?️
سچ خبریں:یورپی ممالک نے غزہ کے لیے ٹرمپ کی مجوزہ امن کونسل میں شامل ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض نے اقوام متحدہ کے متبادل کسی ادارے کی تشکیل کی سخت مخالفت کی ہے۔
خبری ذرائع نے بتایا ہے کہ یورپ کے متعدد ممالک کے اعلیٰ حکام نے موجودہ حالات میں غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی نام نہاد امن کونسل میں شمولیت کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات اور تذبذب کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ اگلے ہفتے غزہ میں امن کونسل کے قیام کا اعلان کریں گے:صہیونی میڈیا
الجزیرہ کے مطابق، فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ ہم امریکی صدر کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں اور خلوصِ دل سے اس کے حق میں ہیں، تاہم ہم ایسے کسی ادارے کے قیام کے مخالف ہیں جو اقوام متحدہ کی جگہ لے۔
دوسری جانب اگرچہ سوئیڈن کی حکومت نے تاحال امریکہ کی دعوت پر باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم سوئیڈن کے وزیر اعظم اولف کرسٹرسن نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر واضح کیا کہ اسٹاک ہوم ٹرمپ کی امن کونسل میں شریک نہیں ہوگا۔
اسی طرح، ہالینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے ایمسٹرڈیم کو غزہ سے متعلق ٹرمپ کی نام نہاد امن کونسل میں شمولیت کی دعوت دی ہے، تاہم انہوں نے کہا:
ہمیں دعوت نامہ موصول ہوا ہے لیکن ابھی کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا، کیونکہ اس منصوبے کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں جن کے جوابات ضروری ہیں۔
ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس کراوِک نے بھی اعلان کیا کہ موجودہ شکل میں پیش کی گئی ٹرمپ کی امن کونسل میں ناروے شرکت نہیں کرے گا۔
ادھر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کہا ہے کہ روسی حکام اب تک غزہ سے متعلق ٹرمپ کی امن کونسل میں شمولیت کی دعوت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پیوٹن نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ موصول ہونے والی دستاویزات کا مطالعہ کرے اور اس معاملے پر ہمارے اسٹریٹجک شراکت داروں سے مشاورت کرے، اس کے بعد ہی ہم اس دعوت پر کوئی جواب دے سکیں گے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی امریکہ کی جانب سے دعوت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں فوری طور پر اس دعوت کو قبول نہیں کر سکتی، کیونکہ اس تجویز کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل غزہ امن کونسل کے نام نہاد اراکین کا اعلان کر چکے ہیں، اور اب تک برطانیہ، ترکیہ، قطر، مصر اور کینیڈا سمیت چند ممالک اس کونسل میں شامل ہو چکے ہیں۔
بلومبرگ کی جانب سے شائع ہونے والے غزہ امن کونسل کے مسودۂ منشور کے مطابق، امریکی صدر خود اس کونسل کی صدارت کریں گے اور کونسل میں ممالک کی شمولیت بھی ان کے اختیار میں ہوگی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کونسل میں ہر ملک کی رکنیت کی مدت تین سال ہوگی، جس میں ٹرمپ کی منظوری سے توسیع ممکن ہے۔ تاہم مستقل نشست حاصل کرنے کے خواہشمند ممالک سے غزہ کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکہ کا غزہ میں امن کونسل نامی ادارہ قائم کرنے کا دعویٰ
مسودۂ منشور کے مطابق، امریکی صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ جب چاہیں، اپنی جگہ کسی اور شخص کو کونسل کا سربراہ مقرر کر سکیں۔


مشہور خبریں۔
اب فیصلہ روس کے ہاتھ میں ہے؛ٹرمپ کا یوکرین جنگ پر تبصرہ
?️ 13 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ
مارچ
سعودی عرب کے پاس اتنے میزائل نہیں ہیں کہ انصار اللہ کا مقابلہ کر سکے:امریکی اخبار
?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انصار اللہ کے حملوں
دسمبر
سعودی اتحاد یمنیوں میں تفرقہ پھیلانا چاہتا ہے:الحوثی
?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم سیاسی کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے
جنوری
حماس اب بھی غزہ پر حکومت کرنے کا خواہاں
?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار یدیوتھ احرانوت کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کے
دسمبر
غزہ کی پٹی کے مکینوں کے تباہ کن حالات
?️ 11 جولائی 2024سچ خبریں: المیادین کے رپورٹر کے مطابق اس پٹی کے وسط میں واقع
جولائی
وزیر اعلی بلوچستان کے استعفے کی خبر کی تردید کر دی ہے
?️ 23 اکتوبر 2021کوئٹہ (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق ترجمان بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ جام
اکتوبر
غزہ جنگ بندی کے بارے میں قاہرہ مذاکرات کا کیا نتیجہ رہا؟
?️ 9 مارچ 2024سچ خبریں: الجزیرہ نیوز سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ صیہونی حکومت
مارچ
صیہونی فوجی تجزیہ کار: اسرائیل ایران اور لبنان کے مقابلے میں نئی شکست کے دہانے پر ہے
?️ 30 مئی 2026سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "معاریو” کے فوجی تجزیہ کار "آوی اشکنازی” نے
مئی