?️
سچ خبریں:طوفان الاقصی کے بعد گزشتہ ایک سال میں صہیونی ریاست کو جرات مندانہ فلسطینی مزاحمت اور حماس کے جوابی حملوں سے بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔
طوفان الاقصی کے بعد صیہونی ریاست کو ہونے والے نقصانات
غزہ پر اسرائیلی مظالم اور مسجد اقصی کی بے حرمتی کے جواب میں طوفان الاقصی کا آپریشن شروع کیا گیا، جس کے اسرائیل کو سنگین نتائج بھگتنا پڑے۔
حماس کی جانب سے جدید سرنگوں اور بہترین جنگی تیاری نے اسرائیلی حکام کو غافل کر دیا، اس وقت حماس بہترین جنگی تیاری میں تھی اور 7 اکتوبر کو آپریشن کا آغاز ہوا۔
ایک سال گزرنے کے بعد، اس آپریشن کے نتیجے میں، عظیم شخصیات جیسے اسماعیل ہنیہ، سید حسن نصراللہ، یحییٰ السنوار اور ایرانی، لبنانی اور فلسطینی کمانڈرز جیسے جنرل نیلفروشان اور جنرل زاہدی کی شہادت کے باوجود، جو چیز واضح طور پر سامنے آئی ہے وہ اسرائیلی جعلی ریاست کا ستر سال پیچھے جانا اور اپنی بقا کے لیے دوبارہ تنازعات اور جنگ کا آغاز ہے۔
طوفان الاقصی کا مزاحمتی محاذ پر اثر
1. مزاحمتی کمانڈروں کا قتل اور فلسطینی عوام کا نقصان
2. غزہ، لبنان، مغربی پٹی میں انفراسٹرکچر کی تباہی
3. ہزاروں فلسطینیوں کا قتل اور ان کی املاک کا نقصان
4. غزہ میں اسپتالوں پر حملے اور طبی عملے کا قتل عام
اسرائیل کے نقصانات
1. ایران، حزب اللہ، اور عراق سے اسرائیلی مراکز پر حملے
2. سیاحت کے شعبے میں اربوں ڈالر کا نقصان
3. شمالی علاقوں سے آبادی کا فرار اور یہودی بستیوں کا خالی ہونا
4. موساد اور سکیورٹی ادارے 8200 میں بڑی ناکامیاں
5. اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران دیگر ممالک کا اجلاس سے باہر نکلنا۔
6. دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاجات اور غیر مسلموں میں اسلام اور قرآن کی مقبولیت میں اضافہ۔
7. صہیونی ریاست میں سیاسی انتشار اور عوامی مایوسی
8. ایران کے حملے سے 500 ملین ڈالر مالیت کا ریڈار نظام متاثر ہونا
خلاصہ
طوفان الاقصی نے اسرائیل کی طاقت اور استحکام کو ہلا کر رکھ دیااسرائیل کی ان کوششوں کے باوجود، وہ فلسطینی مزاحمت کے حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہا۔
طوفان الاقصی کی جنگ میں اسرائیلی ریاست نے اپنی مشروعیت کھو دی
اسرائیلی ریاست کی بچوں کے خلاف جنگ اور فلسطینیوں پر ظلم نے دنیا بھر کی نوجوان نسل میں اسرائیل کے وحشیانہ چہرے کو بے نقاب کیا۔
نوجوانوں نے عالمی سطح پر ریلیاں نکال کر اسرائیلی بربریت کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ بہت سے غیر مسلم نوجوانوں نے اسلام قبول کیا اور قرآن پڑھنے اور اس کی تحقیق میں دلچسپی ظاہر کی، اس جنگ نے ایران، حزب اللہ، یمن، عراق اور حتیٰ کہ بحرین کی مزاحمت کو عالمی سطح پر مقبولیت دلائی۔
ایران نے اس جنگ کے دوران امریکہ کی اضطراری حکمت عملی، عرب ممالک کے کردار اور اسرائیلی اسلحے کی صلاحیتوں کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اس دوران خلیج فارس کے بعض ممالک نے بھی ایران کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کی حقیقت کا ادراک کیا۔
اس مزاحمت کا آخری فیصلہ اس وقت ہوا جب رہبر انقلاب نے جمعہ نصر میں نماز جمعہ کا خطبہ دیا، جبکہ دوسری جانب نیتن یاہو ایران کے حملے کے خوف سے زیرزمین چھپے ہوئے تھے۔


مشہور خبریں۔
پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، چیف جسٹس
?️ 23 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریکوڈک منصوبے سے
نومبر
صنعا پر سعودی اتحاد کے حملوں میں انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی
?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں: یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا
دسمبر
صیہونی کمپنیوں پر کیا بیتی؟
?️ 12 ستمبر 2023سچ خبریں: صیہونی خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ہیکرز
ستمبر
ایران اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی منظوری جلد متوقع
?️ 1 نومبر 2025 ایران اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی منظوری جلد متوقع
نومبر
بھارت روس سے تیل نہ خریدنے پر رضامند
?️ 3 فروری 2026 سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پیر کو اپنے
فروری
جہاں ضروری ہوا وہاں ڈیم بنائیں گے، علی امین گنڈاپور
?️ 28 اگست 2025پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ
اگست
امن کونسل ایک مضحکہ خیز ڈرامہ ہے جو اسرائیل کی نسل کشی کشی کو روکنے میں ناکام ہے: اسلامی جہاد
?️ 25 فروری 2026 سچ خبریں: تحریک اسلامی جہاد فلسطین کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الہندی
فروری
ہماری مخصوص نشستوں پر کسی اور کو ناجائز طور پر حلف لینے نہیں دیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
?️ 2 اپریل 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ
اپریل