ٹرمپ دستاویزاتی اسکینڈل نے بی بی سی کو ہلا کر رکھ دیا، ہیرا پھیری کے الزام نے شدت اختیار کر لی

بی بی سی

?️

ٹرمپ دستاویزاتی اسکینڈل نے بی بی سی کو ہلا کر رکھ دیا، ہیرا پھیری کے الزام نے شدت اختیار کر لی

معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں مبینہ ایڈیٹنگ کے بعد ایک بڑے تنازع اور ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ اسپین کے معروف اخبار ایل پائس کے مطابق، یہ معاملہ بی بی سی کے لیے ایسا سنگین بحران بن چکا ہے جو اس ادارے کے سب سے قیمتی اثاثے یعنی اس کی ساکھ اور اعتبار کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بی بی سی پر الزام ہے کہ اس نے ایک سال قبل نشر ہونے والی اپنی دستاویزی فلم میں ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 یعنی کیپیٹل ہل پر حملے کے دن کی تقریر کو اس انداز میں ایڈٹ کیا کہ اس کا مطلب اصل بیان سے مختلف ظاہر ہونے لگا۔ اس تنازع کے بعد بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور نیوز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈیبورا ٹرنِس نے استعفیٰ دے دیا۔ تاہم مبصرین کے مطابق، یہ اقدامات ادارے کو بحران سے نکالنے کے لیے ناکافی ہیں۔

ایل پائس نے لکھا کہ یہ تنازع محض ایڈیٹنگ کی غلطی نہیں بلکہ بی بی سی کی پیشہ ورانہ اخلاقیات پر سوال اٹھا رہا ہے۔ اب یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آیا یہ معاملہ صرف ایک غلط فیصلہ تھا یا جان بوجھ کر کی گئی ادارتی چھیڑ چھاڑ۔

راسموس کلیس نیلسن، جو یونیورسٹی آف کوپن ہیگن میں ابلاغیات کے پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے میڈیا مخالف حلقوں کو ایک نیا ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، ایڈیٹنگ نے ٹرمپ کے بیان کو اس طرح پیش کیا گویا وہ براہِ راست اپنے حامیوں کو پرتشدد کارروائی پر اکسا رہے ہوں، حالانکہ ان کے بعض جملے حذف کر دیے گئے جن میں وہ پرامن حمایت کی بات کر رہے تھے۔

اسی طرح، جولی پوزیٹی، جو یونیورسٹی آف لندن کے سینٹ جارج انسٹیٹیوٹ میں میڈیا اسٹڈیز کی ماہر ہیں، نے اسے افسوسناک مگر غیر ضروری غلطی قرار دیا۔ ان کے مطابق، "ٹرمپ کی تقریر کو اس حد تک ایڈٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس کا مفہوم پہلے ہی واضح تھا۔

میڈیا کے ماہر جَیف جارویس نے کہا کہ اگر بی بی سی نے وضاحت کر دی ہوتی کہ یہ ویڈیو ایڈیٹ شدہ” ہے، تو اتنا بڑا تنازع نہ ہوتا۔ ان کے مطابق، اب یہ غلطی دائیں بازو کے گروہوں کے لیے بی بی سی اور آزاد صحافت پر حملے کا بہانہ بن گئی ہے۔

جوزپ کارلس ریوس، جو اسپین کے کونسل آف انفارمیشن آف کاتالونیا کے سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو حق حاصل ہے کہ وہ حقائق سے نتائج اخذ کریں، مگر انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ بیانات کا مفہوم بگاڑ نہ دیں۔ ان کے مطابق، بی بی سی نے ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو جوڑ کر ایسا تاثر پیدا کیا جو اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا۔

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بی بی سی اپنی شاہی منشور کی تجدید کے لیے مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے ایک ایسا قانونی معاہدہ جو ادارے کے ڈھانچے اور ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔ موجودہ منشور 2027 میں ختم ہو رہا ہے، اور بی بی سی کی موجودہ مشکلات اس کی مستقبل کی حیثیت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ بی بی سی کے لیے صرف ایک ایڈیٹنگ تنازع نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور آزادیِ صحافت کے بنیادی اصولوں کا امتحان بن چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے بحران میں یونیورسٹیوں کی فعال سرگرمی کے امکانات کا جائزہ

?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف گورننس نے ہاؤس آف تھنکرز

پولیو وائرس چارسدہ بھی پہنچ گیا، ملک کے مزید 8 اضلاع میں وائرس کی تصدیق

?️ 15 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں

میانمار میں 30 افراد کی جلی کٹی لاشیں برآمد

?️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں:میانمار میں کچھ گاڑیوں کے اندر تیس افراد کی جلی ہوئی

ٹرمپ کا امریکی انتخابی نظام میں تبدیلی کا منصوبہ

?️ 1 ستمبر 2025ٹرمپ کا امریکی انتخابی نظام میں تبدیلی کا منصوبہ  امریکی صدر ڈونلڈ

قطر اور کویت کا سعودی عرب کی حمایت میں مشترکہ بیان؛ امارات کے خلاف محتاط موقف

?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں:قطر اور کویت نے سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کا

اسرائیل خطے میں جنگ کا اصل محرک ہے: اردوغان

?️ 17 اگست 2026سچ خبریں: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے الجزیرہ کے ساتھ

عمران خان نے سری لنکن صدر کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے

?️ 4 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر

افغانستان میں ناگفتہ بہ بحران

?️ 26 اگست 2023سچ خبریں:ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اس سال کے پہلے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے