?️
ٹرمپ دنیا میں امن کا جعلی دعویدار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب 21 جنوری 2025 کو بطور 47ویں صدر وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا تو اُنہوں نے دنیا میں جاری جنگوں کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ خاص طور پر یوکرین اور غزہ کی جنگوں کو ختم کرنے کی بات کی گئی، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ نہ صرف یہ کہ وہ جنگیں بند نہ کر سکے، بلکہ دنیا میں مزید تنازعات بھڑک اٹھے۔ اس کے باوجود، ٹرمپ مسلسل کوشش کرتے رہے کہ ہر آتشبس اور ہر امن معاہدے کا سہرا اپنے سر باندھیں۔
صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ صرف 24 گھنٹوں میں یوکرین کی جنگ بند کروا سکتے ہیں، اور غزہ کو ایک خوبصورت اور محفوظ علاقہ بنا دیں گے۔ لیکن عملی طور پر، روس اور یوکرین کی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، اور اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کے نتیجے میں غزہ مزید تباہ ہو گیا۔
ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے صرف چند ماہ بعد دنیا کے کئی خطوں میں نئی جنگیں پھوٹ پڑیں۔ ان میں سے ہر ایک میں وہ خود کو ثالث اور امن کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن زیادہ تر جگہوں پر ان کے دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے۔
5 مئی کو بھارت نے کشمیر کے علاقے میں حملے شروع کیے جس کے بعد پاکستان کے ساتھ پانچ روزہ سرحدی جنگ چھڑ گئی۔ جب دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا، تو ٹرمپ نے فوراً دعویٰ کر دیا کہ یہ امن اُن کی ثالثی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تاہم بھارت نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے واضح کہا کہ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے اور بھارت نے اپنی عسکری اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے بعد خود ہی کارروائیاں بند کیں۔
جب ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات جاری تھے، ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر 12 روزہ جنگ مسلط کر دی۔ یہ جنگ 12 جون کو ایران میں اسرائیلی دہشتگرد حملوں سے شروع ہوئی، جس کے بعد امریکی بمبار طیارے بھی شامل ہو گئے۔ ایران کی جانب سے سخت اور مؤثر جوابی کارروائی کے بعد، بالآخر 24 جون کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر آتشبس کا اعلان کر دیا۔ لیکن اس بار بھی انہوں نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ایران کی مزاحمت نے جنگ کو رکنے پر مجبور کر دیا۔
ادھر جنوب مشرقی ایشیا میں، پریاہ ویہیر کے متنازع علاقے پر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی، اور 24 جولائی کو باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کو دھمکی دی کہ اگر جنگ ختم نہ کی گئی تو امریکہ اُن کے تجارتی معاہدے ختم کر دے گا۔ لیکن جنگ بندی کا سہرا آخرکار ملائیشیا کے سر گیا، جس نے دونوں ملکوں کو پُتراجایا میں بٹھا کر مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ کرایا۔
اس کے باوجود، امریکی صدر کے دفتر سے بیان جاری ہوا کہ یہ سب کچھ ٹرمپ کی کوششوں کی بدولت ممکن ہوا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیوٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا ٹرمپ کو نوبل امن انعام دیا جائے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ چھیڑنے والا شخص، عالمی تنازعات کو ہوا دینے والا اور امن معاہدوں کا جھوٹا دعویدار، امن کا پیامبر نہیں ہو سکتا۔ دنیا اس تماشے کو بخوبی دیکھ رہی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
چین سے کورونا ویکسین کی ایک اور کھیپ 29 اپریل کو پاکستان پہنچے گی
?️ 26 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کورونا کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان چین سے
اپریل
انسانی حقوق کی آڑ میں ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں: گروپ 7 کو چین کا جواب
?️ 21 مئی 2023سچ خبریں:چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے گروپ
مئی
افغانستان سے انخلا کے بعد نیٹو نے ایک اہم خلیجی ملک سے فوجیوں کی تربیت کے لیئے اڈہ مانگ لیا
?️ 15 جون 2021جرمنی (سچ خبریں) افغانستان سے انخلا کے بعد نیٹو نے ایک اہم
جون
جاپان کی خاتون وزیرِاعظم، خواتین سیاست دانوں کے زوال کے سال میں ایک نمایاں استثنی
?️ 14 دسمبر 2025 جاپان کی خاتون وزیرِاعظم، خواتین سیاست دانوں کے زوال کے سال
دسمبر
سعودی لڑاکا طیاروں نے یمنی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک پر بمباری کی
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں: یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سعودی لڑاکا طیاروں
جنوری
اسمبلیوں کی تحلیل پر عمران خان الیکشن کرا کے کیا کرے گا
?️ 7 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا
دسمبر
یورپی ممالک جمہوریت کے نام پر دہشتگروں کی حمایت کرتے ہیں: ترک صدر
?️ 3 جون 2022سچ خبریں:ترک صدر نے شام کے مزید علاقوں میں فوجی آپریشن کو
جون
یمن کے بارے میں امریکہ دنیا کو کیسے دھوکہ دے رہا ہے؟
?️ 19 جنوری 2024سچ خبریں: یمن میں حملے ضروری، متناسب اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق
جنوری