?️
ٹرمپ اور بن سلمان کی ملاقات محض تجارتی نہیں ہوگی
ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں، جس کا مقصد محض تجارتی معاہدے نہیں بلکہ خطے میں سیاسی اور عسکری امور میں توازن قائم کرنا بھی ہے۔ امریکی میڈیا اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات خاص طور پر امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو ایف-۳۵ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے معاہدے اور عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے معمول پر لانے کے اقدامات کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔
اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو ایف-۳۵ طیارے فروخت کرنے کے خلاف نہیں، تاہم وہ چاہتا ہے کہ یہ فروخت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معمول پر لانے کے لیے ایک شرط کے طور پر استعمال ہو۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، سعودی عرب جغرافیائی لحاظ سے اسرائیل کے بہت قریب ہے، اور اگر ایف-۳۵ طیارے کسی بھی غیر محفوظ مقام سے اڑیں تو یہ اسرائیل کی فوجی برتری کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ولیعہد سے فون پر گفتگو میں کہا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد سعودی عرب سے توقع ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف قدم بڑھائے گا۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھی اس امکان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے پر بھی بات کریں گے۔
سعودی عرب کے مطالبات اور اسرائیل کے تحفظات کے درمیان سب سے بڑا اختلاف فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر ہے۔ سعودی عرب چاہتے ہیں کہ اسرائیل ۱۹۶۷ کی سرحدوں کے اندر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول کرے، جبکہ اسرائیل اس معاملے میں تاخیر کر رہا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ ملاقات میں ولیعہد پر دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ اسرائیل سے مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہو اور مستقبل قریب میں تعلقات کی معمول پر آمد کو فروغ دیا جا سکے۔
اقتصادی تعلقات کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے مفادات قریب ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ دونوں بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں، اور دونوں کے پاس عالمی مارکیٹ میں اہم ذخائر موجود ہیں۔ ۲۰۲۴ میں سعودی سرمایہ کاری امریکہ میں تقریباً ۳۵۰ ارب ڈالر رہی جبکہ دیگر تخمینوں کے مطابق یہ رقم ۴۹۰ ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری سعودی عرب میں ۲۰۲۳ میں تقریباً ۵۴ ارب ڈالر تھی، اور دو طرفہ سرمایہ کاری کی کل رقم ۵۵۰ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ٹرمپ نے ملاقات سے قبل سعودی منصوبوں کا اعلان کیا کہ وہ امریکہ میں توانائی، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات میں ۶۰۰ ارب ڈالر سرمایہ کاری کریں گے، جس سے دو طرفہ سرمایہ کاری کا حجم ایک ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
یہ ملاقات، جو واشنگٹن میں ۱۹ نومبر کو ہو رہی ہے، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے نئے منصوبوں کے اعلان کے ساتھ سیاسی اور عسکری امور میں بھی توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ اجلاس پچھلے چھ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوسرے اہم اجلاس کے طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے، اور اس کے نتائج خطے میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
ایرانی میزائلوں نے تل ابیب کو ہلا کر رکھ دیا، صیہونیوں کا اعتراف
?️ 14 جون 2025سچ خبریں: صیہونی حکام نے اسلامی جمہوریہ ایران کے کوبارہ میزائل حملوں،
جون
سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 22.16 ارب روپے مالیت کے 7 منصوبوں کی منظوری دے دی
?️ 28 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سی ڈی ڈبلیو پی نے 22 ارب 16
جنوری
ہم نے اسرائیل کو ایران سے کیسے بچایا؟ امریکی نائب صدر
?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکی نائب صدر کمالا ہیرس نے اعلان کیا کہ اسرائیل
اکتوبر
وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد جمع
?️ 8 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد جمع ،
مارچ
کیا صیہونی غزہ جنگ جیت سکیں گے؟صیہونی اخبار کی زبانی
?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: ایک صہیونی اخبار نے رفح شہر پر حملے کی ضرورت
اپریل
نئے ٹیرف کے بعدچین میں تجارتی کشیدگی میں اضافہ
?️ 17 دسمبر 2025 نئے ٹیرف کے بعدچین میں تجارتی کشیدگی میں اضافہ میکسیکو کی
دسمبر
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اپنے بیان کی تردید کر دی
?️ 23 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گزشہ بیان کی
یمن میں ایرانی سفیر کورنا کے باعث جاں بحق
?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یمنی نیشنل سالویشن گورنمنٹ میں
دسمبر