?️
سچ خبریں: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی واضح عدم اتفاق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے دباؤ کے باوجود لندن ان دباؤ میں نہیں آئے گا اور برطانیہ کے قومی مفاد کے مطابق عمل کرے گا۔
اسٹارمر نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق صورت حال اور اس کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "ہم ایران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "اس کے معاشی اثرات ابھی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ صورت حال کتنی دیر تک جاری رہتی ہے، یہ فیصلہ کن ہو گا۔ اگر یہ تنازع مزید معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے تو اس کے اثرات وسیع ہوں گے۔ یہ پہلے ہی عالمی معیشتوں پر اثر انداز ہو چکا ہے۔”
برطانوی وزیر اعظم نے اس بحران کے انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: "اسی لیے ہمیں اس معاملے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ ایک سنگین صورت حال ہے اور اس کے خاتمے کا طریقہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔”
اسٹارمر نے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنی حکومت کے موقف کے بارے میں واضح کہا: "میں نے پوری وضاحت کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ ہمارے ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: "میں نے عراق جنگ کے تجربے کو دیکھا اور اس سے سبق سیکھا۔ ایسی جنگ میں شامل ہونا ہمارے مفاد میں نہیں ہے اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔”
برطانوی وزیر اعظم نے اس موقف کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "بلا شبہ مختلف ذرائع سے بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا، خواہ ملک کے اندر سے ہو یا باہر سے۔ لیکن مجھے قومی مفاد پر توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ ہم جنگ میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔”
انہوں نے جاری رکھا: "ان میں سے بہت سے بیانات اور طرز عمل کا مقصد مجھ پر دباؤ ڈالنا تھا کہ میں اپنا موقف تبدیل کروں، لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے ملک کے قومی مفاد کے مطابق عمل کرنا ہے۔”
اسٹارمر نے زور دے کر کہا: "میں پوری وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس معاملے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میں ان اقدار اور اصولوں کے مطابق عمل کروں گا جن کا میں پابند ہوں، اور کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں اپنے ملک کے قومی مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ کروں گا۔”
انہوں نے اپنی حکومت کے حتمی موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "یہ بالکل واضح ہے کہ ہمارے مفادات کا تقاضا ہے کہ ہم جنگ میں شامل نہ ہوں۔ میں اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گا۔ مختصر یہ کہ بات ختم۔”
اسٹارمر نے انٹرویو کے ایک اور حصے میں ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر امریکی صدر کے ساتھ اپنی عدم اتفاق کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے کہا: "میں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ہم جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، اور نتیجتاً میرے اور صدر ٹرمپ کے درمیان ایک واضح عدم اتفاق ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: "میری سمجھ یہ ہے کہ (امریکی صدر کے) ان میں سے بہت سے بیانات اور طرز عمل کا مقصد مجھ پر دباؤ ڈالنا تھا کہ میں اپنا موقف تبدیل کروں، لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے ملک کے قومی مفاد کے مطابق عمل کرنا ہے۔”
برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا: "میں اچھے تعلقات چاہتا تھا اور اب بھی اچھے تعلقات چاہتا ہوں۔ لیکن میں پوری وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس معاملے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔”
انہوں نے جاری رکھا: "یہ واضح ہے کہ مختلف پہلوؤں سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، لیکن میں دباؤ میں آ کر ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔”


مشہور خبریں۔
پاکستان میں بھارت کی جدید اسرائیلی ڈرونز سے دراندازی، فورسز نے 26 ہیروپ ڈرون مار گرائے
?️ 8 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت نے پاکستان میں جدید اسرائیلی ڈرونز سے
مئی
ایرانی ڈرون کھیل کا نقشہ بدل سکتے ہیں:صیہونی اخبار
?️ 27 دسمبر 2021سچ خبریں:صہیونی اخبار نے لکھا ہے کہ ایران کے نئے لانچرز اور
دسمبر
ڈیمونا دستاویزات؛ یوں ایران نے اسرائیل کا گلا دبا دیا
?️ 9 جون 2025سچ خبریں: ایران کے اعلان کے بعد کہ اس کی انٹیلی جنس
جون
افغانستان میں نظافتی امورکے لیے 500 ملین ڈالر درکار: اقوام متحدہ
?️ 26 مئی 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے دفتر نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ زندگی
مئی
صہیونیوں کی غزہ کی جنگ میں ناکامی کے ڈراؤنے خواب سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد
?️ 15 فروری 2024سچ خبریں: ایک سینئر عرب تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ صیہونی
فروری
بائیڈن کو امریکی انتخابات کے پرامن انعقاد پر شک
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے صدر نے، جو اس ملک کے نومبر میں
اکتوبر
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی دہشت گردی جاری، بین الاقوامی میڈیا کی عمارت کو تباہ کردیا گیا
?️ 16 مئی 2021غزہ (سچ خبریں) غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے مسلسل
مئی
صہیونی صحافی: ہم جنگ کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں
?️ 16 جون 2025سچ خبریں: ایک صیہونی صحافی نے ایران کے خلاف قابض حکومت کی
جون