ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے جنگ کے سیاسی، عسکری اور اقتصادی اثرات پر مختلف زاویوں سے تجزیے پیش کیے ہیں۔ لبنان، یمن، آبنائے ہرمز، مذاکرات اور خطے کے مستقبل سے متعلق اہم نکات اس جائزے میں شامل ہیں۔

امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقوں کے لیے بڑھتی ہوئی تزویراتی رکاوٹوں اور عسکری و سیاسی ناکامیوں کے آثار بھی نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ جنگ وسیع پیمانے پر حملوں اور عام شہریوں، بالخصوص معصوم طلبہ کی ہلاکتوں سے شروع ہوئی اور جلد ہی انسانی، سلامتی اور اقتصادی پہلوؤں کے اعتبار سے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئی۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی اور بعد ازاں اسے توسیع بھی دی گئی، تاہم اس تنازع کے مکمل خاتمے تک ابھی ایک پیچیدہ راستہ درپیش ہے۔

دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر کشی کی ہے۔ ان تجزیات کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ

ایک امریکی اخبار نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ لبنان کا محاذ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور یہ پورے سفارتی عمل کو ناکام بنا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم جانتے ہیں کہ لبنان ایسا میدان ہے جو مذاکرات پر حقیقی اثر ڈال سکتا ہے، اسی لیے جب بھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کسی معاہدے کے امکانات بڑھ رہے ہیں تو وہ لبنان میں کارروائیوں کے ذریعے اس عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ حزب اللہ کے دفاع میں ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے ایک بڑی تزویراتی تبدیلی کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران، امریکہ کی جنگ سے گریز کی خواہش کو سمجھتے ہوئے حزب اللہ کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تجزیے کے اختتام پر جنوبی لبنان کے شہر صور پر اسرائیلی حملوں اور شہریوں کے انخلا کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ لبنان کے محاذ پر نئی جھڑپیں محض وقت کا سوال ہیں۔

ایک امریکی تحقیقاتی ادارے نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے حساب کتاب میں یمن کی انصار اللہ تحریک کے خطرے کو نظر انداز کر رہی ہے، جو پورے جنگی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق انصار اللہ اب تک اپنا سب سے مؤثر ہتھیار یعنی باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت استعمال نہیں کر رہی، لیکن اس رویے کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ باب المندب سے عالمی تجارت کا تقریباً 13 فیصد اور سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا 5 فیصد گزرتا ہے۔ اگر اس گزرگاہ میں خلل پیدا ہوا تو عالمی معیشت پر فوری اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ایک امریکی نشریاتی ادارے نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایران کی نئی قیادت ایسے خطرات مول لے رہی ہے جن سے سابق قیادت گریز کرتی تھی۔ لبنان کے دفاع میں اسرائیل پر براہ راست میزائل حملوں نے خطے میں نئی سرخ لکیریں معین کر دی ہیں۔

تجزیے کے مطابق تہران کی پالیسی اب صرف تنازع کو محدود رکھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ علاقائی حالات کی سمت متعین کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

 رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجود اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ واشنگٹن کو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور تہران کے ساتھ سفارتی راستے کے درمیان انتخاب پر مجبور کر دے۔

عرب اور علاقائی ذرائع ابلاغ

ایک عرب نشریاتی ادارے نے اپنے تجزیہ میں استدلال کیا کہ بڑی بین الاقوامی سیاسی کشیدگیوں میں عوام کے سامنے آنے والی معلومات اکثر مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں اور بہت سے اہم معاہدے پس پردہ طے پاتے ہیں۔

تجزیہ میں 1962 کے کیوبا میزائل بحران کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کئی خفیہ مفاہمتیں بھی ہوئی تھیں جنہیں اس وقت منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔

تجزیہ نگار کے مطابق غزہ کی جنگ اور ایران و امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے موجودہ مرحلے میں بھی ایسے خفیہ سمجھوتے موجود ہو سکتے ہیں جو ابھی سامنے نہیں آئے۔ تجزیہ میں آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی بحث کی گئی اور کہا گیا کہ اس آبی گزرگاہ کے حوالے سے کسی بھی نئے انتظامی یا مالیاتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں شدید قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایک عرب اخبار نے اپنے تجزیے میں اس بات کا جائزہ لیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کیوں کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 سے اب تک ٹرمپ درجنوں مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور ایران سمجھوتے کا خواہاں ہے، لیکن اب تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان بیانات کا مقصد عوامی خدشات کم کرنا، توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات محدود کرنا اور مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہونا ہو سکتا ہے۔

ایک علاقائی نشریاتی ادارے نے لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست جنگ، واشنگٹن کی توقعات کے برعکس، ایران کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط بنانے کا سبب بنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی عسکری اور تکنیکی برتری کے باوجود سیاسی اور تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جبکہ ایران نے داخلی یکجہتی، دفاعی صلاحیت اور علاقائی اتحادیوں کے تعاون سے دباؤ کا مقابلہ کیا۔

تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس صورتحال نے امریکہ کی بازدارتی طاقت اور اس کے اتحادیوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جبکہ خطے کے ممالک کو علاقائی تعاون اور مقامی حل کی طرف زیادہ مائل کیا ہے۔

چینی اور روسی ذرائع ابلاغ

ایک چینی اخبار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کے نمائندے کے بیان کے حوالے سے لکھا کہ بیجنگ ایران کے جوہری معاملے پر دباؤ اور فوجی دھمکیوں کی پالیسی کو خطرناک سمجھتا ہے۔

چینی نمائندے نے کہا کہ بعض مغربی ممالک سلامتی کونسل میں اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران پر پابندیوں کی واپسی کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں، جس سے سیاسی حل کے امکانات مزید کمزور ہوں گے۔

چین نے زور دیا کہ طاقت کے استعمال یا جنگ کی دھمکی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ بیجنگ کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور سفارتی عمل ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

ایک روسی اخبار نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ دوبارہ شدت اختیار کرے گی؟

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور محدود فوجی کارروائیوں کے باوجود دونوں فریق مکمل جنگ سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد واشنگٹن نے ایران کے جنوبی علاقوں میں محدود حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔

اس کے باوجود ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے خواہاں نہیں اور اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

رپورٹ کے مطابق جوہری مذاکرات میں بعض امور پر پیش رفت ہوئی ہے، جن میں افزودگی کی سطح، یورینیم کے ذخائر، بین الاقوامی معائنوں اور بعض جوہری تنصیبات کا مستقبل شامل ہے، تاہم باہمی عدم اعتماد اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا کہ تہران اور واشنگٹن فی الحال کنٹرول شدہ دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، جس کے تحت دونوں فریق اپنی سرخ لکیریں برقرار رکھتے ہوئے فوجی اور سفارتی ذرائع کو بیک وقت استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے اگرچہ وسیع جنگ کے امکانات کم ہوئے ہیں، لیکن پائیدار سیاسی اور سلامتی کے نظام تک رسائی ابھی بھی دور دکھائی دیتی ہے۔

مشہور خبریں۔

زیلنسکی روس کے خلاف مغرب کا کھلونا بن گیا: لاوروف

?️ 20 اپریل 2022سچ خبریں:  انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، روسی وزیر

امریکی یونیورسٹیوں میں اسرائیل مخالف مظاہروں کا اہم موڑ

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: بلاشبہ آج امریکی یونیورسٹیوں میں جو کچھ ہو رہا ہے

عمران خان کی رہائی نظر نہیں آرہی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

?️ 6 جون 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے

اسٹولٹن برگ نے نیٹو میں شامل ہونے کے لیے یوکرین کی اہم شرط کا انکشاف کیا

?️ 19 فروری 2023اگرچہ کیف خود کو شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم کا

آئینی ترمیم پر اتفا ق رائے کی کوشش، وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

?️ 18 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) مجوزہ26ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے اور قومی اسمبلی و سینیٹ سے

گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والی قابض حکومت کی تل ابیب میں حالت زار

?️ 18 جولائی 2023سچ خبریں: آج منگل کی صبح سے ہی صیہونیوں کی ایک بڑی

شامی پارلیمنٹ کے سابق رکن کے خلاف گولان میں صہیونی دہشت گردانہ کاروائی

?️ 17 اکتوبر 2021سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے مقبوضہ گولان میں شامی پارلیمنٹ کے ایک سابق

دہری شہریت والے نگران وزراء اور مشیروں کے نام پبلک کرنے کا حکم

?️ 19 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے کابینہ ڈویژن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے