شہادت طلبانہ کاروئیاں جنگ کا نقشہ کیسے بدلتی ہیں؟

شہادت طلبانہ کاروئیاں جنگ کا نقشہ کیسے بدلتی ہیں؟

?️

سچ خبریں: الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں تل ابیب میں ہونے والے شہادت طلبانہ کاروئیوں کے واقعات اور غزہ جنگ پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ شمالی محاذ پر جاری جھڑپوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق دو فلسطینی نوجوانوں نے تل ابیب کے مرکز میں جا کر اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 2 فوجیوں کو خلعِ سلاح کرکے تقریباً 22 اسرائیلیوں کو ہلاک یا زخمی کیا، یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب غزہ پر شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کو ایک سال ہونے جا رہا ہے اور لبنان میں بھی نئی کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اردنی شہری کی شہادت طلبانہ کاروئی نے کیسے صیہونیوں کو لرزہ بر اندام کر دیا ہے؟

الجزیرہ نے نشاندہی کی کہ فلسطینی مزاحمتی تحریکیں شہادت طلبانہ کاروئیوں کا استعمال اسرائیل کو مادی، معنوی اور نفسیاتی نقصانات پہنچانے کے لیے کرتی ہیں۔

حماس نے پہلی بار 1994 میں حرم ابراہیمی میں ہونے والی اسرائیلی قتل و غارت کے جواب میں یہ حربہ استعمال کیا تھا، جس میں ایک اسرائیلی بس کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا اور 20 افراد ہلاک ہوئے، بعد میں اس طرز کے مزید حملے ہوئے، جن میں درجنوں اسرائیلی مارے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلسطینی عوام کی اکثریت نے ان حملوں کی حمایت کی، 2000 کے ایک سروے کے مطابق 69 فیصد فلسطینیوں نے ان شہادت طلبانہ کاروئیوں کو جائز قرار دیا۔

الجزیرہ کے مطابق، شہادت طلبانہ کاروئیاں آج بھی ایک مؤثر حربہ ہیں کیونکہ یہ کاروئیاں کرنے والے افراد کو زیادہ خفیہ طور پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے اور ان حملوں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو تیار کرنا کلاسیکی ہتھیاروں کے مقابلے میں آسان ہے۔

مزید یہ کہ حملے کرنے والے افراد کو قبل از وقت شناخت اور روکا جانا مشکل ہوتا ہے جو حملے کی کامیابی اور دشمن کو غافل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

شہادت طلبانہ کاروئیوں اور بمبوں سے لیس گاڑیوں کا دوبارہ استعمال غزہ جنگ کے طویل مدتی اثرات پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ ان حملوں کا ہدف اسرائیل کے اندر بالخصوص تل ابیب جیسے شہر تک پہنچنا ہے، جو ان حملوں کی زد میں آنے سے اسرائیلی شہریوں کی سکیورٹی کو بُری طرح متاثر کر سکتا ہے خاص طور پر وہ لوگ جو غزہ اور شمالی علاقوں سے فرار ہوکر تل ابیب میں پناہ لینے آئے ہیں۔

یہ حکمت عملی اسرائیل پر دباؤ بڑھا سکتی ہے اور انتشار کا شکار اس کی فوج کو مزید مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے ، اس کے علاوہ شہادت طلبانہ کاروئیاں زیادہ جانی نقصان کا باعث بنتی ہیں جو یہ نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ سیاستدانوں اور فوجی کمانڈروں پر بھی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔

ایسی کارروائیاں اُن چھوٹے گروپوں کے لیے اہمیت رکھتی ہیں جو معاشرتی اور فوجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوں کیونکہ یہ انہیں نئی کامیابیاں حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

اس تناظر میں، خودکش حملے غیر (asymmetric warfare) کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جسے کمزور گروپ اپنے طاقتور دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: حماس نے فٹ بال کھلاڑی کے شہادت طلبانہ آپریشن کا خیر مقدم کیا 

یہ حملے جنگ کو فرسایشی بنا سکتے ہیں اور مضبوط فریق کے لیے بھاری نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، مزید برآں ان کارروائیوں کے سماجی اثرات بھی اہم ہیں کیونکہ وہ مزید لوگوں کو ایسی کارروائیوں میں شامل ہونے کی طرف راغب کرسکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

’زہریلی چھپکلی‘ حرا مانی کا کنگنا رناوٹ کو کرارا جواب

?️ 11 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ حرا مانی نے بھارتی اداکارہ کنگنا رناوٹ کو

شامی صدر دورۂ چین کے بارے میں اظہار خیال

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں: شام کے صدر نے چین کے سرکاری ٹیلی ویژن کو

سوات واقعے پر گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا وزیراعلی سے استعفے کا مطالبہ

?️ 27 جون 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوات میں

روس کی یوکرین بحران کے حل کے لیے تین اہم شرطیں

?️ 30 دسمبر 2025سچ خبریں:روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین بحران کے حل

متحدہ عرب امارات نے پاکستان پر پابندی عائد کر دی

?️ 10 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کورونا

ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کے بارے میں جوزپ بریل کی شکایت

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:      روس کے ساتھ جنگ کے لیے یوکرین کو

کیا صیہونی جنگی کابینہ تحلیل ہو جائے گی؟

?️ 14 مارچ 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک اخبار نے صیہونی حکام کے درمیان

یوکرین ایک بار پھر ناکام

?️ 2 دسمبر 2023سچ خبریں:یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے روس کے خلاف ان کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے