کتنے اسرائیلی شہری قابض کابینہ اور فوج پر اعتماد کرتے ہیں؟

قابض

?️

سچ خبریں: ایک چوتھائی اسرائیلیوں کو قابض حکومت کی کابینہ اور فوج پر اعتماد نہیں ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی اسرائیلی خوف، بے بسی اور اس ریاست کی حکومت اور فوج پر اعتماد کھونے کے احساس کا شکار ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ایک چوتھائی صہیونیوں کو کابینہ اور فوج پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ غزہ جنگ کی بنیادی ترجیح صرف فوجی فتح نہیں بلکہ قیدیوں کی واپسی ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 2023 میں صیہونیوں کو درپیش چیلنجز

گزشتہ روز صہیونی فوج نے غزہ میں مزید 31 اسرائیلی قیدیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، صہیونی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ غزہ میں 31 اسرائیلی قیدی مارے گئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل حماس نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں صیہونی فوج کے حملوں اور بمباری کے نتیجے میں درجنوں اسرائیلی قیدی مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب تحریک حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پیرس کے تجویز کردہ منصوبے میں ترامیم کی ہیں۔

الاقصیٰ سیٹلائٹ چینل کے ساتھ گفتگو میں ایک ذمہ دار ذریعے نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مشاورت کے نتیجے میں حماس نے مخصوص ٹائم لائنز کے ساتھ مجوزہ پیرس معاہدے کے منصوبے میں ترمیم کی ہے۔

مذکورہ ذریعے نے نشاندہی کی کہ یہ قومی اصلاحات غزہ میں جنگ بندی، اس پٹی کی تعمیر نو، پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کو واپسی، پناہ گزینوں کے لیے فوری پناہ گاہوں کی فراہمی، علاج کے لیے زخمیوں کی منتقلی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اعلان کیا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک طویل راستہ ہے، لیکن ہم اس تک پہنچنے کے امکان پر یقین رکھتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہم (مجوزہ) معاہدے کے فریم ورک پر حماس کے ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں اور میں اس بارے میں بدھ کو تل ابیب سے بات کروں گا۔

انتھونی بلنکن نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی ایک طویل راستہ ہے، لیکن امریکی حکومت اب بھی معاہدے تک پہنچنے کے امکان پر یقین رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: نیتن یاہو کی عدالتی بغاوت کے خلاف ایک بار پھر ہزاروں صیہونیوں کا مظاہرہ

بلنکن نے کہا امریکہ ایک منصفانہ اور دیرپا امن تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کے راستے کو جاری رکھنے کے لیے کسی بھی جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔

مشہور خبریں۔

2023 میں خلیج فارس کی جغرافیائی سیاست کس سمت جائے گی؟

?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے برعکس 2022 میں بحرین

صنعا ایئرپورٹ کا محاصرہ توڑنے میں ایران کا رول قابل احترام ہے: یمن

?️ 4 جولائی 2026سچ خبریں: عبدالواحد ابوراس، نجات ملی حکومت یمن کے نائب وزیر خارجہ، نے

کیا جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھے گا؟

?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کی تحریک انصاف سے

ہم چاہیں یا نہ چاہیں، چین ایک عظیم طاقت بن کر رہے گا:یورپی یونین

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربرہ کا کہنا ہے کہ

صیہونی سپریم کورٹ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدگی

?️ 17 نومبر 2022سچ خبریں:نیتن یاہو اپنے متعدد عدالتی مقدمات کی کارروائی کو جلد از

برطانوی فوج پر سائبر حملہ

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:برطانوی فوج کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سائبر حملہ میں ہیک کیے

آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر سپریم کورٹ کا ماضی کے فیصلوں سے انحراف

?️ 1 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (ون)(ایف) کی تشریح سے

وزیراعظم کا ملک بھر میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس ،اہم اجلاس طلب کرلی

?️ 28 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں جاری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے