سعودی عرب کے تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں پر اسرائیل کا خیر مقدم

سعودی عرب

?️

سچ خبریں:سعودی عرب کی بعض درسی کتابوں کے مواد میں تبدیلیوں پر صیہونی ادارے نے خوشی کا اظہار کیا ہے، جن میں اسرائیل اور یہودیت سے متعلق بعض عبارات میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

سعودی عرب کی بعض درسی کتابوں کے مواد میں تبدیلی، جس کا مقصد نوجوان نسل میں صیہونی حکومت کے خلاف دشمنی کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے، تل ابیب کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

عربی 21 کے مطابق، سعودی عرب کی بعض درسی کتابوں میں کی گئی تبدیلیوں کا صیہونی حکومت نے خیر مقدم کیا ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب نے اپنی درسی کتابوں سے مسلمان قدس سے دستبردار نہیں ہوں گے کی عبارت حذف کر دی، جس پر مشرق وسطیٰ کے تعلیمی پروگراموں کی نگرانی کرنے والی ایک صیہونی تنظیم نے خوشی کا اظہار کیا۔

مارکوس شیف، جو ادارہ امپیکٹ-سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، نے اس حوالے سے کہا کہ سعودی عرب کے تعلیمی نصاب پر اس ادارے کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک کی تعلیم میں مثبت اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے ان مواد میں کمی کی طرف اشارہ کیا جنہیں یہ ادارہ انتہا پسندانہ یا یہود مخالف قرار دیتا ہے، جبکہ اسرائیل اور صیہونیت کے موضوعات سے متعلق انداز بیان میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔

صیہونی حکومت کی جانب سے سعودی اقدامات کا خیر مقدم ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صیہونی سیاست دان اب بھی مسجد الاقصیٰ کو منہدم کرنے اور اس کی جگہ نام نہاد ہیکل تعمیر کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

اسی طرح صیہونی حکام نے پیر کے روز یہودی آبادکاروں کو مشرقی مقبوضہ قدس میں واقع مسجد الاقصیٰ کے اندر یہودی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دی، جسے موجودہ صورتحال کی مزید خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اس ادارے نے سعودی عرب کی درسی کتابوں سے قرآن کی بعض آیات حذف کیے جانے کا بھی خیر مقدم کیا ہے، جن میں کفر اور گناہ کے موضوعات پر بات کی گئی تھی۔

گیارہویں جماعت کی ایک تاریخ کی کتاب میں صیہونی دشمن کی عبارت کو تبدیل کرکے صیہونی قابضین کر دیا گیا ہے۔

تاہم مذکورہ ادارے نے اس تبدیلی کو کافی نہیں سمجھا اور کہا کہ صیہونی قابضین کی اصطلاح کا استعمال اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے رجحان کے برقرار رہنے کی علامت ہے۔

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صیہونی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل مخالفت کرتی ہے۔ اس حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ نومبر میں کہا تھا: فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آئے گی۔ معاملہ اتنا ہی سادہ ہے: یہ قائم نہیں ہوگی۔

مشہور خبریں۔

برطانیا، فرانس اور جرمن کا بیان غزہ میں جنگ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: انگلستان، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے غزہ میں صیہونی

امریکی صدارتی انتخابات میں اہم مسائل

?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کے 4 سالہ

مقتدا الصدر قبل از وقت انتخابات کے خواہاں

?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:   عراقی اتحاد الفتح کے سربراہ ہادی العامری نے آج جمعرات

ترکی میں امریکی سفیر کی طلبی

?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:ترکی کی وزارت خارجہ نے انقرہ میں واشنگٹن کے سفارت خانے

شہباز شریف کے دور میں سعودی عرب کی پاکستان میں پہلی سرمایہ کاری

?️ 26 اگست 2022سچ خبریں:سعودی عرب کے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان میں اربوں

اسرائیلی حکومت کے غزہ پر قبضے کے فیصلے پر سعودی عرب کا شدید ردعمل

?️ 9 اگست 2025سچ خبریں: سعودی عرب کے وزارت خارجہ نے ایک بیان میں صہیونی حکومت

اسٹاک ہوم کے شاہی محل کے سامنے قرآن پاک کی توہین کو دہرایا گیا

?️ 15 اگست 2023سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سویڈن میں اسٹاک

طالبان کی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں تین ماہ کی جنگ بندی کی پیش کش

?️ 16 جولائی 2021سچ خبریں:کابل حکومت کے ایک مذاکرات کار نے کہا کہ ایک طرف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے