غزہ میں قحط کی وجہ سے فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل

بھوک

?️

غزہ میں قحط کی وجہ سے فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق کے بعد کہا ہے کہ اب صرف الفاظ نہیں بلکہ فوری عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کے عوام کو بچانے کے لیے فوری جنگ بندی اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کے ڈپٹی ترجمان ڈینیلا گروس کے مطابق گوتریش نے کہا کہ جب ایسا لگتا ہے کہ غزہ کے زندہ جہنم کو بیان کرنے کے لیے مزید الفاظ باقی نہیں رہے، ایک نیا لفظ شامل ہوا ہے: قحط۔ ان کے بقول یہ کوئی معمّا نہیں بلکہ انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی تباہی ہے، ایک اخلاقی ناکامی اور انسانیت کی شکست۔
گوتریش نے مزید کہا کہ لوگ بھوکے ہیں، بچے مر رہے ہیں اور جو قیادتیں عمل کرنے کی ذمہ دار ہیں وہ ناکام ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بطور قابض قوت بین الاقوامی قوانین کے مطابق خوراک اور طبی سامان فراہم کرنے کا پابند ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس المیے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وقت کل نہیں بلکہ آج ہے۔ اب کسی بہانے کی گنجائش نہیں بچی۔ فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور وسیع پیمانے پر انسانی امداد تک رسائی لازمی ہے۔
ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی امور (OCHA) بھی بار بار متنبہ کر رہا ہے کہ عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حملوں میں شدت آنے کے بعد غزہ کے اسپتالوں میں زخمیوں کی آمد بے قابو ہو گئی ہے۔ صرف گذشتہ رات جبالیہ اور دیگر علاقوں پر شدید بمباری کے بعد تقریباً ۹۰۰ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
اقوام متحدہ نے فریقین کو یاد دہانی کرائی ہے کہ جنگی قوانین کے تحت عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کا تحفظ لازمی ہے۔ متاثرہ افراد کو محفوظ ہجرت اور واپسی کے حق کی ضمانت دینا ہوگی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے نصف سے زائد اسپتال تباہی کے دہانے پر ہیں جبکہ جنوبی علاقے کے مراکز کئی گنا زائد بوجھ تلے کام کر رہے ہیں۔ اگر فوری اقدام نہ ہوا تو بچائی جا سکنے والی اموات میں اضافہ ہوگا۔
ادارہ آئی پی سی (IPC) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر جہاں پانچ لاکھ افراد بستے ہیں قحط میں داخل ہو چکا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں یہی صورتحال دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں بشمول ایف اے او، ڈبلیو ایف پی، یونیسف اور ڈبلیو ایچ او نے مشترکہ بیان میں کہا کہ قحط انسانی جانیں لے رہا ہے، خاص طور پر بچے شدید بھوک اور غذائی قلت کے نشانے پر ہیں۔ ان اداروں نے ایک بار پھر اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور امدادی راستے کھولے جائیں۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کی جانب سے شام پر سے پابندیاں باضابطہ طور پر ہٹا دی گئیں

?️ 1 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے

یورپ میں گیس کی قیمت 3 سال کی بلند ترین سطح پر

?️ 2 ستمبر 2026سچ خبریں:یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں 3 سال کی بلند ترین

گوگل سرچ کا نیا فیچر تمام صارفین کو دستیاب

?️ 17 اپریل 2021نیویارک(سچ خبریں) گوگل نے اپنے سرچ انجن کے لیے ایک نئے شارٹ

امریکہ کی پابندیوں کی حکمت عملیوں کے خلاف چین کا جوابی منصوبہ

?️ 28 اپریل 2023سچ خبریں:اتوار 23 اپریل 2023 کو بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے

آئی ایم ایف کی ہدایات پر سیلابی نقصانات کا نظرثانی شدہ ابتدائی تخمینہ تیار، نقصانات 700 ارب تک پہنچ گئے

?️ 2 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف

بچوں کے لیے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون تیار کر لیا گیا

?️ 21 اپریل 2021نیویارک(سچ خبریں) بچوں کے لیے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون تیار کرلیا

ہسپانوی دارالحکومت میں ہزاروں افراد نے ایران میں "جنگ نہیں” کے نعرے لگائے

?️ 22 مارچ 2026سچ خبریں: ہسپانوی دارالحکومت سے تقریباً 4000 افراد نے ایران کے خلاف

صیہونی آبادکاروں کا مسجد الاقصیٰ پر حملہ

?️ 5 مئی 2026سچ خبریں:یروشلم میں تاریخی اور قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کوششوں کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے