?️
نتن یاہو ٹرمپ کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں:صہیونی وزیر خزانہ
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بتصلئیل اسموتریچ نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھک گئے ہیں اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر اسرائیلی حاکمیت کے مسئلے کو امریکی صدر کے ساتھ اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں۔
صہیونی میڈیا حریدیم 10 کے مطابق، کنسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت سے متعلق ووٹنگ کے بعد امریکی مخالفت کے تناظر میں، اسموتریچ نے ہفتے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک طویل پوسٹ میں نتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسموتریچ نے کہا کہ جس طرح نتن یاہو نے اسرائیلی اسیران کی رہائی کے معاملے پر ٹرمپ کو قائل کیا، اسی طرح انہیں اسرائیلی حاکمیت کے موضوع پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ان کے بقول، "جب ٹرمپ اقتدار میں آئے تو وہ اسیران کے مسئلے کی اہمیت سے ناواقف تھے، مگر اسرائیلی اہلکاروں اور خاندانوں کی بار بار اپیلوں کے بعد ان کا موقف بدل گیا۔”
وزیر خزانہ نے شکوہ کیا کہ "ٹرمپ نے اسرائیلی اسیران کی آزادی کی حمایت تو کی، مگر مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو ممنوعہ موضوع قرار دیا — حالانکہ یہی وہ وقت ہے جب اسرائیل کو اپنی حاکمیت کے مؤقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے خطرناک تصور کو ختم کرنا چاہیے۔”
اسموتریچ کے مطابق، کنسٹ نے اکثریت کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور اسرائیلی حاکمیت کی حمایت کی ہے، مگر "بدقسمتی سے نتن یاہو اس مسئلے کو امریکی صدر کے ساتھ مذاکرات میں پیش کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو "عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے بدلے میں بیچ دیا” اور غزہ میں جنگ بندی یا ابراہیم معاہدوں کے توسیعی منصوبے کی خاطر اسرائیلی حاکمیت کے حق سے دستبردار ہو گئے۔ تاہم اسموتریچ کو یقین ہے کہ "ٹرمپ اسرائیل کے حقیقی دوست ہیں، اور جب وہ سمجھیں گے کہ یہ معاملہ اسرائیلیوں کے لیے کتنا اہم ہے تو وہ اپنی پالیسی بدل دیں گے۔”
اسموتریچ نے صہیونی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ "ہر ہفتے حاکمیت کے حق میں بڑے مظاہرے کریں، سڑکیں اور پل بند کریں، اور کنسٹ میں قانون منظور کرائیں تاکہ امریکہ کو اسرائیلی عزم کا اندازہ ہو۔”
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت کے اندر اس وقت گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ دائیں بازو کے انتہا پسند اراکین مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو قانونی شکل دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ نتن یاہو امریکی مخالفت کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
نتن یاہو کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو خدشہ ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے، جو ان کی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن جائے گا۔
یہ تنازع ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب اسرائیلی حکومت، غزہ میں جنگ بندی کے بعد، امریکی حمایت کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے — لیکن مغربی کنارے کی حاکمیت کا مسئلہ اب نتن یاہو کے لیے داخلی اور خارجی دباؤ کے درمیان ایک نیا امتحان بن چکا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ ممبر کا اظہار خیال
?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:یورپی پارلیمنٹ میں آئرش نمائندے نے امریکی جرائم کے سلسلہ میں
دسمبر
ٹرمپ خود جیل جائیں گے یا لے جائے جائیں گے؟
?️ 16 اگست 2023سچ خبریں: ریاست جارجیا میں 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے
اگست
یاسمین راشد کا بزرگ شہریوں کو دوسری ویکسین لگوانے پر زور
?️ 31 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے بزرگ شہریوں کو دوسری
مارچ
امریکہ ہمارے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے:روس
?️ 26 نومبر 2022سچ خبریں:واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے ایک بیان میں اعلان کیا
نومبر
بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد عناصر کا جلد خاتمہ کیا جائے گا۔ صدر و وزیراعظم
?️ 6 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے
اگست
سی آئی اے کے سربراہ کا چین کا خفیہ دورہ
?️ 3 جون 2023سچ خبریں:امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ نے
جون
سعودی عرب میں نماز کے وقت تجارتی مراکز بند رکھنے کی پابندی کو ختم کردیا جائے گا
?️ 23 جون 2021جدہ (سچ خبریں) سعودی عرب میں نماز کے وقت تمام تجارتی مراکز
جون
اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن کے رکن اختر حسین عدالتی تقرریوں میں تنازعات پر مستعفی
?️ 24 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن ایڈووکیٹ اختر
فروری