جنوبی شام میں صیہونی جاسوسی اڈے کی مبینہ تیاری؛ سویداء کے جبل الدروز میں مشکوک فوجی سرگرمیاں

جنوبی شام

?️

سچ خبریں:شامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ صیہونی فوج نے جنوبی شام کے صوبے سویداء میں جبل الدروز پر جدید فوجی سازوسامان منتقل کرنا شروع کردیا ہے، جہاں ممکنہ طور پر ایک نیا جاسوسی اور نگرانی کا اڈہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ ادھر قنیطرہ اور دمشق کے مغربی مضافات میں صیہونی فوجی سرگرمیوں اور نقل و حرکت میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ابومحمد جولانی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شام میں صہیونی حکومت کی تخریبی سرگرمیاں صرف جنوبی شام کے نئے علاقوں پر قبضے اور مسلسل جارحیت تک محدود نہیں رہی ہیں۔ اس حکومت کے اقتدار میں آنے سے، بقول رپورٹ، صہیونیوں کے لیے شام میں داخل ہونے اور ملک کو تقسیم کرنے کی راہ عملاً ہموار ہوئی ہے۔

سویداء میں جاسوسی اڈے کی تعمیر کی تیاریاں

اس سلسلے میں شامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی قابض فوج نے جنوبی شام کے صوبے سویداء میں جبل الدروز کی چوٹی پر جدید فوجی سازوسامان منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ بظاہر یہ سرگرمیاں علاقے میں اسرائیل کے ایک نئے فوجی اڈے کے قیام کی تیاری کا حصہ ہیں۔

خبری ویب سائٹ سوریہ 360 نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ درجنوں صیہونی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس علاقے میں بڑی مقدار میں ہتھیار، سازوسامان اور جدید آلات منتقل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اندازہ ہے کہ اس اڈے کو انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، نگرانی کرنے اور پیشگی انتباہ دینے کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وہاں ریڈار نظام بھی نصب کیے جانے کا امکان ہے۔

مذکورہ ذریعے نے بتایا کہ یہ سازوسامان اڈے کے قیام کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے مقصد سے منتقل کیا گیا ہے۔ صہیونی فوجی بھی مجوزہ مقام کا معائنہ کرنے اور اس بات کا جائزہ لینے کے لیے وہاں پہنچے ہیں کہ آیا یہ جگہ مذکورہ تنصیبات کی تعمیر کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔

اس ذریعے نے زور دے کر کہا کہ اس کارروائی میں حصہ لینے والے صیہونی فوجیوں کی اکثریت ایسے آبادکاروں پر مشتمل ہے جن کا تعلق دروزی پس منظر سے ہے۔

ویب سائٹ سوریہ 360 کے مطابق، صیہونی فوج کی جانب سے منتقل کیے گئے تکنیکی آلات غالباً ایسی تنصیبات کے قیام کے لیے ہیں جنہیں معلومات جمع کرنے، جاسوسی اور پیشگی انتباہ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

جبل الدروز، جسے جبل العرب بھی کہا جاتا ہے، صوبہ سویداء میں واقع ہے۔ یہ صوبہ بنیادی طور پر دروزی آبادی کا علاقہ ہے۔

جنوبی شام میں فوجی موجودگی مستحکم کرنے کی صیہونی کوششیں

دوسری جانب، شامی مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صیہونی قابض فوج جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

 اس مقصد کے لیے وہ ان پہاڑی مقامات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے جو اکتوبر کے اوائل میں اس کی فوجی پیش قدمی کی زد میں آئے تھے۔ ان میں دمشق کے مغربی مضافات کے بعض علاقے بھی شامل ہیں۔

جنوبی شام کے مقامی ذرائع نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی فورس برائے نگرانی علیحدگی (UNDOF) نے مقامی باشندوں کو آگاہ کیا ہے کہ قابض فوج قنیطرہ کے شمالی دیہی علاقے میں واقع تل الحمریہ پر ایک نئی نگرانی اور جاسوسی چوکی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صہیونی فوجیوں نے اپنی کارروائیوں کے دوران تقریباً 4 دونم اراضی کو تباہ کیا اور طرنجه گاؤں کے باشندوں کو خبردار کیا کہ وہ ایک مقررہ مدت کے اندر علاقہ خالی کردیں۔

 ان کا دعویٰ تھا کہ مقامی باشندوں کے گھر ان رکاوٹوں اور مٹی کے ٹیلوں کے قریب واقع ہیں جو حال ہی میں حضر اور طرنجه گاؤں کو ملانے والی سڑک پر بنائے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق، صہیونی فوجیوں نے بعد میں عارضی طور پر ان رکاوٹوں کو ہٹایا اور رفتہ رفتہ وہاں اپنی فوجی موجودگی قائم کرنا شروع کردی۔ اس علاقے میں ان کی تازہ ترین تعیناتی کے دوران 4 ٹینک بھی داخل کیے گئے۔

پہلے سامنے آنے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل 2026 میں تل الحمریہ کی پہاڑی پر رسدی اور لاجسٹک سازوسامان پہنچانے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی کوششیں دیکھی گئی تھیں۔

 اس وقت ان سرگرمیوں سے یہ اشارہ ملا تھا کہ اس مقام کو شام کے اندرونی علاقے میں ایک جدید نگرانی چوکی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح جنوبی شام میں صہیونی سرگرمیاں جاری ہیں اور اب یہ دمشق کے مغربی مضافات تک پہنچ چکی ہیں۔ وہاں قابل ذکر اور مسلسل فوجی نقل و حرکت کے بعد، صیہونی فورسز دربال گاؤں کے مضافات میں واقع ایک زرعی ٹاور تک پہنچ گئیں۔

ان سرگرمیوں میں حرمون پہاڑ کے دامن میں بقعسم گاؤں کے قریب واقع متروک فوجی بیرکوں پر بمباری اور دمشق و اس کے مضافات میں ایک جاسوس ڈرون کی طویل پرواز بھی شامل تھی، جس کا دورانیہ 12 گھنٹے تک بتایا گیا ہے۔

صہیونی جارحیت کے دوران عارضی فوجی چوکیاں قائم کرنا، راہ گیروں کی تلاشی لینا اور ان دیہات و قصبوں میں شہریوں کے گھروں کی تلاشی لینا بھی شامل ہے جہاں صیہونی فوجی داخل ہوتے ہیں۔ ان کارروائیوں کے پھیلاؤ اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مقامی باشندوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، صیہونی فوج کی دراندازیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ یہ کارروائیاں کسی بھی وقت، بغیر پیشگی اطلاع کے شروع ہوجاتی ہیں اور ان کے دوران فائرنگ، چھاپے اور اہم سڑکوں کی بندش جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔

صیہونی فوج سڑکوں پر متعدد چوکیاں قائم کرتی ہے اور شامی شہریوں کو گزرنے سے روکتی ہے۔ جنوبی شام، بالخصوص قنیطرہ کے باشندوں کو سڑکیں بند ہونے کے باعث بعض اوقات کئی کئی گھنٹے راستوں میں پھنسے رہنا پڑتا ہے۔

 اس صورت حال سے ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہے اور وہ مسلسل خوف و بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مشہور خبریں۔

شام میں نکاح افغانستان میں طلاق

?️ 20 ستمبر 2021سچ خبریں:داعش کے خلاف جنگ سے لے کر بڑے پیمانے پر تباہی

نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پر یورپ کا خیرمقدم

?️ 22 نومبر 2024سچ خبریں: فرانسیسی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ بین

امریکی سینیٹ کی جانب سے حکومت کی بندش ختم کرنے کے ڈیموکریٹس کا بل مسترد 

?️ 4 اکتوبر 2025 سچ خبریں: امریکی سینیٹ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اس مجوزہ بل

اسلام آباد میں یونین کونسلز میں اضافے کے خلاف الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم

?️ 24 دسمبر 2022اسلام آباد 🙁سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے یونین کونسلز بڑھانے

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری دیدی

?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ

The ‘Deadpool’ creator Liefeld praises "The Night Comes for Us”

?️ 14 اگست 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

یورپی قانون ساز کا اسرائیل کو دہشتگرد قرار دینے کا مطالبہ

?️ 21 جولائی 2025یورپی قانون ساز کا اسرائیل کو دہشتگرد قرار دینے کا مطالبہ یورپی

قومی اسمبلی میں قومی احتساب بیورو دوسرا ترمیمی بل 2022 منظور

?️ 3 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترمیم کا بل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے