یمن میں رمضان؛ جنگ زدہ حالات کے باوجود تسلیم نہ ہونے والی قوم اور عید الفطر کے استقبال کا روح پرور منظر

یمن میں رمضان؛ جنگ زدہ حالات کے باوجود تسلیم نہ ہونے والی قوم اور عید الفطر کے استقبال کا روح پرور منظر

?️

سچ خبریں:یمن میں رمضان المبارک ہر سال ایک ایسے ماحول میں آتا ہے، جہاں معاشی مشکلات، جنگی حالات اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی پائی جاتی ہے لیکن ان سب کے باوجود، یمن کے عوام رمضان کا استقبال نہایت روحانی، پُر امید اور مزاحمت بھرے جذبے کے ساتھ کرتے ہیں۔  

صنعا کی رہائشی ام انس کہتی ہیں:  ماہ رمضان میں، چاہے حالات جتنے بھی سخت ہوں، ہمیں قناعت پسند، مزاحم اور باوقار رہنا ہے۔ ہمیں ان حالات کے آگے جھکنا نہیں بلکہ ان کا سامنا کرنا ہے۔
 رمضان کی روحانی عظمت اور یمنی سماج کی اجتماعی عبادت
دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح، یمنی مسلمان بھی رمضان کو ایک ایسا مہینہ سمجھتے ہیں جو روح کی پاکیزگی، دعا، استغفار اور باہمی اتحاد کا مہینہ ہے۔ یمن میں لوگ سحر و افطار کے لیے عبادت گاہوں، گلیوں اور گھروں میں جمع ہوتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔
رمضان کے دوران قرآن کی تلاوت، اجتماعی افطاری، شب بیداری اور خیرات یمنی کلچر کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ صنعا اور دیگر شہروں میں رمضان سے قبل گھروں، مساجد اور گلیوں کی صفائی اور تزئین کی جاتی ہے۔ بچے، خواتین اور بزرگ سب مل کر رمضان کا استقبال کرتے ہیں، گویا کوئی عظیم مہمان آنے والا ہو۔
 صنعا کی روشنیوں سے چمکتے چہرے
ام عبدالرحمن کہتی ہیں: ہم رمضان کی آمد پر اپنے کمروں کو چراغوں اور فانوسوں سے سجاتے ہیں۔ بچے خوشی سے گلی گلی گھومتے ہیں، مساجد میں افطاری کی تیاری کرتے ہیں اور ہر طرف روحانی و خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔
رمضان میں کھانے کا تبادلہ، شب نشینی، قہوہ خانوں میں میل ملاقات، یہ سب یمنی رمضان کی خوبصورتی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے میں صدقات، خیرات اور ہمسایوں کے ساتھ کھانے کی تقسیم، یمن میں معاشرتی قربت کو فروغ دیتی ہے۔
 سختیوں میں بھی سکون و امید
سلطان ثابت، جو تعز صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، کہتے ہیں:جنگی حالات کے باوجود رمضان میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ٹی وی پر رمضان اسپیشل پروگرام، اجتماعی افطار، دوستوں سے ملاقات اور دعاؤں کی محفلیں، سب کچھ اس ماہ کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔
ہدیٰ الاحمدی جو تعز کے مضافات میں رہتی ہیں، کہتی ہیں:
 رمضان اللہ کی رحمت ہے، اس میں سکون قلب اور روحانی ثبات نصیب ہوتا ہے۔ لوگ آپس میں مل بیٹھتے ہیں، اچھے کام کرتے ہیں، اور مستحقین کی مدد کرتے ہیں۔
 عید کی جانب بچوں کا شوق
رمضان کی اختتامی رات، بچوں کے لیے سب سے زیادہ پرجوش ہوتی ہے۔ وہ نئے کپڑے پہن کر سو جاتے ہیں، تاکہ صبح عید کی نماز کے لیے تیار ہوں۔ یمن میں عید کے کپڑے خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اور اس روایت کو آج بھی بھرپور انداز میں زندہ رکھا گیا ہے۔
یمن کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ غربت، جنگ اور مصیبتیں ان کے ایمان، روحانی وابستگی اور اجتماعی قوت ارادی کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ رمضان ان کے لیے صرف ایک دینی فریضہ نہیں بلکہ ثبات، قربانی، سماجی ہم آہنگی اور اخوت کا درس ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا غزہ میں جنگ بندی نیتن یاہو کی سیاسی خودکشی ہو گی؟

?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ میں جنگ کے تناظر میں اپنے جائزے میں، اسرائیل

الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں ہماری اولین ترجیح ہے

?️ 16 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا سے گفتگو

ایران کی خلیج فارس میں سفارتی حکمت عملی

?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایران نے گزشتہ حکومت سے ہی ہمسایہ ممالک کے ساتھ

ماہرین، کم وزن ہونا شوگر سے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں ہے

?️ 19 فروری 2021لاہور {سچ خبریں} ماہرین کے مطابق اگر کئی قسم کے رسک فیکٹرز

عمران خان کی ذاتی معالج سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد

?️ 7 فروری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان

لبنان میں مزاحمتی رہنما کی شہادت کی پہلی برسی کی تفصیلات

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے ملک میں شہیدوں سید حسن

مظاہرین کے خلاف تشدد پر نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ دائر

?️ 28 فروری 2023سچ خبریں:عبوری صیہونی حکومت میں اقتدار کی کشمکش اور سیاسی کشیدگی کے

آئی ایم ایف کا پھر سے "ڈو مور” کا مطالبہ

?️ 31 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کا پھر سے "ڈو مور” کا مطالبہ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے