?️
سچ خبریں:لبنان محاذ پر حزب اللہ کی جنگی حکمت عملی نے صیہونی فوج کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں افرادی قوت کی کمی، ڈرون حملوں اور اسٹریٹجک ناکامیوں کا اعتراف خود صیہونی ذرائع کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لبنان کے محاذ پر زمینی حقائق تیزی سے اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جنگ کی نوعیت اب صرف بمباری یا جوابی حملوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک طویل المدتی فرسایشی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں مزاحمتی قوتیں دشمن کی عملیاتی برتری کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ نے صیہونی فوج کے لیے ایک ایسا دلدل تیار کر دیا ہے جس میں صہیونی افواج مسلسل دباؤ اور نقصان کا شکار ہیں، جبکہ جنگی توازن آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے۔
عبرانی اخبار معاریو کے مطابق صیہونی فوجی و سیاسی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ صیہونی فوج اس طرزِ جنگ پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی ہے، خاص طور پر حزب اللہ کے جدید اور تقسیم شدہ ڈرون سسٹم کی وجہ سے جو مسلسل حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صیہونی تجزیہ کار آوی اشکنازی نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے سیاسی انتظام میں ایک بڑی ناکامی یہ ہے کہ امریکہ نے لبنان محاذ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کو باہم جوڑ دیا، جسے تہران کے لیے اسٹریٹجک فائدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صیہونی ذرائع کے مطابق لبنان کے جنوب میں پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باوجود حزب اللہ نے اپنی نقل و حرکت کے متبادل راستے برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے صیہونی حکمت عملی ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
اس دوران صیہونی میڈیا نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کا ڈرون یونٹ ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہا ہے، جس میں تقریباً ایک سو افراد چھوٹے اور خفیہ سیلز میں تقسیم ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں۔
صیہونی چینل 12 کے مطابق یہ ڈرون سسٹم روزانہ کی بنیاد پر صیہونی فوج کے لیے ایک مستقل تھکن اور دباؤ کا سبب بن رہا ہے، جس سے اس کی عسکری پالیسی متاثر ہو رہی ہے۔
اسی رپورٹ میں صیہونی فوج کے اندرونی بحران کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جہاں ایک سینئر افسر نے اعتراف کیا کہ اصل مسئلہ صرف فوجیوں کی کمی نہیں بلکہ نئے اہلکاروں کو بھرتی اور منظم کرنے کی عملی صلاحیت کا فقدان ہے۔
اس افسر کے مطابق موجودہ نظام نہ تو نئے ہزاروں فوجیوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس بنیادی عسکری سہولیات جیسے رہائش، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ موجود ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ صیہونی فوجی ڈھانچہ کئی دہائیوں سے جدید آبادیاتی اور عسکری ضروریات کے مطابق اپڈیٹ نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں موجودہ بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
ایال زامیر کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کنسٹ کی ایک خفیہ کمیٹی میں خبردار کیا ہے کہ ریزرو فورسز کا نظام ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہے اور فوری طور پر ہزاروں اضافی فوجیوں کی ضرورت ہے۔
صیہونی چینل 13 کے مطابق ایال زامیر نے تین اہم تجاویز پیش کی ہیں جن میں لازمی فوجی سروس کی مدت میں اضافہ، ریزرو نظام کی تنظیم نو اور نئی آبادی خصوصاً حریدی طبقے کی بھرتی شامل ہے۔
صیہونی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو صیہونی فوجی نظام اندرونی طور پر شدید دباؤ اور ممکنہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان محاذ پر جاری یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل کے لیے عسکری چیلنج ہے بلکہ اس نے پورے خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کیا ہے۔


مشہور خبریں۔
جانسن نے پوتن کو مگرمچھ سے تشبیہ دی
?️ 21 اپریل 2022سچ خبریں: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھارت کے دورے کے
اپریل
بلوچستان: آسمانی بجلی گرنے سے 4 افراد جاں بحق، تربت میں سیلابی صورتحال، 10 افراد پھنس گئے
?️ 13 اپریل 2024بلوچستان: (سچ خبریں) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے سے
اپریل
حزب اللہ کے مقابلے میں اسرائیل کی شدید اسٹریٹجک کمزوری
?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل کی کم آبادی، محدود جغرافیائی حدود اور مرکزی دفاعی
ستمبر
امریکہ کی شام کو ایران سے الگ ہونے کی پیشکش اور دمشق کی مخالفت؛روئٹرز کا انکشاف
?️ 3 دسمبر 2024سچ خبریں:روئٹرز خبر رساں ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور
دسمبر
ترکی اور شام میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں میں لگاتار اضافہ
?️ 7 فروری 2023ترکی اور شام میں پیر کی صبح آنے والے شدید زلزلے سے
فروری
ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے اسٹریٹجک شکست، ممکنہ معاہدہ بھی ذلت آمیز؛ نیویورکر کا تجزیہ
?️ 27 مئی 2026سچ خبریں:نیویورکر کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ
مئی
2022 میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی جرائم کے نئے اعدادوشمار
?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں:صہیونی دیوار کی تعمیر اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے
جنوری
ہسپانوی میڈیا: ٹرمپ آبنائے ہرمز میں کیوں ڈوب گئے؟
?️ 31 مئی 2026سچ خبریں: ایک ہسپانوی میڈیا نے ایک تنقیدی مضمون میں کہا کہ
مئی