?️
سچ خبریں: عرب جغرافیائی و سیاسی امور کی ماہر غادہ حب اللہ نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کی حالیہ تقریر کو محض ایک عام سیاسی بیان سے کہیں بڑھ کر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک جامع خطاب تھا جس میں عقیدتی بنیادوں کے ساتھ ساتھ بڑے جغرافیائی و سیاسی پہلوؤں (سیاست، طاقت اور بین الاقوامی تعلقات) کا بھی احاطہ کیا گیا، اور جس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تبدیلیوں کے تناظر میں حزب اللہ کی لبنان اور خطے میں حیثیت کو نئے انداز سے متعین کیا ہے۔
مزاحمت اور غلبے کے دو متضاد منصوبے
14 خرداد (4 جون) کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر شیخ نعیم قاسم کی تقریر کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر غادہ حب اللہ نے کہا کہ یہ خطاب مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ حالات میں "مزاحمت” کے مقام کی نئی تعریف پیش کرتا ہے۔
ان کے مطابق، عام سیاسی تقاریر کے برعکس جو زمینی حقائق یا مذاکراتی مطالبات پر مرکوز ہوتی ہیں، شیخ نعیم قاسم نے امام خمینیؒ اور ایرانی انقلاب کے فکری اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تنازعے کو صرف سرحدی یا عسکری زاویے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے اس کشمکش کو دو متضاد منصوبوں کے درمیان تاریخی تصادم قرار دیا:
- مزاحمت اور خودمختاری کا منصوبہ۔
- امریکی-صہیونی بالادستی اور غلبے کا منصوبہ۔
غدیرِ خم کی علامتی اور سیاسی اہمیت
ڈاکٹر حب اللہ کے مطابق اس تقریر کی اہمیت صرف امام خمینیؒ کے ذکر میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ یہ عیدِ غدیرِ خم کے موقع پر کی گئی۔
شیعہ اثناعشری عقیدے میں غدیرِ خم کو ولایت اور امامت کے تصور کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جہاں حضرت علیؑ کو رسولِ اکرم ﷺ کے جانشین کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس تناظر میں غدیر کا ذکر محض ایک مذہبی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے اخلاقی اور روحانی نظامِ اقدار کی تجدید کے طور پر سامنے آتا ہے جس میں قیادت کا تعلق عدل، مظلوموں کے دفاع اور ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے سے ہے۔
مذہبی وابستگی اور قومی شناخت
اس تقریر میں مکتبِ اہلِ بیتؑ سے وابستگی کو قومی شناخت کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ وطن اور قومی خودمختاری کے دفاع کو مضبوط بنانے والی اخلاقی و روحانی قوت کے طور پر پیش کیا گیا۔
غادہ حب اللہ کے مطابق حزب اللہ کا مؤقف یہ ہے کہ اہلِ بیتؑ کے اصولوں سے وابستگی اور لبنان سے محبت و دفاع کے درمیان کوئی تضاد نہیں، بلکہ اسلامی مزاحمت ان دونوں کے امتزاج کا عملی مظہر ہے۔
اسی لیے امام حسینؑ اور امام خمینیؒ کا ذکر لبنانی ریاست کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ قبضے اور جارحیت کے خلاف اخلاقی تحریک کے سرچشمے کے طور پر کیا گیا۔
لبنان میں جاری صورتحال صرف لبنانی-اسرائیلی تنازعہ نہیں
جغرافیائی و سیاسی نقطۂ نظر سے یہ تقریر اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ لبنان میں جاری حالات صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی تشکیلِ نو کا حصہ ہیں۔
اسی بنیاد پر شیخ نعیم قاسم نے جسے انہوں نے "واشنگٹن اعلامیہ” قرار دیا، اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سکیورٹی یا سیاسی منصوبہ نہیں بلکہ لبنان کو ایک ایسے نئے علاقائی توازن میں ضم کرنے کا روڈ میپ ہے جو اسرائیل کو مستقل تزویراتی برتری فراہم کرے گا۔
خودمختاری کا مختلف تصور
تقریر میں "حاکمیت” یا خودمختاری کا تصور مغربی سیاسی فکر سے مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔
مغربی نقطۂ نظر میں خودمختاری کا مطلب عام طور پر ریاست کی جانب سے اسلحے پر مکمل اجارہ داری سمجھا جاتا ہے، جبکہ حزب اللہ کے مطابق حقیقی خودمختاری اس صلاحیت کا نام ہے جو اسرائیل کو باز رکھنے اور اس کی شرائط لبنان پر مسلط ہونے سے روک سکے۔
اسی وجہ سے حزب اللہ کے نزدیک مزاحمت کو غیر مسلح کرنا ریاست کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے کا راستہ ہے۔
ایران اور لبنان کے محاذوں کا تعلق
تقریر میں ایران اور لبنان کے محاذوں کے باہمی تعلق پر بھی واضح زور دیا گیا۔
ایران کی جانب سے مزاحمت کی حمایت پر اظہارِ تشکر کو محض سفارتی آداب نہیں بلکہ ایک ایسے تزویراتی تصور کا حصہ قرار دیا گیا جس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ اور کثیر جہتی محاذ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
یہ نظریہ حالیہ برسوں میں "وحدتِ محاذات”کے تصور کے طور پر مزاحمتی محور کی فکری بنیادوں میں شامل ہو چکا ہے۔
واشنگٹن اعلامیہ پر اعتراضات
حزب اللہ کے مطابق واشنگٹن اعلامیہ صرف مزاحمت کے اسلحے کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ لبنان-اسرائیل تنازعے کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کرتا ہے۔
ڈاکٹر حب اللہ کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں:
- اسرائیلی افواج کے لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں۔
- سرحدی دیہاتوں کے بے گھر افراد کی واپسی کے لیے کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں۔
- لبنانی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں کوئی واضح اور لازمی شق شامل نہیں۔
اسی لیے حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ لبنان کو قبضے سے آزادی کی طرف نہیں بلکہ کھلی جنگ سے ایک منجمد اور منظم تنازعے کی طرف لے جائے گا۔
جنوبی لبنان اور داخلی تقسیم کا خدشہ
تقریر میں جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی سے متعلق تجاویز پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
شیخ نعیم قاسم نے لبنانی فوج اور اس کے قومی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا، لیکن خدشہ ظاہر کیا کہ بعض علاقوں میں نئی سکیورٹی ترتیبات ایسی حدبندیوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں جو مزاحمت کی عسکری سرگرمیوں کو محدود کر دیں، جبکہ لبنانی ریاست اسرائیل کو انخلا پر مجبور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔
ان کے مطابق ایسی صورتحال میں دوہرا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے:
- اسرائیل نسبتاً پُرسکون ماحول سے فائدہ اٹھا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لے۔
- لبنان کے اندر اس مسئلے پر سیاسی و سماجی تقسیم مزید گہری ہو جائے۔
حزب اللہ کے نزدیک یہ صورتحال داخلی اختلافات اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
حزب اللہ کی ترجیحات
اس تقریر میں درج ذیل امور کو اولین ترجیح قرار دیا گیا:
- اسرائیلی جارحیت کا مکمل خاتمہ۔
- تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا۔
- بے گھر افراد کی اپنے دیہاتوں میں واپسی۔
- لبنانی قیدیوں کی رہائی۔
- تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو۔
حزب اللہ کے مطابق پائیدار استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قبضہ اور بنیادی تنازعہ برقرار رہے۔
اختتامی تجزیہ
غادہ حب اللہ کے مطابق شیخ نعیم قاسم کی یہ تقریر محض مذاکراتی یا مصالحانہ خطاب نہیں تھی بلکہ تنازعے کی نئی تعریف پیش کرنے کی کوشش تھی۔
اس میں مسئلہ صرف جنگ بندی یا اسرائیلی انخلا تک محدود نہیں بلکہ لبنان اور خطے کی سیاسی مساوات میں مزاحمت کے کردار سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ان کے مطابق اس تقریر کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ لبنان میں پائیدار امن اور حقیقی استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان قوتوں کو ختم نہ کیا جائے جنہیں معاشرے کا ایک بڑا حصہ اپنی سرزمین، خودمختاری اور آزادی کے دفاع کی ضمانت سمجھتا ہے۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کا کولمبیا کے صدر کے خلاف بھڑکے
?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: نتن یاہو نے سوشل نیٹ ورک پر لکھا کہ اسرائیل
مئی
جسٹس صلاح الدین پنہورکابینچ کا حصہ بننے سے معذرت، مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا
?️ 27 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) جسٹس صلاح الدین پنہورکا بینچ کا حصہ بننے
جون
واشنگٹن سے تل ابیب تک اسلحے کا فضائی پل
?️ 26 جولائی 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا کے مطابق امریکہ نے درجنوں ایندھن بردار طیاروں، جنگی
جولائی
ارشد شریف قتل کیس: گواہان کی عدم پیشی پر کیس کی کارروائی روک دی گئی
?️ 20 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے
ستمبر
Bill Gates’ iconic donkey game arrives on iPhone, Apple Watch
?️ 6 اگست 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
اسد قیصر کا فارم 47 سے متعلق مطالبہ
?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے الیکشن کمیشن سے
جولائی
مقاومت کس طرح خطے کا کمپاس بن گئی؟ / صہیونی منصوبے کی تباہی پہلے سے کہیں زیادہ
?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں: اس حقیقت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ
اکتوبر
پاکستان کا اسرائیلی متنازع قانون پر رد عمل، عالمی برادری اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے
?️ 24 اکتوبر 2025پاکستان کا اسرائیلی متنازع قانون پر رد عمل، عالمی برادری اسرائیل کو
اکتوبر