نسل پرستی جیت گئی انصاف ہار گیا

نسل پرستی

?️

سچ خبریں:متعدد امریکی ماہرین اور ممتاز شخصیات نے سینیٹ میں سابق امریکی صدر کے بری کیے جانے کو امریکی سیاسی ماحول میں نسل پرستی کے عروج کا حصہ قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین اور ممتاز شخصیات کا کہنا ہے کہ 43 سینیٹرز کا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بری کرنے کا فیصلہ نسل پرست اور نسل پرستی کی حمایت میں ہے،رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا مقدمہ گذشتہ دنوں سینیٹ میں ہنگامہ آرائی اور کانگریس پر حملہ کرنے کے الزام میں منعقد ہوا تھا، اس حملے میں ٹرمپ کے حامیوں نے کنفیڈریٹ کے جھنڈے تھامے تھے اور نسل پرستانہ اور سفید فاموں کی برتری والی علامتوں کے لباس پہنے تھے، بوسٹن گلوب کے نامور سیاہ فام کالم نگار کمبرلی اٹکنز نے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ غنڈے ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، اٹکنز نے لکھا کہ جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی درخواست پر ایسا ہوتا ہے تو ، اگر ایوان اور سینیٹ کے ارکان اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہیں تو آئین ایک حل پیش کرتا ہے۔” اگر آپ اسے برقرار رکھ سکتے ہیں تو [امریکہ] ایک جمہوریہ ہے۔ "لیکن کیا یہ میرے لئے جمہوریہ ہے؟۔

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس کارن عطیہ نے’’ آج سفید فاموں کی بالادستی کی جیت ہوئی‘‘ کے عنوان سے ایک کالم میں لکھاکہ تاریخ بتائے گی کہ دونوں دھڑوں کے رہنماؤں نے سفید فاموں کی بالادستی ، شورش اور تشدد کو اجازت دی ہے کہ وہ ہماری پالیسیوں کا مجاز حصہ بنیں،اس کی وجہ سے امریکہ کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا، گارڈین نے لکھاہے کہ سینیٹ کا 89 فیصد حصہ گوروں پر مشتمل ہے، میں نے ٹرمپ کو قصوروار قرار دینے کے لیے 67 سینیٹرز کے ووٹوں کی ضرورت تھی لیکن وہ 43 کے مقابلہ میں57 ووٹوں کے ذریعہ بری ہوگئے۔

سینیٹ کی ڈیموکریٹک اراکین کی اکثریت کے رہنما چک شومر نے کہا کہ ٹرمپ کا قصوروار ہونا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ ہماری کانگریس پر لہرائے جانے والے کنفیڈریسی کے نفرت انگیز اور نسل پرستانہ پرچم کو یاد رکھنا، ایک سیاہ فام کارکن نے نسل پرستی پر مبنی ان ریمارکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی پولیس کے پرتشدد سلوک کا ذکر کیا اور ایک ٹویٹر پیغام میں لکھاکہ کالے کسی کے گلے کو دبا نہیں ڈال سکتے یا بچوں کے چہروں پر کالی مرچ نہیں چھڑکتے ہیں لیکن سفید ہوں تو یہ سب کر کر سکتے ہیں،امریکہ یہی ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا اور اگر ہم کسی اور طرح رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔

 

مشہور خبریں۔

سعودی عرب اور مصر کو چین کےطاقتور ڈریگن کی فروخت پر تل ابیب کو تشویش

?️ 2 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی سعودی عرب اور مصر کے درمیان چین کے

سرکاری اداروں کی خدمات عوامی فلاح کی ضامن ہیں۔ سید مراد علی شاہ

?️ 23 جون 2025کراچی (سچ خبریں) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے

ایران کی ناکہ بندی اور اس کے بحری جہازوں کو قبضے میں لینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ایروانی

?️ 28 اپریل 2026 سچ خبریں:امیر سعید ایروانی، سفیر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اقوام

صیہونی حکومت کی جارحیت کے بارے میں شام کا موقف

?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: عبوری حکومت کے بعد کے شام جس مرحلے سے گزرے گا،

5 ماہ میں بینکوں کی غیر سرکاری شعبے میں 2 ہزار 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری

?️ 7 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) بینکوں نے رواں مالی سال کے ابتدائی

سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم کی درخواست مسترد

?️ 17 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)سپریم کورٹ نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو روکنے

یمن کی مزاحمتی کارروائیاں اور صیہونیوں کی بے بسی

?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں:یمن کی مزاحمتی قوتوں کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے خلاف

آئی ٹی کے شعبے میں 20 سے 25 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف قابل عمل ہے، وزیراعظم

?️ 21 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے