?️
سچ خبریں: غزہ میں اسرائیلی جرائم بند ہونے تک صیہونی جہازوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلیٰ یمنی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے صرف اسرائیلی جہازوں پر ہوں گے۔
المیادین نیوز چینل کی ویب سائٹ کے مطابق یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن علی القحوم نے مسئلہ فلسطین کے بارے میں اپنے ملک کے موقف پر تاکید کرتے ہوئے اسرائیلی جہازوں اور امریکی اور مغربی تباہ کن طیاروں کے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ میں یمنیوں کا پلڑا بھاری
القحوم نے کہا کہ یمنی حکومت کا موقف بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں بڑی کاروائیوں کے ذریعے فلسطین کے اطراف میں ممکنہ اور حقیقی موجودگی ہے جس سے اسرائیلیوں اور امریکیوں کو تشویش ہے۔
انہوں نے ایکس ورچوئل پیج (سابق ٹویٹر) پر اپنے کالم میں لکھا ہے کہ یمن اور خطے کے خلاف ان کی مسلسل سازشوں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہنگامہ آرائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔
یمنی انصار اللہ کے اس اعلیٰ عہدیدار نے بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت کے بہانے بحیرہ احمر اور باب المندب میں یمنی ساحل کے سامنے امریکی اور مغربی افواج کی تعیناتی میں اضافے کی طرف اشارہ کیا اور تاکید کی کہ یہ اقدامات حملوں کو روکنے کی مایوس کن کوششیں ہیں جبکہ یمن کی حکومت اور رہنما اسرائیلی جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف امریکی جارحیت اور اس ملک کی ناکہ بندی نیز یمن کے ساحل کے سامنے آبنائے باب المندب میں فوجی موجودگی موجودہ صورتحال کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ جارحیت گزشتہ 9 سال سے جاری ہے۔
انصار اللہ کے اس عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکہ ہی ہے جو یمن کے ساحل پر اپنی فوجیں اور جنگی جہاز بھیج کر خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، اس ملک کی افواج کی خطے میں موجودگی جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ یہ حقیقت ہے کہ اسے خطے اور بین الاقوامی اور علاقائی خطرات کے درمیان سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کو یمنیوں کی اہم اور بنیادی ترجیحات میں سے ایک قرار دیا اور تاکید کی کہ یمن، خطے اور فلسطین کے خلاف امریکہ اور مغرب کے تمام معاندانہ اقدامات کے باوجود اپنی قومی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یمن کی تحریک انصار اللہ کے ایک اور رکن محمد البخیتی نے صیہونی حکومت کے حامیوں کو دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں یمنی فوج کی کارروائیاں اسرائیلی جہازوں تک محدود رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں انسانی اور اخلاقی اہداف کے ساتھ کی جاتی ہیں، جو ہر کسی پر عیاں ہیں اور اسرائیلی جہازوں کے علاوہ کسی کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: صیہونی یمنیوں کو اپنے لیے خطرہ کیوں سمجھتے ہیں؟
البخیتی نے X ورچوئل پیج پر لکھا ہے کہ اگر دنیا کی حکومتیں غزہ میں نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائیں تو ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مجرموں کی حمایت بھی نہ کریں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غاصب صیہونی حکومت کے خلاف یمنی افواج کی فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک یہ جرائم جاری رہیں گے،انہوں نے تاکید کی کہ اسرائیل کے اتحادیوں کی دھمکیاں ہمیں اس فیصلے سے باز نہیں رکھ سکیں گی اور اگر پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جائے تب بھی ہم ان قربانیوں کو جاری رکھیں گے۔


مشہور خبریں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا مطالبہ تسلیم، مدارس رجسٹریشن آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری
?️ 27 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے مولانا فضل الرحمٰن کا مطالبہ
دسمبر
بڑھتے ہوئے جرائم سے لڑنے کے بہانے واشنگٹن میں سینکڑوں گرفتار
?️ 18 اگست 2025سچ خبریں: امریکی اٹارنی جنرل نے اعلان کیا کہ واشنگٹن حکام نے
اگست
وزیر اعظم نے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی
?️ 1 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے شمسی توانائی سے بجلی
ستمبر
مشاف کے سائے میں اسرائیل کے پوشیدہ جرائم
?️ 22 اپریل 2025سچ خبریں: اردن اپنے جغرافیائی سیاسی محل وقوع، مقبوضہ فلسطین کے ساتھ
اپریل
مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کی انتہا
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:مغربی ممالک خاص طور پر اپنے آپ کو تہذیب اور رواداری
فروری
کیا نیتن یاہو نے غزہ میں اپنی شکست کا اعتراف کر لیا ہے؟
?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: نیتن یاہو نے اپنے الفاظ میں کسی نہ کسی طرح
مارچ
اسیر خاندانوں کی نظربندی فلسطینیوں کی مرضی کو نہیں توڑے گی
?️ 27 دسمبر 2021سچ خبریں: فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے رکن شیخ خضر عدنان نے پیر
دسمبر
بائیڈن انتظامیہ کو معطلی اسکینڈل سے بچانے کے لیے امریکی کانگریس کا بہانہ
?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان، رواں مالی سال کے اختتام سے محض چند
اکتوبر