?️
سچ خبریں:امریکی محقق لائل موریس کا کہنا ہے کہ چین واشنگٹن کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے فائدہ اٹھا کر امریکہ کو چیلنج کر سکتا ہے اور اپنی علاقائی اور عالمی نفوذ کو مضبوط کر سکتا ہے۔
ایک امریکی محقق نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث چین اس موقع سے فائدہ اٹھا کر امریکہ کو چیلنج کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مغربی کنارے کی بستیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں: اسپین
چین میں امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے امور پر سینئر ریسرچر لائل موریس نے نیوز چینل نیوز ایشیا کے لیے ایک تجزیہ شائع کیا جس میں عنوان تھا” چین کو 2026 میں کیا دیکھنے کو ملے گا”
انہوں نے لکھا کہ نئے سال میں چین مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں ملکی سطح پر سست معیشت، سماجی عدم اطمینان، نوجوانوں میں بے روزگاری، جاپان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، جنوبی چین کے سمندری تنازعات، تائیوان، اور بالآخر امریکہ کے ساتھ وسیع پیمانے پر مقابلہ شامل ہیں۔
مزید برآں، اگر ہم امریکہ کے حالیہ اقدامات جیسے وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو کے اغوا اور وینزویلا کے تیل پر واشنگٹن کے کنٹرول کے منصوبے (جس کا سب سے بڑا خریدار چین ہے) اور ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر حکمرانی کی خواہش کو مدنظر رکھیں تو یہ سب چین کے لیے ممکنہ خطرات کی مانند ہیں جو اس کے روٹین راستے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
موریس نے کہا کہ چین مسائل کو کبھی الگ سے نہیں دیکھتا بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے متضاد اشارے
موریس نے مزید کہا کہ جب ٹرمپ دوبارہ امریکی صدارت سنبھالے، چین نے ایک حکمت عملی تیار کی جو امریکی قومی مفادات کے توازن کے لیے نرم اور آشتی پسندانہ انداز میں تھی، جس میں اقتصادی خودمختاری، متقابل عمل اور انصاف کو ترجیح دی گئی اور تاکید کی گئی کہ امریکہ-چین تجارتی تعلقات متوازن اور غیر حساس شعبوں پر مرکوز ہوں۔
یہ حکمت عملی ایسے وقت میں جاری کی گئی جب ٹرمپ کی 2017 کی پالیسی چین کو ایک طاقت کے طور پر پیش کرتی تھی جو دنیا کو امریکی مفادات کے خلاف بدلنے کی کوشش میں ہے۔
تاہم، جب ٹرمپ نے اقتصادی تعلقات میں متقابل فائدے کی بات کی تو یہ اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ نئے اقتصادی مواقع کھول رہے ہیں جو سابقہ صدر جو بائیڈن کے دور میں دستیاب نہیں تھے۔
اگرچہ کچھ توقع رکھتے تھے کہ ٹرمپ چین کے خلاف فوجی رویے میں نرمی لائیں گے، مگر امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی نے اس امید کو ختم کر دیا۔
واشنگٹن کی ترجیحات اور چین کا نقطہ نظر
امریکی حکمت عملی کے مطابق، واشنگٹن تائیوان میں تصادم کو روکنے کو ترجیح دیتا ہے اور جنوبی چین کے سمندر میں بھی خطوط کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات چاہتا ہے، بغیر کسی ملک کی جانب سے خودسرانہ بلاکنگ یا اثر ڈالے۔
موریس کے مطابق چین ہمیشہ طویل مدتی نقطہ نظر سے سوچتا ہے اور امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں تبدیلیاں یقینی طور پر پکن کے رویے پر اثر ڈالتی ہیں، مگر یہ ہمیشہ بڑے پیمانے پر تبدیلی نہیں لاتی۔ چین کے بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پکن سمجھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے اور وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
اگر چین اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ابھرتا ہوا ہے اور امریکہ زوال پذیر ہے، تو ممکن ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی نفوذ بڑھانے کے لیے جارحانہ رویہ اختیار کرے اور جنوبی ممالک سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات کو وسیع کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
موریس نے کہا کہ صدر شی جن پنگ ملک کی اندرونی ترقی اور حکومتی امور کو عالمی خارجہ پالیسی پر ترجیح دے سکتے ہیں اور اگرچہ کچھ سوچتے ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ شی عالمی سطح پر خطرات لینے سے گریز کریں گے۔
آخر میں، موریس نے نتیجہ نکالا کہ چین اپنی علاقائی طاقت کو ہند-آسٹریلیا-پیسیفک خطے میں مستحکم کرے گا اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور وسیع تنازع سے گریز کرے گا۔ چین امریکی فوجی اور اقتصادی طاقت سے مکمل آگاہ ہے اور ممکنہ طور پر کشیدگی کو کنٹرول کرتے ہوئے اپنے مفادات کو آگے بڑھائے گا، حتیٰ کہ امریکہ کے وینزویلا حملے بھی اس کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں لائیں گے۔
مزید پڑھیں:غزہ میں ۲۵۱ صحافیوں کی شہادت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے:حماس
چین اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تاکہ امریکہ کو ایک عالمی ہژمون کے طور پر پیش کرے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور اگر امریکہ یا چین کے درمیان غلط تشخیص یا ردعمل ہو جائے تو یہ تناؤ ممکنہ طور پر براہِ راست تنازع میں بدل سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
بلوچستان: کاہان میں ’کلیئرنس آپریشن‘ کے دوران بارودی سرنگ کا دھماکا، کیپٹن سمیت 5 جوان شہید
?️ 26 دسمبر 2022بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان کے علاقےکاہان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ’کلیئرنس
دسمبر
چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف مجھے اردوان ماڈل جیسی پالیسی نظر آرہی ہے
?️ 3 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ
اکتوبر
’کوئی ڈیڈ لاک نہیں‘، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات منگل تک ملتوی
?️ 29 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے
اپریل
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا خواب دیکھنے والے ہوش کے ناخن لیں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل
?️ 19 اپریل 2025 سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سکریٹری جنرل شیخ
اپریل
جنگ میں اسرائیل کی حکمت عملی ناکام
?️ 11 جنوری 2022سچ خبریں: صہیونی ماہرین نے اس بات پر بھی تاکید کی ہے
جنوری
امریکی حمایت میں غزہ میں تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی
?️ 15 جون 2024سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں غاصب صیہونی حکومت کے جرائم جو کہ
جون
غزہ میں صحافیوں کی واسکٹ کام نہیں کرتی
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے غزہ میں 300 دنوں سے زائد جارحیت،
اگست
احاطہ پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی اراکین کو گرفتار کرنے پر آئی جی کی سرزنش، فوری رہا کرنے کا حکم
?️ 10 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گزشتہ
ستمبر