?️
سچ خبریں: امریکی تھنک ٹینک کے ایک نئے سروے اور تجزیے کے مطابق، امریکی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نہ صرف امریکہ کے لیے کوئی واضح فائدہ نہیں لائی بلکہ اس کے معاشی، سیاسی اور سلامتی سے متعلق اخراجات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کی مخالفت صرف ڈیموکریٹ ووٹروں تک محدود نہیں، بلکہ آزاد خیال (انڈیپنڈنٹ) ووٹروں اور بعض ریپبلکن حامیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس تنازعے کے تسلسل کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے معاشی اثرات پر عوامی تشویش
رپورٹ کی ایک اہم ترین دریافت یہ ہے کہ امریکی عوام جنگ کے معاشی نتائج کے بارے میں شدید تشویش رکھتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی سست روی کے خدشات نے بہت سے امریکیوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ جنگ نے ملک کی اقتصادی صورتحال کو کمزور کیا ہے۔
خصوصاً پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ان کے گھریلو بجٹ پر اثرات ایسے موضوعات ہیں جن کا سروے میں بار بار ذکر کیا گیا۔
جنگی اہداف کے بارے میں ابہام
بروکنگز کی رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ حکومت جنگ کے مقاصد کو واضح طور پر بیان کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بہت سے شرکاء نے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس تنازعے سے امریکی قومی سلامتی کو کیا فائدہ پہنچے گا اور آیا اس پر اٹھنے والے اخراجات اس کے ممکنہ نتائج کے مطابق ہیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال عراق جنگ کی یاد دلاتی ہے، جسے برسوں بعد بھی امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد غلط فیصلہ قرار دیتی رہی۔
امریکی معاشرے میں سیاسی تقسیم
رپورٹ کا ایک اور اہم نکتہ امریکی معاشرے میں موجود سیاسی اختلاف ہے۔
ریپبلکن ووٹر دیگر گروہوں کے مقابلے میں فوجی کارروائی کی نسبتاً زیادہ حمایت کرتے ہیں، تاہم ان کے اندر بھی جنگ کے طویل ہونے اور اس کے پھیلنے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس، ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹر فوجی تصادم کے بارے میں زیادہ منفی رائے رکھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ بحران کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
بیرونی جنگوں سے امریکی عوام کی تھکن
بروکنگز نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ امریکی معاشرہ بیرونِ ملک جنگوں سے تھک چکا ہے۔
افغانستان اور عراق میں دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگوں نے فوجی مداخلتوں پر عوامی اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔ بہت سے امریکیوں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو اپنے وسائل معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات جیسے اندرونی مسائل پر خرچ کرنے چاہئیں، نہ کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگوں پر۔
یہ رجحان خاص طور پر نوجوان نسل اور آزاد ووٹروں میں زیادہ نمایاں ہے۔
سفارت کاری کو ترجیح
رپورٹ کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی دباؤ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسی جنگ کے ذریعے جس کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے غیر متوقع اور بھاری اخراجات ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر امریکہ کی پوزیشن پر اثرات
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنگ کا تسلسل امریکہ کے بین الاقوامی مقام کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
کئی شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک طویل جنگ امریکی فوجی اور معاشی وسائل کو کمزور کر دے گی اور واشنگٹن کی توجہ دنیا کے دیگر اہم تزویراتی مقابلوں سے ہٹا دے گی۔
بروکنگز کا نتیجہ
بروکنگز کے مطابق امریکی عوام فوجی فتح سے زیادہ بحران کے جلد خاتمے اور سیاسی حل کے خواہاں ہیں۔
بہت سے امریکی شہریوں کے نزدیک حقیقی کامیابی جنگ کو جاری رکھنے میں نہیں بلکہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور امریکہ و خطے کے لیے انسانی و معاشی نقصانات کو کم کرنے میں ہے۔


مشہور خبریں۔
The Softest, Prettiest Highlighters You Should Already Be Using
?️ 16 اگست 2022 When we get out of the glass bottle of our ego
ایران کا صیہونی جوہری تحقیقی ادارے پر حملہ؛ دہائیوں کی تحقیقات لمحوں میں خاکستر
?️ 18 جون 2025 سچ خبریں:تل ابیب میں واقع صہیونی ریاست کا سائنسی فخر وایزمن
جون
امریکی صدارتی امیداوار کا نیٹو کو مضبوط کرنے کا عجیب وعدہ
?️ 20 فروری 2024سچ خبریں: امریکی صدارتی انتخابات کی ریپبلکن امیدوار نے ایک عجیب تبصرہ
فروری
زیر التواء مقدمات کا معاملہ،چیف جسٹس نے اہم اجلاس کل طلب کر لیا
?️ 19 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان نے اہم اجلاس کل طلب کر
ستمبر
ٹی ٹی پی نے ریڈ لائن عبور کی تو ہرگِز برداشت نہیں کریں گے، بلاول بھٹو
?️ 22 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک انداز میں
دسمبر
جنگ کے بعد یوکرین ہو گا تو نیٹو میں شامل کریں گے نا
?️ 18 جولائی 2023سچ خبریں: روس کے ساتھ جنگ کے بعد سے اب تک ڈیڑھ
جولائی
اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان
?️ 16 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے
دسمبر
کوئی نہیں جانتا کہ نصراللہ کیا سوچ رہے ہیں:اسرائیلی میڈیا
?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ اس
ستمبر