?️
سچ خبریں:امریکہ میں آزادیٔ اظہارکی حقیقت اس وقت بے نقاب ہو گئی جب امریکی حکام نے فلسطین کے حامی چینی طالب علم، لیو لیجون کو گرفتار کر کے اس کا تعلیمی ویزا منسوخ کر دیا۔
تلگراف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، لیو لیجون، جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس(UCLA) میں زیر تعلیم تھا اور مئی 2024 میں فلسطین کے حق میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج کا منتظم تھا، امریکی پولیس نے اسے حماس کی حمایت کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے آزادی بیان کو کھلونا بنا رکھا ہے:روس
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے لیجون کا تعلیمی ویزا منسوخ کر دیا ہے، اور امکان ہے کہ اسے جلد ہی چین واپس بھیج دیا جائے گا،یہ پہلا واقعہ ہے جس میں امریکی حکومت نے اپنی نئی پالیسی کے تحت کسی غیر ملکی طالب علم کا ویزا منسوخ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک ایگزیکٹو آرڈرپر دستخط کیے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کا مقصد یہود دشمنی کا مقابلہ کرنا ہے۔
اس حکم نامے کے تحت اگر کسی غیر ملکی طالب علم کو حماس کا حامی یا فلسطینی تحریک سے وابستہ پایا گیا، تو اس کا ویزا منسوخ کر کے اسے ملک بدر کر دیا جائے گا۔
امریکی وزارت داخلہ، وزارت تعلیم اور محکمۂ داخلی سلامتی کو طلبہ اور اساتذہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور رپورٹ دینے حکم دیا گیا ہے۔
تمام فریقین کو 60 دن کے اندر ان قوانین اور اقدامات کا جائزہ لے کر وائٹ ہاؤس کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو طلبہ کے خلاف قانونی کارروائی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
نئی پالیسی کے مطابق، جو طلبہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں مظاہرے کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ اسرائیل نواز سرگرمیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
یہ اقدام نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ میں آزادیٔ اظہار صرف ان کے لیے ہے جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ فلسطین کے حامیوں کو دبایا جا رہا ہے۔
چین نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، لیکن یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی اس نئی پالیسی پر عالمی سطح پر شدید تنقیدکی جائے گی، خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور تعلیمی ادارے طلبہ کی آزادی سلب کرنے پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: فرانسیسی یونیورسٹی پروفیسر کو ٖظلم کے خلاف بولنے کی سزا
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں چاہے
وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی طلبہ، حکومت اب انہیں دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔


مشہور خبریں۔
وائٹ ہاؤس کے اطراف میں نیتن یاہو کی آمد کے خلاف پرزور مظاہرے
?️ 12 فروری 2026 سچ خبریں:الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، امریکی مظاہرین
فروری
کچھ لیک ہونے والی امریکی خفیہ دستاویزات کے بارے میں
?️ 16 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لیک ہونے
اپریل
سید علی گیلانی کی شہادت جدوجہد آزادی کے لئے بڑا نقصان ہے: شہریار آفریدی
?️ 9 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ
ستمبر
ایمرجنسی قانون کا حصہ ہے، سندھ میں گورنر راج اور وفاق میں ایمرجنسی کا حامی تھا:شیخ رشید
?️ 24 مارچ 2022اسلام آباد ( سچ خبریں ) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد
مارچ
صیہونی مقبوضہ علاقوں سے تاریخی فرار
?️ 22 نومبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کے اپنے شماریاتی بیورو کے سرکاری اعداد و شمار
نومبر
تہران اور ریاض کے درمیان مفاہمت سب کے مفاد میں ہے: عمران خان
?️ 18 ستمبر 2021سچ خبریں:وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب
ستمبر
امریکہ کے ساتھ تاریخی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید بڑھائے گا، وزیراعظم
?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ
جولائی
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پاکستان کا یورپ دیکھنے لاہور آئے ہیں۔ عظمی بخاری
?️ 26 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ
دسمبر