واشنگٹن کا عراق میں فوجی ہلاکتوں کا اعتراف 

واشنگٹن

?️

روبیو، جو ماضی میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو معمولی قرار دیتے رہے ہیں، نے اب تسلیم کیا ہے کہ عراق میں ایک امریکی فوجی کی موت ایک حادثہ تھی جو ایک ایرانی ڈرون کا مقابلہ کرتے ہوئے پیش آیا۔
روبیو نے جمعہ کے روز ہونے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایک ایرانی میزائل اردن کے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا، باوجود اس کے کہ بیشتر میزائلوں کو روک لیا گیا تھا۔ ان کا یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران کی طرف سے اردن میں واقع موفق السلطی فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہو گیا ہے۔ یہ حملہ امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ایران کی جوابی کارروائیوں کا حصہ تھا، جو حالیہ دنوں میں امریکی جارحیت کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔
ماہرین دفاعی امور کے مطابق، روبیو کا یہ بیان امریکی پالیسی میں ایک اہم موڑ کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ واشنگٹن عموماً اپنی فوجی ناکامیوں یا ہلاکتوں کو علانیہ تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اس اعتراف سے ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے بارے میں امریکی عسکری حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
روبیو نے اپنے بیانات میں مزید وضاحت کی کہ بیشتر حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، تاہم ایک میزائل کا دفاعی نظام کو عبور کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خطے میں امریکی فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے حالیہ ہفتوں میں امریکی اڈوں اور مفادات کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، جنہیں تہران نے امریکی جارحیت کے خلاف اپنے دفاعی حق قرار دیا ہے۔ عراق اور اردن میں امریکی فوجی موجودگی کو ایران اپنی سرحدوں کے قریب ایک سیکورٹی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان واقعات کے بعد اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے ہدایات میں سخت تبدیلیاں کی ہیں، جبکہ خطے میں امریکی اڈوں پر حفاظتی اقدامات کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، ایران کے مسلسل حملوں کے پیش نظر امریکی عسکری حکام کافی پریشان ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ اعتراف علاقائی توازنِ قوت میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو اس حد تک ترقی دے دی ہے کہ وہ امریکی دفاعی نظاموں کو بھی چیلنج کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں مستقبل قریب میں مزید فوجی جھڑپوں کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کا احوال

?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پی اے سی  نے نیب افسران، ان کے بچوں اور

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو نااہل قرار دینے کی درخواست خارج

?️ 16 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو

عمران خان اپنی انا کی وجہ سے گرفتاری کے نزدیک پہنچ گئے، بلاول بھٹو

?️ 15 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری

منشیات کی زنجیر توڑنے کیلئے قومی اور عالمی سطح پر جدوجہد ضروری ہے: وزیراعظم

?️ 26 جون 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ منشیات کی

فواد خان اور ماہرہ خان کی رومانوی فلم ’نیلوفر‘ ریلیز

?️ 28 نومبر 2025کراچی: (سچ خبریں) شائقین کا طویل انتظار ختم ہو گیا، کیونکہ اب

غزہ میں جنگ بندی معاہدہ پر عربی پارلیمنٹ کا بیان

?️ 16 جنوری 2025سچ خبریں:عربی پارلیمنٹ کے صدر محمد بن احمد الیماحی نے غزہ میں

توہین عدالت کیس: اسد عمر نے غیر مشروط معافی مانگ لی

?️ 7 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے

اسرائیل شام کے بارے میں اپنی پالیسی بدل رہا ہے: صیہونی ذرائع

?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں:  صہیونی ریجیم کے ٹی وی چینل نیٹ ورک 13 نے اسرائیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے