یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک صیہونی بستیوں پر تجارتی پابندیوں کے حامی

یورپی یونین

?️

سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ بیشتر رکن ممالک مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں درآمدی پابندیوں، محصولات اور برآمدی پابندیوں سمیت مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی حکومت کی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی، محصولات کے نفاذ اور برآمدی پابندیوں سمیت مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق کایا کالاس نے بتایا کہ رکن ممالک کے سفیروں کو اس معاملے پر پیش رفت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے ایک غیر معمولی اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یورپی کمیشن نے یورپی کونسل کی درخواست پر صیہونی بستیوں کے خلاف تجارتی پابندیاں سخت کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔

کالاس نے کہا کہ صیہونی بستیوں کے ساتھ تجارت کے خلاف کارروائی کو رکن ممالک کی سب سے زیادہ حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفیروں کو اس معاملے پر کام آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے اور ممکنہ طور پر اس حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات خود صہیونی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ صرف ان غیر قانونی بستیوں کے خلاف ہیں جو دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کر رہی ہیں۔

کایا کالاس کے مطابق یورپی کمیشن کی تجاویز میں صیہونی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی مکمل یا جزوی درآمد پر پابندی، برآمدی اجازت ناموں کے اجرا کے لیے سخت شرائط اور ممکنہ طور پر کسٹم محصولات کے نفاذ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے تحت صیہونی بستیاں غیر قانونی ہیں۔ ان کے مطابق بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات کو دیگر صیہونی مصنوعات سے الگ رکھنے کی موجودہ پالیسی مختلف ممالک میں غیر یکساں انداز میں نافذ ہونے کے باعث تجارتی تبادلوں میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

کایا کالاس نے یہ بھی بتایا کہ ایک قانونی رائے کے مطابق ان اقدامات کی منظوری یورپی یونین کے رکن ممالک کی اہل اکثریت کے ووٹ سے بھی دی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ صیہونی بستیوں سے درآمدات محدود کرنے کے معاملے پر یورپی یونین کے وزرا کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپی کمیشن اور بعض رکن ممالک کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے کے لیے تمام رکن ممالک کا متفقہ فیصلہ ضروری ہوگا، جبکہ بعض دیگر رکن ممالک اور یورپی یونین کونسل کے قانونی شعبے کا خیال ہے کہ کم از کم 15 رکن ممالک کی حمایت، جو یورپی یونین کی کم از کم 65 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہوں، اس فیصلے کی منظوری کے لیے کافی ہوگی۔

صہیونی حکومت کے وزیر خارجہ گیدعون سعر نے کایا کالاس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی چالوں کے ذریعے صیہونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی کی منظوری دلوانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسرائیل اور یورپ کے تعلقات مکالمے اور انصاف پر مبنی ہونے چاہییں۔

کایا کالاس نے اس سے قبل اسی روز کسی ایک تجویز کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ اہم نہیں کہ کون سا اختیار منتخب کیا جاتا ہے، بلکہ ان کا مقصد یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ہونے والی بحث نے ایک بار پھر فلسطین اور اسرائیل تنازع کے حوالے سے یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان موجود دیرینہ اختلافات کو نمایاں کر دیا۔

اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلباریس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید تاخیر یا وقت ضائع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ صیہونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

اس کے برعکس جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈفول نے کہا کہ یورپی یونین کو اپنی توجہ صہیونی حکومت کو پرتشدد آبادکاروں کے خلاف مؤثر اقدامات پر مجبور کرنے پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وہ مشترکہ مؤقف ہے جس پر یورپی یونین کے تمام رکن ممالک متفق ہیں۔

مشہور خبریں۔

ظالم کی بھی حمایت، مظلوم کا ساتھ بھی،سویڈن حکام کی دوہری پالیسی

?️ 3 جولائی 2023سچ خبریں:ایک تاخیری اقدام میں سویڈن کی حکومت نے اس ملک میں

نیتن یاہو کی ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں دوبارہ الفاظی

?️ 10 مئی 2026سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو فوجی کارروائی

ایران کے خلاف جنگ کے اثرات؛ وسطی ایشیا میں خلیج فارس کے ممالک کی سرمایہ کاری کا مبهم مستقبل

?️ 10 مئی 2026سچ خبریں: صیہونی حملے اور آبنائے ہرمز میں خلل نے خلیج فارس

ریاض نے 8 یمنی افراد اور 11 اداروں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا

?️ 15 جون 2022سچ خبریں:   سعودی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے منگل کے روز دعویٰ کیا

کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود میچ شیڈول کے مطابق: پی ایس ایل

?️ 2 مارچ 2021کراچی {سچ خبریں}  پاکستان میں چل رہے پی ایس ایل کے سبھی

اسرائیل خطے میں امریکہ کا نہ ڈوبنے والا طیارہ 

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور درمر نے امریکہ

جنین میں صہیونی فوج کی وسیع پیمانے پر کارروائی، فلسطینی عمارتیں مسمار، جبری بے دخلی کے خدشات

?️ 15 جون 2026سچ خبریں:صہیونی حکومت کی افواج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں

امریکی جوہری آبدوزیں مطلوبہ مقام پر پہنچیں: ٹرمپ

?️ 4 اگست 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ، صدر امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے