?️
سچ خبریں:عرب تجزیہ کار جومه بوکلیو نے اسرائیل-ایران جنگ کے بعد کی صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری پروگرام کو وسعت دے سکتا ہے، جنگ بندی ناپائیدار ہے اور تنازع کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔
عرب تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر غیرقانونی حملے، درحقیقت تہران کو اپنے پروگرام کی توسیع کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ترک وزیر خارجہ: ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے
عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگار جومه بوکلیو نے الشرق الاوسط چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ اور اس کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
یاد رہے کہ اس جنگ کا اختتام ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی پر ہوا تھا۔ بوکلیو نے اہم سوالات اٹھائے کہ آیا یہ جنگ واقعی ختم ہو چکی ہے یا صرف ایک عارضی وقفہ ہے جو دوبارہ شدید کشیدگی میں تبدیل ہو سکتا ہے،ان کے مطابق دونوں فریقوں نے فوری طور پر جنگ بندی کے بعد فتح کا دعویٰ کیا۔
بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا اور ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہدف بنایا، جبکہ ایران نے اسرائیلی حملوں کو ناکام بنانے کو اپنی کامیابی قرار دیا، تاہم بوکلیو کا کہنا تھا کہ اصل حقیقت اب تک منظرِ عام پر نہیں آئی ہے۔
انہوں نے امریکہ کے حملوں کی مؤثریت پر جاری بحث کا حوالہ دیا، جس میں عباس عراقچی، وزیر خارجہ ایران، نے یہ تسلیم کیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو کچھ حد تک نقصان ضرور پہنچا۔ تاہم، ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ ایران ممکنہ طور پر 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو چھپانے میں کامیاب رہا ہے جو کہ خفیہ طور پر جوہری پروگرام کی ترقی کے لیے کافی مقدار ہو سکتی ہے۔
بوکلیو نے خبردار کیا کہ یہ جنگ بندی محض ایک نازک اور عارضی توقف ہے، جس کے دونوں اطراف سخت دشمنی برقرار ہے، انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ 1981 میں عراقی نیوکلیئر ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے سے کیا، جس کے بعد عراق نے خفیہ طور پر جوہری پروگرام پر کام شروع کر دیا، اور مغرب اسے روکنے میں ناکام رہا۔ بوکلیو کے مطابق ایران بھی اسی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
آخر میں، انہوں نے موجودہ سفارتی تعطل کا ذکر کیا، جہاں ایک طرف ٹرمپ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں لیکن اس بات پر بھی مُصر ہیں کہ مذاکرات کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایران کا جوہری پروگرام تباہ ہو چکا ہے۔
دوسری طرف ایران مذاکرات کو مکمل طور پر رد کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور مستقبل غیر یقینی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ایران کے خوف سے صیہونیوں کا فرار
?️ 2 جون 2022سچ خبریں:ترکی میں 100 سے زائد اسرائیلیوں نے سکیورٹی خدشات کے پیش
جون
آج نہیں تو کل ہم شام پر ضرور حملہ کریں گے؛ صہیونی وزیر کی دھمکی
?️ 20 جون 2026سچ خبریں:صہیونی وزیر کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے
جون
یمنی "جوابی حملے” کے خوف سے اسرائیلی کابینہ کے اجلاس کا مقام تبدیل
?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: صہیونی خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یمنی
اگست
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی تقریب جنیوا میں منسوخ؛ وائٹ ہاؤس کا نیا بیان
?️ 18 جون 2026سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ
جون
صیہونیوں کی نیندیں حرام کرنے والے حزبالله کے ایف پی وی ڈرونز
?️ 3 جون 2026سچ خبریں:نئی رپورٹس کے مطابق حزبالله کے ایف پی وی ڈرونز نے
جون
ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا رد عمل
?️ 18 جون 2026سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی
جون
کچھ لیک ہونے والی امریکی خفیہ دستاویزات کے بارے میں
?️ 16 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لیک ہونے
اپریل
فرانس روس کی جیت نہیں چاہتا: پیرس
?️ 23 مئی 2022سچ خبریں: فرانس کے وزیر خارجہ کلیمنٹ بون نے کہا کہ پیرس
مئی