جاپان کا سی آئی اے طرز کی انٹیلی جنس ایجنسی بنانے کا فیصلہ

جاپان

?️

سچ خبریں:جاپان دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد پہلی بار ایک مرکزی انٹیلی جنس ادارہ قائم کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹوکیو نے اپنے مغربی اتحادیوں سے تعاون طلب کیا ہے۔

جاپان دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ مغربی اتحادیوں کے تعاون سے ایک مرکزی انٹیلی جنس ادارہ قائم کرنے جا رہا ہے، جس کا مقصد چین اور روس سمیت بڑھتے ہوئے بیرونی خطرات، جاسوسی اور سائبر حملوں کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے جاپانی اور دیگر ممالک کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ جاپانی قیادت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ نئی انٹیلی جنس ایجنسی کی ٹیکنالوجی، افرادی قوت کی بھرتی، تنظیمی ڈھانچے اور ترجیحات کے حوالے سے نجی سطح پر مشاورت کی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے دعوے کے مطابق حالیہ برسوں میں درجنوں روسی جاسوس جاپان پہنچے ہیں۔ اسی دوران جاپان کریملن کی جانب سے اسلحہ سازی کے پرزہ جات کی خریداری، انہیں روس منتقل کرنے اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی حکام متعدد بار جاپان کو ان سرگرمیوں کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں، تاہم ٹوکیو نے ان انتباہات پر نسبتاً سست ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاپان کا انٹیلی جنس نظام کئی دہائیوں سے منتشر اور مختلف اداروں میں تقسیم رہا ہے، جہاں دفاعی حکام، سفارت کار، پولیس اور دیگر ادارے الگ الگ معلومات جمع اور تجزیہ کرتے ہیں، جبکہ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کا مؤثر تبادلہ نہیں ہو پاتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی کمزوری نے جاپان کو بالخصوص جاسوسی اور بیرونی مداخلت کے خطرات کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی، جو سخت گیر سیاسی مؤقف کے لیے جانی جاتی ہیں، اس سے قبل اسلحے کی برآمد پر عائد پابندی ختم کر چکی ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کا سب سے بڑا منصوبہ بھی آگے بڑھا چکی ہیں۔ اب وہ حکومتی راز، حساس ٹیکنالوجی اور بیرونی دراندازی، خصوصاً چین کی جانب سے ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی حامی ہیں۔

تاہم جاپان میں بعض قانون سازوں اور سماجی کارکنوں نے اس مجوزہ ادارے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے پر مؤثر نگرانی موجود نہیں ہوگی اور یہ جاپان کے امن پسند نظریات سے متصادم ہو سکتا ہے۔

ان ناقدین کے مطابق جاپانی سلطنت کے دور کی تلخ یادیں آج بھی عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں، جب توکو نامی خفیہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارہ دوسری جنگ عظیم سے قبل حکومت کے مخالفین کو نشانہ بنایا کرتا تھا۔

اس کے برعکس تاکائیچی اور ان کے حامی اس نئی ایجنسی کا دفاع کر رہے ہیں، جسے جاپان کے سکیورٹی نظام میں مجوزہ اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ جاسوسی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانے اور امریکہ کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کی طرز پر ایک آزاد بیرونی انٹیلی جنس ادارہ قائم کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق جاپان دنیا کی چند بڑی طاقتوں میں شامل ہے جس کے پاس اب تک ایسا کوئی مرکزی بیرونی انٹیلی جنس ادارہ موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 407 ملین ڈالر کے بجٹ سے قائم ہونے والا یہ ادارہ دسمبر تک اپنی سرگرمیاں شروع کرے گا اور ابتدائی مرحلے میں سیکڑوں افراد، جن میں سافٹ ویئر انجینئرز، سائبر سکیورٹی تجزیہ کار اور غیر ملکی اداروں سے رابطہ رکھنے والے افسران شامل ہوں گے، بھرتی کیے جائیں گے۔

یہ ادارہ جاپان میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے مرکزی مرکز کے طور پر کام کرے گا اور حکومت کے مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے والے تقریباً 33 ہزار انٹیلی جنس اہلکاروں کی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ ان اہلکاروں کا تعلق پولیس، وزارت دفاع اور وزارت خارجہ سمیت مختلف سرکاری اداروں سے ہوگا۔

تاکائیچی کی مجوزہ اصلاحات کے تحت جاپان ایک آزاد انٹیلی جنس کونسل بھی قائم کرے گا، جو مرکزی کمان کے طور پر کام کرے گی اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم کریں گی۔

نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق جاپان کے انٹیلی جنس نظام کے مسائل دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوئے، جب امریکہ کی قیادت میں جاپان پر قبضے کے دوران اس کے سکیورٹی ڈھانچے کو ختم کر دیا گیا اور ٹوکیو بیرونی انٹیلی جنس کے لیے واشنگٹن پر انحصار کرنے لگا۔ بعد کی دہائیوں میں جاپان کو جاسوسوں کی جنت بھی کہا جاتا رہا، جہاں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار نسبتاً آسانی سے سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاکائیچی کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا وہ جاپان کی بیوروکریسی میں موجود رکاوٹوں کو دور کر پاتی ہیں یا نہیں، اور کیا مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کو معلومات جمع کرنے اور ان کے تجزیے کے عمل میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔

مشہور خبریں۔

بیلجیئم کا اسرائیل کے خلاف بیان

?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں: بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم نے آج کہا کہ اسرائیل

امریکی طلباء کا اتنا شدید احتجاج کیوں؟

?️ 1 مئی 2024سچ خبریں: امریکی یونیورسٹیوں میں پولیس کا تشدد برداشت کرنے والے طلباء

جولانی اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان خفیہ معاہدوں پر وارننگ

?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: امنیاتی امور کے ماہر عبدالکریم خلف نے متنبہ کیا ہے کہ

شام کی فتویٰ کونسل: صہیونی دشمن سے مدد طلب کرنا حرام ہے

?️ 20 جولائی 2025سچ خبریں: شام کی موجودہ پیش رفت اور صیہونی حکومت کی جارحیت

امریکہ اور چین کی جنگ دنیا کو تباہ کر دے گی:کسنجر

?️ 21 اگست 2022سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر

100پونڈ وزن اٹھا کر2گھنٹے مسلسل پرواز کرنے والا ڈرون

?️ 29 جنوری 2022کیلیفورنیا(سچ خبریں) امریکی کمپنی فائر فلائی نے ڈرون کا  ایک ایسا نیا

کسی ٹارگٹ کو نشانہ نہیں بنایا، بھارت سکھوں، کشمیریوں کی ہمدردی چاہتا ہے۔ عطا تارڑ

?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے نے کہا

سید علی گیلانی کا خواب اور ان کا مشن زندہ رہے گا

?️ 2 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے