?️
سری لنکا (سچ خبریں) سری لنکا میں اسلاموفوبیا کی شدید لہر جاری ہے اور مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ سے مظالم کا سلسلہ جاری رہا ہے اور بدھ انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کا قتل، عصمت دری اور اس طرح کے متعدد واقعات بی سامنے آتے رہے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مسلمانوں کو بھی دفنانے کے بجائے جلایا جاتا رہا ہے جس کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج اور اعتراض کیا لیکن حکومت کی جانب سے اسے دبا دیا گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ایک اور پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہاں کے حکومتی وزیر نے کہا ہے کہ برقع پہننے پر پابندی ہوگی اور ہزار سے زائد اسلامی اسکولز کو بند کردیا جائے گا۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو وزیر برائے عوامی تحفظ سارتھ ویراسکیرا نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے قومی سلامتی کی بنیاد پر کچھ مسلمان خواتین کی جانب سے مکمل چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کی کابینہ سے منظوری کے لیے جمعہ کو ایک کاغذ پر دستخط کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے آغاز کے دنوں میں مسلم خواتین اور لڑکیاں کبھی برقع نہیں پہنتی تھیں، تاہم حال ہی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے جو مذہبی انتہا پسندی کی نشانی ہے اور ہم اس پر یقینی طور پر پابندی عائد کرنے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2019 میں گرجا گھروں اور ہوٹلز پر عسکریت پسندوں کی جانب سے دھماکوں کے بعد بدھ مت کے اکثریتی ملک میں برقع پہننے پر عارضی پابندی عائد کردی گئی تھی۔
بعد ازاں اسی سال کے آخر میں بطور سیکریٹری دفاع ملک کے شمالی حصے میں دہائیوں سے جاری شورش کا خاتمہ کرنے پر جانے جانے والے گوٹابایا راجاپاکسا عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے وعدے کے بعد صدر منتخب ہوگئے تھے۔
گوٹابایا راجاپاکسا پر جنگ کے دوران انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کا الزام تھا تاہم وہ ان الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں.
سارتھ ویراسکیرا کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہزار سے زائد مدرسہ اسلامک اسکولوں پر پابندی کا بھی ارادہ ہے جو ان کے بقول قومی تعلیمی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کوئی اسکول نہیں کھول سکتا اور بچوں کو جو مرضی چاہے پڑھا نہیں سکتا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے برقع اور اسلامک اسکولوں پر پابندی کا منصوبہ گزشتہ سال جاری کیے گئے اس حکم کے بعد سامنے آیا جس میں کووڈ 19 سے مرنے والے مسلمانوں کی میت کو جلانا لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم امریکا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد رواں سال اس پابندی کو ہٹا دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل چند یورپی ممالک میں مسلمانوں خاص طور پر خواتین کے نقاب پر پابندی کے لیے کوششیں کی گئی تھیں، حال ہی میں یورپی ملک سوئٹزرلینڈ میں عوامی مقامات پر چہرے کو مکمل ڈھانپنے پر پابندی سے متعلق تجویز کی حمایت کی گئی تھی۔
اس سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم میں سرکاری نتائج کے مطابق 51.21 فیصد رائے دہندگان اس تجویز کی حمایت کی تھی۔


مشہور خبریں۔
امریکی عہدیدار کی ایران کے خلاف ہرزہ سرائی
?️ 14 مارچ 2023سچ خبریں:امریکہ کے سابق نائب صدر نے منافقین اور دیگر انقلاب مخالف
مارچ
نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر رضامندی ظاہر کر دی
?️ 1 جنوری 2026 نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر رضامندی
سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز ہے، کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہیں، وزیراعظم
?️ 7 اکتوبر 2025کوالا لمپور: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ
اکتوبر
بی جے پی حکومت ایک منصوبہ بند طریقے سے کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہی ہے: سول سوسائٹی
?️ 17 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
اپریل
وزیراعظم کا بڑا اعلان؛ صنعتوں کے لیے بجلی سستی کردی
?️ 30 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری اور صنعتوں
جنوری
وزیراعظم کا عمرشریف کے انتقال پر تعزیتی پیغام
?️ 2 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کامیڈین اداکار عمرشریف کے
اکتوبر
بجلی کی کمپنیاں مئی میں عوام سے مزید 30ارب وصولی کیلئے تیار
?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مہنگائی میں نہ ختم ہونے والے اضافے کے ساتھ
جون
فلسطینی صحافی کے قتل کے بارے میں اقوام متحدہ کا بیان
?️ 28 جون 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ
جون