خطے میں جنگ بندی پر عالمی ردعمل؛کہیں ٹرمپ کی پسپائی تو کہیں ایران کی بڑی کامیابی کے چرچے 

ایران اور امریکہ

?️

سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی پر عالمی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور میڈیا نے مختلف ردعمل دیا ہے، جن میں بعض نے اسے ایران کی بڑی کامیابی جبکہ کچھ نے ٹرمپ کے لیے سیاسی شکست قرار دیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی پر مختلف ممالک، سیاسی شخصیات اور میڈیا حلقوں کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے کو خطے میں ایران کی کامیابی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک نئی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپید نے کہا کہ ہم نے کبھی ایسی سیاسی تباہی نہیں دیکھی۔ تل ابیب کو اپنی سکیورٹی سے متعلق فیصلوں میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فوج نے وہ سب کچھ کیا جو اس سے کہا گیا تھا، مگر نیتن یاہو سیاسی اور اسٹریٹجک سطح پر ناکام ہو گئے اور جنگ کے کوئی بھی اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔

لاپید کے مطابق نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی اور غفلت کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی اور اسٹریٹجک نقصان کی تلافی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکہ اور تل ابیب کی مرضی کو ناکام بنا دیا۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایران کی مزاحمت، قیادت اور عوام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی اور صہیونی دشمن کی خواہشات کو ناکام بنا دیا اور انہیں اس جارحیت کے اہداف حاصل کرنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطہ اپنی اصل اقوام کا ہے اور اسی لیے ضروری ہے کہ خطے میں اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط کیا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں یہاں تسلط قائم کر کے وسائل کو لوٹ نہ سکیں۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ دوحہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سمندری راستوں کے تحفظ اور جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

قطر نے کہا کہ جنگ بندی کی شرائط، بالخصوص مذاکرات کے لیے فضا ہموار کرنے کے نکات پر عمل ضروری ہے اور اس اقدام کو کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک ابتدائی قدم سمجھا جانا چاہیے۔

اردن کی وزارت خارجہ نے بھی اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین ایک بڑی طاقت ہونے کے ناطے ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے اور خطے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

ایک امریکی سیاسی تجزیہ کار رابرٹ پیپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ویتنام جنگ کے بعد امریکہ کی سب سے بڑی شکست قرار دیا۔ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور سی پوسٹ منصوبے کے بانی پیپ نے ایکس پر لکھا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی ہے اور اس سے ایران عالمی سطح پر چوتھے بڑے طاقت کے مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

ان کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی کے منصوبے میں ایسے نکات شامل ہیں جو خطے میں ایک نئی حقیقت کو جنم دیتے ہیں، جن میں ایران پر مستقبل میں کسی بھی حملے کو تسلیم نہ کرنا، امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور تہران کے اتحادیوں خصوصاً لبنان میں فوجی کارروائیوں کا اختتام شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور تہران نے ہر جہاز سے دو ملین ڈالر ٹرانزٹ فیس لینے کی تجویز دی ہے جس کی آمدنی عمان کے ساتھ تقسیم کر کے تعمیر نو پر خرچ کی جائے گی۔

تیونس کی پارلیمنٹ کے سابق رکن زہیر مخلوف نے کہا کہ اس جنگ میں امریکی۔صہیونی اتحاد کو واضح شکست ہوئی ہے اور مزاحمتی محور اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے یورینیم افزودگی کے حق کو ایک خودمختار حق کے طور پر منوایا اور امریکہ کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

مخلوف کے مطابق امریکہ نہ تو مزاحمتی محور کو کمزور کر سکا اور نہ ہی اسے مذاکراتی عمل سے باہر کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بیلسٹک صلاحیتوں کے ذریعے ایک نئی توازن قوت قائم کر دی ہے جس نے اسے خطے کا اہم اور فیصلہ کن کھلاڑی بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران امریکہ کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل نہیں تھی جو اس کی سیاسی اور سفارتی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اس جنگ کے بعد اعلان کردہ عارضی جنگ بندی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی نیتن یاہو کے سیاسی دور کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

فلسطین میں الجزیرہ کی نامہ نگار فاطمہ خمایسی نے بتایا کہ جنگ کے آخری لمحات میں ایرانی میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں کے مرکز اور جنوب کو نشانہ بنایا جن میں دیمونا بھی شامل تھا، جس کے باعث لاکھوں صہیونی شہری پناہ گاہوں میں چلے گئے اور تل ابیب کے مشرق میں پتاح تکوا میں ایک عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف نے کہا کہ ایران اس جنگ میں فاتح رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے بعد سستا تیل اب ماضی کی بات ہو جائے گا جبکہ یورپ کو طویل عرصے تک معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا ایران کے دس نکاتی منصوبے پر غور کرنے کا فیصلہ ایرانیوں کی کامیابی کی علامت ہے اور امریکہ نہ تو چاہتا ہے اور نہ ہی طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے بھی ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنا ایک غیر قانونی اقدام تھا اور کانگریس کو چاہیے کہ فوری اجلاس بلا کر اس جنگ کو ختم کرے اور ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے پر غور کرے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فتح کے دعوے حقیقت نہیں بدل سکتے اور جارحانہ اور یکطرفہ حملوں کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

جاپان کی کابینہ نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کی محفوظ بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکہ کے سابق نائب قومی سلامتی مشیر بین روڈز نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکہ کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے گئے، امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں اور اڈوں کو شدید نقصان پہنچا۔

صہیونی میڈیا نے جنگ بندی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق کھیل کھیلا اور دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک بڑی کامیابی بن سکتی ہے جو مستقبل کے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔

عبری اخبار معاریو نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس جنگ کا واحد فاتح ایران ہے اور تل ابیب اور واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کے ساتھ جنگ سے باہر نکلے ہیں جسے اسٹریٹجک طور پر ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوجی تجزیہ کار آوی اشکنازی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی آپریشن غرش شیر بالآخر بلی کی میاؤں میں تبدیل ہو گیا۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ کا آخری حملہ کیا اور 41 دن بعد بھی حملوں کی صلاحیت برقرار رکھی۔

ادھر امریکی ایوان نمائندگان کے چند ڈیموکریٹ ارکان نے ٹرمپ کے مواخذے کے لیے 13 نکاتی قرارداد پیش کی ہے جس میں ان پر بغیر کانگریس کی اجازت کے ایران، یمن، لبنان، شام، نائجیریا اور غزہ میں جنگی کارروائیاں شروع کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کریں گے۔

عراق اور مصر نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

ادھر اسلامی مزاحمت عراق نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے مطابق دو ہفتوں کے لیے دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی کارروائیاں معطل کی جا رہی ہیں۔

امریکی سینیٹر کرس کونز نے بھی کہا کہ ٹرمپ اکثر شدید دھمکیاں دیتے ہیں اور پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جس سے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، تاہم اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکہ سمیت ان کے اتحادیوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم نے ایران کے دس نکاتی منصوبے کو خطے میں استحکام کی امید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایک جامع معاہدے میں تبدیل ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی شرائط کی پابندی کریں تاکہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور انسانی بحران میں کمی ممکن ہو سکے۔

مشہور خبریں۔

شمال مشرقی شام میں جنگ بندی کا آغاز

?️ 22 جنوری 2026سچ خبریں:شمال مشرقی شام کے صوبہ الحسکہ میں عبوری شامی حکومت اور

تہران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ علاقائی اجلاس کی میزبانی کرے گا: پاکستانی میڈیا

?️ 11 دسمبر 2025سچ خبریں: اسلام آباد پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران

پی ٹی آئی کی درخواست مسترد، پنجاب میں الیکشن کیلئے آر اوز بیوروکریسی سے لینے کا فیصلہ

?️ 10 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواست

مغربی کنارے  میں گھروں کی مسماری کا تسلسل ایک خطرناک اقدام ہے

?️ 18 فروری 2026مغربی کنارے  میں گھروں کی مسماری کا تسلسل ایک خطرناک اقدام ہے

صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا ہارے ہوئے گھوڑے پر شرط لگانا کیوں ہے؟

?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: ممالک اور خطے کے عوام کی اکثریت کی مخالفت کو

موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کیس: سیکریٹری برائے ماحولیاتی تبدیلی، چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز طلب

?️ 3 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام

صیہونی معاشرہ شدید خلفشار کا شکار

?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:صیہونی سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ صیہونی معاشرہ اندر سے

امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد خصوصی سلامتی کونسل کا اجلاس

?️ 10 اکتوبر 2025سچ خبریں: وینزویلا اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر اقوام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے