کیا امریکہ کسی کا دوست ہو سکتا ہے؟

امریکہ

?️

سچ خبریں: شامی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکہ صرف اپنے مفادات کی پرواہ کرتا ہے اور دوسرے ممالک کے مفادات کی پرواہ نہیں کرتا، کہا کہ شامی اور امریکی حکام کے درمیان وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ان ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

شام کے صدر بشار اسد نے کہا کہ امریکہ اس وقت ہماری سرزمین کے ایک حصے پر ناجائز قبضہ کر کے دہشت گردی کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم وقتاً فوقتاً امریکی حکام سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، اگرچہ یہ ملاقاتیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی لیکن سب کچھ بدل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ امریکہ کے مفادات کے بجائے صرف اپنے مفادات دیکھتے ہیں: بولٹن

اسد نے کہا کہ میں ایک طویل عرصے تک مغرب میں رہا ہوں اور میں ان کی سائنسی اور ثقافتی کامیابیوں کا احترام کرتا ہوں، وہ ان کامیابیوں کی وجہ سے مضبوط ہوئے ہیں، لیکن وہ اپنی قوموں کے مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مسائل اور مفادات کا احترام کرتے ہیں، ان کا میڈیا خاندان کو تباہ کرنے اور لوگوں کو گھر کے ماحول سے الگ کرنے کے معاملے پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب بالخصوص امریکہ کی سیاست تقسیم کرو، حکومت کرو کے اصول پر مبنی ہے، یہ ان کا دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کا طریقہ اور بلیک میلنگ کی ایک شکل ہے جو یقیناً یہ ایک غیر اخلاقی پالیسی ہے۔

اسد نے کہا کہ امریکہ ہر تنازعہ اور جنگ کو ذیابیطس یا کینسر جیسی خطرناک دائمی بیماری میں بدل دیتا ہے، اور جو لوگ اس تنازعے کی قیمت ادا کرتے ہیں وہ جنگ کے فریق ہوتے ہیں جب ہم امریکہ کہتے ہیں تو ہمارا مطلب مغرب سے ہوتا ہےپر پر مکمل طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا غلبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ہر جنگ اور تنازع سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے جبکہ افراتفری پر نظر رکھتا ہے اور آخری دھچکا پہنچانے کے لیے صحیح وقت کا انتظار کرتا ہے۔

شامی صدر کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ امریک کا کوئی دوست نہیں، جو یہ سوچ رہا ہے کہ وہ امریکہ کا دوست ہے، اسے جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ مغرب میں بھی امریکہ کا کوئی دوست نہیں ہے کیونکہ دیانت اور عزت کا مطلب مشترکہ مفادات ہیں لیکن امریکہ صرف اپنے مفادات کی پیروی کرتا ہے اس لیے ایسے ملک کے ساتھ کسی کے تعلقات منظم اور محفوظ نہیں ہو سکتے۔

اسد نے مزید کہا کہ مغربی ممالک اور لاطینی امریکہ سمیت کئی ممالک نے چین کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا شروع کر دی ہے اور انہیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ امریکہ اپنے ممکنہ شراکت داروں کے مفادات کو نظر انداز کرتا ہے اور ڈالر کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اور ان پر دباؤ ڈالتا ہے، یہ سیاسی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا امریکہ تباہ ہو رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے مہنگائی اور شراکت داروں کے لیے بے روزگاری بڑھ جاتی ہے، یقیناً دنیا میں کوئی بھی اس معاملے کا جائزہ نہیں لیتا، لیکن یہ صورتحال ایسے ہی نہیں رہے گی۔

مشہور خبریں۔

یمن کا امریکہ کو سخت انتباہ

?️ 12 اگست 2023سچ خبریں: یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر دفاع نے اس

افغان دارالحکومت پر تیزی سے قبضہ ،کابل ایئرپورٹ کے واقعات … وجوہات اور نتائج

?️ 18 اگست 2021سچ خبریں:افغانستان کے دارالحکومت کابل ائرپورٹ پر ایک دن کی افراتفری کے

یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک صیہونی بستیوں پر تجارتی پابندیوں کے حامی

?️ 14 جولائی 2026سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا

شام پر حملوں کے بارے میں دمشق سے تل ابیب کو سخت وارننگ

?️ 3 مئی 2023سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں دمشق کے خلاف

امریکی صدر نے شہباز شریف کو خط میں مبارکباد نہیں دی ،فرحت اللہ بابر

?️ 30 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماءفرحت اللہ بابر کا کہنا ہے

حماس اور امریکہ کے درمیان خفیہ رابطہ کار کون ہے؟

?️ 16 مئی 2025سچ خبریں: امریکی خبری ویب سائٹ "اےکسِیوس” نے ایک رپورٹ کے مطابق

امریکہ کے سابق انٹیلیجنس افسر کا ایران کی بحری فوجی صلاحیت کے بارے میں انتباہ

?️ 17 فروری 2026سچ خبریں:امریکہ کے سابق انٹیلیجنس افسر نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں

اسرائیل کے سابق وزیر دفاع نے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی ذلت آمیز شکست کا اقرار کرلیا

?️ 30 مئی 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور شدت پسند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے