تیل کی پیداوار کے سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین شدید اختلافات، مذاکرات کا سلسلہ ناکام

تیل کی پیداوار کے سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین شدید اختلافات، مذاکرات کا سلسلہ ناکام

?️

ریاض (سچ خبریں) تیل کی پیداوار کو لے کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین شدید اختلافات پیدا ہورہے ہیں اور اس سلسلے میں تمام مذاکرات کا سلسلہ ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین اختلاف کے بارے میں ایک مقبول ٹوئٹر اکاؤنٹ کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے مابین پشت پردہ ہونے والے مزاکرات ناکام ہوچکے ہیں اور اگر ایسا چلتا رہا تو اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مزید نقصان پہونچ سکتا ہے۔

ایک ٹویٹ میں جو سعودی عرب کی نگرانی میں چلتا ہے، ایک حکومتی عہدیدار نے کہا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان خفیہ مذاکرات بار بار ناکام ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں ان اختلافات میں مزید شدت دیکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں، آئل پرائس ویب سائٹ نے کہا ہے کہ اوپیک پلس معاہدے کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تنازعہ ختم نہیں ہوا ہے، اور یہ کہ دنیا تیل کے حصص کے تنازع کے طور پر کئی سالوں سے دیکھ رہی ہے۔

تسوانتا پاراسکووا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ ماہ اوپیک + مذاکرات کے دوران متحدہ عرب امارات کی اچانک مزاحمت نے تیل کی مارکیٹ کو حیران کردیا، البتہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات، ان ماہرین کے لیے حیران کن نہیں تھے جو برسوں سے مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے رواں برس جولائی کے مہینے میں تیل نکالنے کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تیل نکالنے والے بڑے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کی جانب سے 2022 کے اختتام تک تیل کی پیداوار کم رکھنے کے منصوبے کی مخالفت کر دی تھی۔

اماراتی حکام کا مؤقف تھا کہ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تیل کی طلب بڑھ گئی ہے، لہذٰا اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اُسے زیادہ کوٹہ درکار ہے، امارات کے اس اقدام کو سعودی عرب کی جانب سے آئندہ برس بھی تیل کی عالمی پیداوار کو کم رکھنے کے منصوبے کی کھل کر مخالفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امارات اور سعودی عرب کے درمیان یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہت سے ممالک کرونا وبا کی شدت کم ہونے پر معیشت کھول رہے ہیں اور تیل کی طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق امارات نے حالیہ عرصے میں اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اوپیک کی جانب سے تجویز کردہ کوٹے کے برعکس اسے یومیہ 0.6 ملین بیرل اضافی تیل نکالنے کرنے کی اجازت دی جائے جس کے بعد وہ یومیہ 38 لاکھ بیرل تیل نکال سکے گا۔

مشہور خبریں۔

ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل

?️ 9 مئی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے دو ماہ

ٹرمپ نے روس پر پابندیوں کی شرط دہرائی

?️ 15 ستمبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ نے نیو جرسی میں صحافیوں سے بات چیت کے

وینزویلا کے صدر ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں:امریکی میڈیا کا پروپگنڈہ 

?️ 2 دسمبر 2025وینزویلا کے صدر ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہین:امریکی میڈیا کا

کورونا وبا سے بچنے کے لیے ماسک لگانا لازمی ہے

?️ 11 جنوری 2022سندھ(سچ خبریں) ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میڈیا

بجلی بلوں کی قسط وارادائیگی کرانے والے صارفین کی موجیں ختم، سال میں اب ایک بار اقساط ہو سکیں گی

?️ 1 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نیپرا  نے بجلی صارفین کیلئے بلوں کی اقساط کرانے کی

وزیر خارجہ نے افغان اینکر کو لاجواب کر دیا

?️ 20 جون 2021کابل(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشکل سوالوں کے بے

امریکی کانگریس میں بڑھتا عدم استحکام

?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی  کانگریس  کے وسط مدتی انتخابات

جارجیائی اپوزیشن کی حمایت کرنے والے مشرقی یورپی "ہاکس” کے پردے کے پیچھے

?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: جارجیا کے وزیر خارجہ نے، یورپی یونین کے طرز عمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے