?️
کابل (سچ خبریں) افغانستان میں ایک اسکول پر متعدد بم دھماکے ہوگئے جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک جبکہ 52 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک اسکول میں متعدد دھماکے کیئے گئے جن کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں اور افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ سید الشہدا اسکول سے لائی جانے والی زیادہ تر لاشیں طلبہ کی ہیں۔
ٹی وی چینل طلوع نیوز کی فوٹیج اسکول کے باہر دردناک مناظر کی منظر کشی کر رہی ہے جہاں سڑک پر خون میں لت پت کتابیں اور اسکول بیگ پڑے ہیں اور مقامی افراد اپنے تئیں مدد کر کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کے مطابق دھماکے میں 30 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہوئے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسکول کو کیوں ہدف بنایا گیا۔
کابل ان دنوں ہائی الرٹ پر ہے کیونکہ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا ہو جائے گا اور افغان حکام کے مطابق اس اعلان کے بعد طالبان نے ملک بھر میں حملے تیز کر دیے ہیں۔
ابھی تک کسی بھی گروپ نے ہفتے کو کیے گئے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس حملے میں اپنے گروپ کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔
ہفتے کے روز دھماکے مغربی کابل میں ہوئے جو شیعہ اکثریتی علاقہ ہے جسے گزرے سالوں کے دوران داعش کئی مرتبہ نشانہ بنا چکا ہے۔
وزارت تعلیم کی ترجمان نجیبہ آریان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے ایک مشترکہ ہائی اسکول ہے جس میں تین شفٹوں میں تعلیم دی جاتی ہے اور اسکول کی دوسری شفٹ طالبات کے لیے مختص ہے، انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں زیادہ تر طالبات ہیں۔
افغانستان میں یورپی یونین مشن نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کابل میں دشت برچی کے علاقے میں دہشت گردی کا حملہ قابل مذمت اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر اسکول میں لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا مقصد افغانستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے حملے کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اپنی ناجائز جنگ اور تشدد کو بڑھا کر ایک بار پھر یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ناصرف موجودہ بحران کو پرامن طریقے سے پر حل کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں بلکہ وہ صورتحال کو پیچیدہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
40,000 فلسطینی جنگجو اب بھی غزہ کی پٹی میں موجود ہیں
?️ 26 مئی 2025سچ خبریں: ایک اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی
مئی
عراق میں عین الاسد امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:دو خودکش بمبار ڈرونز نے عراق کے صوبہ الانبار میں واقع
جنوری
ایران صہیونی حملے کی صورت میں شدید تر جواب دینے کے لیے تیار ہے:انصاراللہ
?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے کہا ہے
جولائی
سعودی ماہر نے اسرائیل ہیوم کو ریاض تل ابیب تعلقات کے بارے میں کیا بتایا؟
?️ 9 نومبر 2025سچ خبریں: ایک سعودی ماہر نے اسرائیل ہیوم کو بتایا کہ نیتن
نومبر
مزاحمتی تحریک کی میزائل طاقت کو مضبوط کرنے میں جنرل قاسم سلیمانی کا کردار
?️ 24 اپریل 2024سچ خبریں: لبنانی روزنامہ الاخبار کے چیف ایڈیٹر نے مزاحمتی قوتوں کی
اپریل
مریم نواز نے پارٹی رہنماؤں کو شاہد خاقان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروا دی
?️ 1 فروری 2023لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا
فروری
ٹرمپ کے منصوبے سے دستبرداری کے لیے حکومتِ پاکستان پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا
?️ 14 فروری 2026ٹرمپ کے منصوبے سے دستبرداری کے لیے حکومتِ پاکستان پر سیاسی دباؤ
فروری
وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا
?️ 28 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس
ستمبر