?️
واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی
امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی و تجارتی رقابت اب ایک جنگِ تمدنوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی نئی اقتصادی حکمتِ عملی کے ذریعے چین کے خلاف ایک تمدنی محاذ آرائی کا آغاز کیا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی جسے نئیر گلوبل اکانومی (Near-Global Economy) کہا جا رہا ہے کا مقصد عالمی اقتصادی نظام کی ازسرِنو تشکیل اور چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ چاہتا ہے کہ بازار پر مبنی جمہوری معیشتیں ایک بلاک کی صورت میں چین کے اقتدار پسند ماڈل کے مقابل متحد ہوں۔
رپورٹ کے مطابق، بیجنگ کی جانب سے اہم معدنیات اور لیتھیئم بیٹریوں کی برآمدات پر پابندی نے واشنگٹن کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین ان پابندیوں کے ذریعے امریکی دفاعی صنعت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی منڈیوں کو سستے اسٹیل اور گاڑیوں سے بھر کر مغربی کمپنیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک کے مطابق، ٹرمپ حکومت نے چین کے ان اقدامات کو اقتصادی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن جلد ہی چینی مصنوعات پر نئی محصولات (ٹیرف) عائد کرے گا تاکہ بیجنگ کی امریکی منڈی تک رسائی محدود ہو۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا اصل ہدف صرف محصولات نہیں بلکہ ایک نیا عالمی تجارتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے، جس میں صرف وہ ممالک شامل ہوں جو آزاد منڈی کے اصولوں پر کاربند ہوں۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ ان ممالک کو ترجیحی تجارتی مواقع، سرمایہ اور ٹیکنالوجی فراہم کرے گا جو واشنگٹن کے اصولوں کی پیروی کریں۔
ٹرمپ کے پیش کردہ ماڈل میں چار بنیادی اصول شامل ہیں انصاف: منصفانہ مقابلہ، بغیر بدعنوانی اور زبردستی کے۔استحکام جنگ یا سائبر حملوں سے عالمی نظام کو نقصان پہنچانے والے ممالک کا بائیکاٹ۔شفافیت: مالی بدعنوانی اور خفیہ کمپنیوں کا خاتمہ۔آزادی وہ ممالک جو نجی ملکیت اور جمہوریت کا احترام کرتے ہیں، اس نظام کا حصہ بن سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، بیجنگ کی جانب سے تجارتی حدود عائد کرنے اور وسائل پر کنٹرول بڑھانے کی پالیسی کو امریکہ میں معاشی خودکشی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ایک نئے منصفانہ اور واضح اقتصادی نظام کی جانب قدم بڑھائے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ برسِ اقتدار میں آئے تو یہ پالیسی دنیا کو ایک نئے دور کی تمدنی جنگ میں دھکیل سکتی ہے — ایک ایسی رقابت جو نہ صرف امریکہ کے مستقبل بلکہ عالمی معیشت کے توازن کو بھی بدل کر رکھ دے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ہم عملی طور پر سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں: انصار اللہ
?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: انصاراللہ یمن کی سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے
نومبر
بائیڈن کو امریکی انتخابات کے پرامن انعقاد پر شک
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے صدر نے، جو اس ملک کے نومبر میں
اکتوبر
ڈیپ سیک کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے نیا مفت منی ماڈل متعارف کرادیا
?️ 4 فروری 2025سچ خبریں: (سچ خبریں) آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی امریکی کمپنی
فروری
روس یورپ کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرسکتا ہے؛زیلنسکی کا دعویٰ
?️ 25 اکتوبر 2022سچ خبریں:یوکرین کے صدر نے اپنے ملک کے عوام سے بجلی کی
اکتوبر
امریکی سینیٹر: ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ میں امریکیوں کو 100 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا
?️ 3 جون 2026سچ خبریں: ایک امریکی سینیٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی
جون
ڈنمارک میں مساجد سے اذان پر پابندی کی کوشش
?️ 25 جون 2026سچ خبریں:ڈنمارک کے وزیر مہاجرت نے بدھ کی شام دعویٰ کیا کہ
جون
وزیراعظم عمران خان نے بل گیٹس کاٹیلی فونک رابطہ کیا
?️ 20 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان اورمائیکروسافٹ کےبانی بل گیٹس کاٹیلی
جنوری
لبنانی سیاستدان نے سعودی سفیر کے نئے ریمارکس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا
?️ 24 مئی 2022گزشتہ روز لبنان میں سعودی عرب کے سفیر ولید بخاری نے لبنان
مئی