کیا صیہونیوں کے پاس جنگ بندی کے علاوہ کوئی راستہ ہے:سابق صیہونی فوجی کمانڈر کا انکشاف

کیا صیہونیوں کے پاس جنگ بندی کے علاوہ کوئی راستہ ہے:سابق صیہونی فوجی کمانڈر کا انکشاف

?️

سچ خبریں:سابق صیہونی فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ صیہونی حکام نے جنگ بندی قبول کر لی ہے کیونکہ تل ابیب کے پاس مزید کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، سابق صیہونی فوجی کمانڈر نوعام تیفون نے کہا ہے کہ صیہونی ریاست نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی قبول کر لی ہے کیونکہ تل ابیب کے پاس مزید کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی لبنان میں جنگ بندی کے لیے کیوں تیار ہوئے؟عطوان کی زبانی

لبنان میں ناکامیوں کا اعتراف
نوعام تیفون نے کہا کہ صیہونی ریاست کو لبنان کے دلدل میں پھنسنے سے پہلے جنگ بندی کو قبول کر لینا چاہیے تھا،ان کے مطابق غزہ کی جنگ کو ختم کرنا اور اپنی فوج کو مزید نقصانات سے بچانا ہی درست فیصلہ ہے۔

المطلہ کے مقامی رہنما کا سخت ردعمل
دیوڈ ازولای، جو صیہونی بستی المطلہ کے کونسل کے سربراہ ہیں، نے اس جنگ بندی کو دردناک اور شرمناک قرار دیا۔،انہوں نے کہا کہ 70 فیصد گھروں کی تباہی کے بعد یہ معاہدہ حزب اللہ کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے،میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔

نیتن یاہو کی جنگ بندی پر مشاورت
صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آج لبنان کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی پر کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے، اس اجلاس میں اس معاہدے کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کیا امریکہ اور اسرائیل لبنان میں جنگ بندی چاہتے ہیں ؟

شدت پسند وزراء کی مخالفت
صیہونی کابینہ کے دو شدت پسند وزراء، ایتمار بن گویر اور بزالل اسموٹریچ، لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے سخت مخالف ہیں۔ ان دونوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ معاہدہ نافذ ہوا تو وہ کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں صیہونیوں کی خام خیالی

?️ 30 جنوری 2025سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی

2023 میں اسرائیل سے ریورس مائیگریشن کا سب سے زیادہ ریکارڈ

?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل کے شماریاتی مرکز کا حوالہ دیتے ہوئے واللا نیوز

خطے میں چینی اثر و رسوخ کا خوف، امریکا نے متعدد ممالک سے رابطے برقرار کرنا شروع کردیئے

?️ 12 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں)  امریکا نے خطے میں چین کی بڑھتی عسکری اور

سعودی عرب کب تک امریکہ سے دور رہے گا؟

?️ 15 جولائی 2023سچ خبریں:2019 سے سعودی عرب کے امریکہ سے ہٹنے اور ساتھ ہی

اردوغان زیلنسکی اور گوٹیرس سے ملاقات کے لیے یوکرین پنہچے

?️ 18 اگست 2022سچ خبریں:   ترک صدر رجب طیب اردوغان سرکاری دورے کے ایک حصہ

قحطی؛ یمنی عوام کے خلاف سعودی ہتھیار

?️ 7 مارچ 2022سچ خبریں:    جنگ کے تقریباً پانچ سال بعد یمن  کے لاکھوں

ٹرمپ کے حامی مذہبی مورچے میں شگاف؛ امریکی فوج کے آرچ بشپ: ایران کے ساتھ تنازعہ منصفانہ نہیں

?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں: ریاستہائے متحدہ کی مسلح افواج میں کیتھولک پادریوں کے رہنما

ہمارا سیاسی نظام کیسا ہے؟مفتی تقی عثمانی کی زبانی

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: مولانا مفتی تقی عثمانی نے ایف پی سی سی آئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے