ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں:صیہونی حلقے

صیہونی

?️

سچ خبریں:صیہونی مقبوضہ علاقوں میں اشتعال بڑھنے اور وزیر جنگ کی برطرفی کے بعد اس حکومت کے اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب ہمیں اب فوج اور داخلی سلامتی میں اس فیصلے سے آنے والے زلزلہ کا انتظار کرنا چاہیے۔

صیہونی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی عدالتی اصلاحات کے بعد صیہونی کابینہ میں پیدا ہونے والی صورت حال کو تسلیم کرتے ہوئے، اب لیکوڈ پارٹی کے اراکین میں تقسیم ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

اسی سلسلے میں صیہونی وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر جنگ یواف گیلنٹ کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے اس لییے کہ انہوں نے ہفتے کے روز نیتن یاہو کی متنازعہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کابینہ سے عدالتی اصلاحات کے پروگرام کو روکنے کی درخواست کی اور متنبہ کیا کہ جب تک یہ طریقہ کار جاری رہے گا، فوج اور دفاعی اداروں میں تقسیم جارہی رہے گی جس کے نتیجہ میں ہمارے سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اپنی ٹیلی ویژن تقریر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سڑک پر آنے والوں یا کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے اندر موجود افراد میں جس کی بھی جیت ہوگی اس کا نتیجہ صیہونی حکومت کے خاتمہ ہی ہوگا۔

اس سے قبل امریکی ویب سائٹ Axios نے صیہونی حکام کے حوالے سے نیتن یاہو اور گیلنٹ کے درمیان اختلافات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے متعدد بار وزیر جنگ پر اپنی اصلاحات کے حل میں رکاوٹ ڈالنے اور ان کے میڈیا موقف میں ہم آہنگی کے فقدان کا الزام لگایا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اب گیلنٹ پر بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ یہ حکمران اتحاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب صیہونی حکومت کی جعلی کابینہ سے گیلنٹ کی برطرفی کے بعد نیتن یاہو کے خلاف میڈیا نے وسیع ردعمل کا اظہار کیا، اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعت کے رہنما یائر لاپڈ نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ اس کاروائی سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا، کہا کہ نیتن یاہو صیہونی حکومت کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف اس طرح کے موقف کو لیبر پارٹی کے رہنما میراف میخائلی بھی اپنا چکے ہیں نیز اس حکومت کے سابق وزیر خزانہ اوگیڈور لیبرمین نے گیلنٹ کو برطرف کرنے کے نیتن یاہو کے فیصلے پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ "نیتن یاہو نے اپوزیشن کے منہ بند کرنے کا آمرانہ طریقہ اختیار کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

برطانوی وزیراعظم کی شہری مظاہروں کو محدود کرنے کی کوشش

?️ 17 جنوری 2023سچ خبریں:برطانوی وزیراعظم مختلف مظاہروں میں مظاہرین سے مقابلہ کرنے کے لیے

بانی پی ٹی ائی کے خلاف عدت میں نکاح کیس کی سماعت ملتوی

?️ 22 جون 2024سچ خبریں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی

امریکہ میں جمہوریت تباہ ہو رہی ہے:سابق امریکی وزیر خارجہ

?️ 20 جون 2022سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس ملک جمہوریت کھونے

جاپان کی حکمران جماعت تائیوان کے معاملے پر چین مخالف ریمارکس پر پیچھے ہٹ گئی

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: تائیوان کے معاملے پر چین اور جاپان کے درمیان حالیہ

?️ 7 مارچ 2022(سچ خبریں)لاہور میں جہانگیر ترین گروپ کا اہم اجلاس، جہانگیر ترین کے

صیہونی تجزیہ کار کی واشنگٹن اور تہران کے مفاہمت پر اسرائیل کے لیے خطرناک پیش گوئی

?️ 25 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی تجزیہ کار بن درر یمینی نے امریکہ اور ایران کے

ہم ’یہودی‘ نہیں مسلمان ہیں، ’سر راہ‘ ایجنڈا کے تحت نہیں بنا، منیب بٹ

?️ 22 مارچ 2023کراچی: (سچ خبریں) حال ہی میں نشر ہونے والے ڈرامے ’سر راہ‘

صہیونی جرائم فلسطینیوں میں خوف و ہراس کا باعث نہیں

?️ 26 جنوری 2023فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک نے مشرقی قلقیلیہ اور شعفاط کیمپ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے