?️
کیا ٹرمپ نیا ایٹمی ہتھیاروں کا مقابلہ شروع کرنے جا رہے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے بیان نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سلامتی میں آنے والی سب سے بڑی پالیسی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ نے 1992 سے اب تک کوئی مکمل ایٹمی دھماکہ نہیں کیا، اور اس تعطل نے گزشتہ تین دہائیوں میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کو سست، ماحولیاتی خدشات کو کم اور اسلحہ کنٹرول معاہدوں کو مضبوط کیا۔
یورپی تھنک ٹینک ’’ماڈرن ڈپلومیسی‘‘ کے مطابق ٹرمپ نے چین کے صدر سے ملاقات سے قبل اعلان کیا کہ پینٹاگون روس اور چین کے برابر ’’مساوی بنیاد‘‘ پر ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔ ان کے نزدیک روس کے نئے میزائل مظاہرے اور چین کی بڑھتی ہوئی ایٹمی صلاحیت امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عدم پھیلاؤ کے عشروں پرانے ڈھانچے کو دھچکا لگ سکتا ہے، اور دنیا ایک نئی عالمی ایٹمی دوڑ کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔
1996 کے جامع ایٹمی تجربہ بندی معاہدے (CTBT) نے تمام اقسام کے ایٹمی دھماکوں پر پابندی عائد کی تھی، تاہم امریکہ، چین، اسرائیل، مصر، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا نے اسے اب تک منظور نہیں کیا۔ اس کے باوجود یہ معاہدہ ایک مضبوط عالمی ضابطہ بن چکا ہے، اور اس کے 337 مانیٹرنگ اسٹیشن دنیا بھر میں کسی بھی ایٹمی دھماکے کا سراغ لگا سکتے ہیں۔
تجزیے کے مطابق اصل خطرہ صرف امریکی تجربات نہیں بلکہ ان کے ممکنہ ردعمل میں روس، چین، بھارت اور پاکستان کے اقدامات ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں دوبارہ تجربات شروع کرتی ہیں تو جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں بھی نئی ایٹمی مسابقت جنم لے سکتی ہے۔
ہند و پاک کے درمیان پہلے ہی دیرینہ کشیدگی، سرحدی تنازعات اور عدم اعتماد موجود ہے، اور ایٹمی دوڑ ان کے معاشی اور سماجی بحرانوں کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ معمولی فوجی تنازع بھی بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے، جس کے عالمی نتائج تباہ کن ہوں گے۔
گزارش میں ایٹمی ہتھیاروں کے انسانی اثرات ہیروشیما، ناکازاکی، بحرالکاہل کے تجربات اور نیواڈا کے متاثرہ علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ایٹمی جنگ "ایٹمی زمستان” جیسی ہولناک صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق دنیا اس وقت ایک اہم انتخاب کے موڑ پر کھڑی ہے: ایک راستہ ہمیں گزشتہ صدی کے تاریک دور کی طرف واپس لے جائے گا، جب کہ دوسرا راستہ زیادہ محفوظ اور مستحکم دنیا کی طرف جاتا ہے۔ دنیا کے پاس پہلے ہی اتنے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں کہ وہ خود کو کئی بار تباہ کر سکتی ہےاسے مزید تجربات نہیں بلکہ زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔


مشہور خبریں۔
نسل پرستی کے بارے میں برطانوی عوام سڑکوں پر
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: انگلینڈ میں 24 سالہ سیاہ فام نوجوان کرس کابا کے
ستمبر
بائیڈن نے جنوری میں 42 ملین ڈالر کے عطیات جمع کئے
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:جو بائیڈن کی مہم اور ڈیموکریٹک پارٹی نے نومبر میں ممکنہ
فروری
راولا کوٹ:مسافر بس کھائی میں گرنے سے 23 افراد جاں بحق
?️ 3 نومبر 2021راولا کوٹ (سچ خبریں) آزاد کشمیر کے ضلع راولا کوٹ میں مسافر
نومبر
مغربی کنارے میں متعدد فلسطینی گرفتار
?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے مغربی کنارے میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں
فروری
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے کی تقریر کے دوران سفارت کاروں نے کیا کیا؟
?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں: ٹی آر ٹی عربی چینل نے بدھ کی رات خبر
جنوری
وزیراعظم بھیک مانگنے والے پیالے کو توڑنے کے لئے کوشاں ہیں: شوکت ترین
?️ 3 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خزانہ شوکت ترین نے غیرملکی جریدے کو بتایا
فروری
President Joko "Jokowi” Widodo Refuses to Sign MD3 Law
?️ 20 اگست 2022Strech lining hemline above knee burgundy glossy silk complete hid zip little
اگست
سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات بھی امریکی مدار سے نکل جائے گا: فوربس
?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:فوربس کے صحافی کینتھ ربوزا نے اپنی ایک رپورٹ میں ان
اپریل