میانمار کی باغی فوج نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کو عدالت میں پیش کردیا

میانمار کی باغی فوج نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کو عدالت میں پیش کردیا

?️

میانمار (سچ خبریں)  میانمار کی باغی فوج کی جانب سے معزول کی جانے والی رہنما آنگ سان سوچی کو عدالت میں پیش کردیا گیا جہاں انہوں نے اپنے وکلا سے ملاقات کے دوران عوام کی بہتری کی خواہش کی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وکیل تھا مونگ نے بتایا کہ سوچی کی صحت اچھی تھی اور سماعت سے آدھا گھنٹہ قبل انہوں نے اپنی قانونی ٹیم سے دوبدو ملاقات کی۔

جمہوریت کے قیام کی کوششوں کے لیے 1991 میں امن کا نوبیل انعام جیتنے والی 75 سالہ آنگ سان سوچی فوجی بغاوت کے بعد دیگر چار ہزار سے زائد افراد کے ہمراہ زیر حراست ہیں، انہیں غیرقانونی طور پر واکی ٹاکی ریڈیو ساتھ رکھنے سے لے کر ریاستی خفیہ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

معزول رہنما نے اپنے وکلا سے ملاقات میں لوگوں کی بہتری کی خواہش ظاہر کی اور اپنی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کا بھی حوالہ دیا جسے جلد ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے۔

تھا مونگ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی لوگوں کے لیے قائم کی گئی ہے لہٰذا جب تک عوام ہوں گے، اس وقت تک پارٹی موجود ہوگی۔

میڈیا رپورٹس میں الیکشن کمشنر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ میانمار کی جنتا (فوج) کی جانب سے مقرر کردہ انتخابی کمیشن نومبر کے انتخابات میں سوچی کی سیاسی جماعت کو ووٹوں میں مبینہ جعلسازی کے الزام میں تحلیل کردے گا اور الیکشن کمشنر نے غداروں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

فوج نے نومبر میں سوچی کی پارٹی کے جانب سے جیتے گئے انتخابات میں دھوکا دہی کے الزامات عائد کر کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا البتہ سابقہ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

بغاوت کے بعد غیر ملکی میڈیا کو اپنے پہلے انٹرویو میں جنتا کے رہنما من آنگ ہیلنگ نے یہ بھی کہا تھا کہ سوچی کی طبیعت ٹھیک ہے البتہ انہوں نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پر سوالات اٹھاتے ہوئے اعدادوشمار کو متنازع قرار دیا تھا۔

سیاسی قیدیوں کی مقامی سماجی تنظیم کے مطابق فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد سے ہی ملک بھر میں جنتا کے خلاف یومیہ احتجاج، مارچ اور ہڑتالیں کی گئیں اور فوج کی جانب سے ان مظاہروں کا طاقت سے جواب دیا گیا جس کے نتیجے میں 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، تاہم 20 مئی کو کیے گئے انٹرویو میں من آنگ ہیلنگ نے کہا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد 300 کے قریب تھی اور اس دوران 47 پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

مشہور خبریں۔

انصاراللہ کی نظر میں صیہونی دفاعی نظام

?️ 3 جنوری 2025سچ خبریں:انصاراللہ یمن کے ذرائع نے صیہونی دفاعی نظام کی ناکامی پر

ورلڈ کپ 2022 میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان سخت جنگ

?️ 23 نومبر 2022سچ خبریں:قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کا ایک پہلو فلسطینیوں اور

کچھ شہید اسماعیل ہنیہ کے بارے میں

?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ

ایس ای او کانفرنس: چینی وزیراعظم لی چیانگ پاکستان پہنچ گئے

?️ 14 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چین کے وزیراعظم لی چیانگ 4 روزہ دورے

ترکی اور مصر کے صدور کا صیہونی جرائم کے خلاف مشترکہ بیان

?️ 5 ستمبر 2024سچ خبریں: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، جو ایک تاریخی دورے پر

عمران خان نے نااہلی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

?️ 22 اکتوبر 2022 اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف

وزیردفاع خواجہ آصف کی عمران خان پر تنقید، قومی و عالمی مسائل پر خاموشی پر سوالات اٹھا دیے

?️ 11 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام

شام میں صہیونی افسر کی نگرانی دہشت گرد عناصر کی تربیت

?️ 3 اکتوبر 2026سچ خبریں:ایک فلسطینی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے صوبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے