طویل تحقیق اور محنت کے بعد انسان

وفاقی حکومت کا 28 مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان

?️ 20 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے 28 مئی کو یوم تکبیر

بیروت دھماکے کی تباہی کے 5 سال بعد؛ ایک زخم جو کبھی بھر نہیں سکا 

?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: 5 سال گزر جانے کے بعد بھی بیروت بندرگاہ کے خوفناک

فلسطینی مزاحمتی تحریک کا صیہونی وزیر اعظم کو دندان شکن جواب

?️ 21 جون 2021سچ خبریں:فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سینئر ممبر نے فلسطینیوں

بھارتی حکام نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیئے ایک اور ظالمانہ قدم اٹھالیا

?️ 2 اگست 2021سرینگر (سچ خبریں)  بھارتی حکومت کی جانب سے آئے دن کشمیریوں کی

جموں کشمیر میں موسلا دھار بارش، ریڈ الرٹ جاری۔

?️ 26 اگست 2025 جموں: (سچ خبریں) جموں و کشمیر میں گتزشتہ روز دوسرے دن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے