یمنی ڈرونز اور انہیں گرانے والے امریکی میزائلوں کی قیمت

یمنی

?️

سچ خبریں: پینٹاگون کو یمنی ڈرونز کو گرانے والے میزائلوں کے اخراجات پر تشویش ہے ، وہ ان اخراجات کو تشویشناک سمجھتا ہے۔

امریکن پولیٹیکو ویب سائٹ نے پینٹاگون حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یمنی ڈرونز کو گرانے والے میزائلوں کی بھاری قیمت پر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو سخت تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی کشتیوں پر حملے روکنے کے لیے یمنی حکومت کی شرط

پولیٹیکو نے زور دے کر کہا کہ 2000 ڈالر کے ڈرون کو مار گرانے کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا میزائل استعمال کیا جاتا ہے۔

پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران بحیرہ احمر میں 38 ڈرونز اور میزائل مار گرائے ہیں۔

ماہرین کے حوالے سے پولیٹیکو نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی ڈرونز کو مار گرانے کی لاگت کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور امریکہ کو سستے آپشنز کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

اس خبر رساں ایجنسی نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے تاکید کی ہے کہ 19 ممالک بشمول بعض عرب اتحادیوں نے بحیرہ احمر میں امریکی بحری اتحاد میں شامل ہو کر اس علاقے میں بحری جہازوں کی مدد کی۔

ایک گھنٹہ قبل، وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں کثیر القومی آپریشن بحیرہ احمر میں یمنی افواج کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کرے گا۔

کربی نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اس وقت یمنی افواج کی صورت حال کی تحقیقات کر رہے ہیں، لیکن ہم نے ابھی تک حوثی فورسز کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

کربی کے مطابق بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکہ اور اس کے شراکت داروں سے جو ہو سکے گا کریں گے۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ میری ٹائم ٹاسک فورس ایک کثیر القومی سلامتی کا اقدام ہے جو بحری نگرانی اور جہازوں کے دفاع کا کام کرتی ہے،اس ٹاسک فورس میں شامل ہونے والے ممالک کے بحری جہاز اور طیارے بحیرہ احمر میں امریکی افواج کے ساتھ تعاون کریں گے،اس فورس کے ذریعہ سمندری جہازوں کا دفاع کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: یمنی ڈرون کے ذریعہ امریکی دفاعی ڈھال تباہ

وائٹ ہاؤس کے اسٹریٹجک کمیونیکیشنز کوآرڈینیٹر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور اس کے شراکت دار بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے جو ضروری ہوگا کریں گے نیز واشنگٹن کو امید ہے کہ بحیرہ احمر میں دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ جان لے؛ ایران کے خلاف ہر دھمکی، جنگی اقدام ہے

?️ 25 مارچ 2026سچ خبریں: پاسداران انقلاب کے فضائیہ کے کمانڈر نے ایکس پر لکھا:

اسلام آباد کے ساتھ ریاض کے فوجی معاہدے پر بن سلمان کا ردعمل

?️ 19 ستمبر 2025سچ خبریں: سعودی وزیر دفاع نے اپنے ملک اور پاکستان کے درمیان

موجودہ حالات میں نیوکلیئر سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے۔ مسعود خالد

?️ 12 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سابق سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ

بینائی متاثر کرنے والے انجکشن منتقلی کے دوران آلودہ ہوگئے تھے، نگران وزیر صحت پنجاب

?️ 17 اکتوبر 2023لاہور:(سچ خبریں) پنجاب کے نگران وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کیلئے ’پیچیدہ مذاکرات‘ کا رواں ماہ آغاز متوقع

?️ 11 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اپنی کمزور معیشت کو سہارا دینے میں

زیلنسکی کو عدالت کے چکر لگانا ہوں گے:روس

?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف نے کہا کہ

ایران سعودی عرب تعلقات میں ترقی کا اہم موڑ

?️ 19 اپریل 2025سچ خبریں: تہران کے دورے پر گئے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان

بلوچستان میں سیاسی بحران اسی طرح باقی ہے

?️ 25 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے حریفوں کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے