نتن یاہو نے ٹرمپ کی خوشنودی کے لئے غزہ قرار دادی کی حمایت کی ہے

نتن یاہو

?️

نیتن یاہو نے ٹرمپ کی خوشنودی کے لئے غزہ قرار دادی کی حمایت کی ہے

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کے لیے امریکا کی تجویز کردہ قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے، حالانکہ اس سے قبل اسرائیلی حکام اس قرارداد کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نتن یاہو کی یہ حمایت دراصل ڈونلڈ ٹرمپ سے سیاسی دلجوئی کی کوشش ہے، کیونکہ یہ قرارداد ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

 ۱۴ چینلکے مطابق، وزیراعظم کے دفتر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نہ صرف علاقائی امن کو آگے بڑھائے گی بلکہ ابراہام معاہدوں کے دائرے کو وسعت دے کر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں بھی مدد دے گی۔ بیان میں غزہ کے مکمل غیرعسکری ہونے اور حماس کے خلعِ سلاح کو بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی بنیادی شرط قرار دیا گیا۔

اس کے برعکس، اسرائیلی میڈیا نے نتانیاہو کے اس مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرارداد کا متن واضح طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک راستہ دکھاتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق کابینہ میں شامل دائیں بازو کے اتحادی اس پیش نویس کے سخت مخالف تھے، خصوصاً اس شق کی وجہ سے جسے عرب ممالک کی درخواست پر شامل کیا گیا اور جو فلسطینی ریاست کی حمایت کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نتانیاہو نے اس معاملے میں ائتلاف کو نظرانداز کر کے اپنی سیاسی پوزیشن بچانے کی کوشش کی۔

نیٹ ورک ۱۲ کی ایک رپورٹ کے مطابق نتانیاہو داخلی طور پر اس قرارداد کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے، خاص طور پر اس لیے کہ اس میں مستقبل میں فلسطینی ریاست کی تشکیل کا امکان تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا علانیہ خیر مقدم اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے کہ وہ ٹرمپ کے غضب سے بچنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی اسے لیکود پارٹی کے لیے ایک اسٹریٹیجک کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ آنے والے انتخابات میں اپنی حمایت مضبوط کر سکیں۔

سلامتی کونسل نے پیر کی شب امریکا کی تجویز کردہ قرارداد کو تیرہ ہاں اور دو غیرحاضری کے ساتھ منظور کیا۔ قرارداد میں غزہ کے لیے ایک امن کونسل اور بین الاقوامی استحکامی فورس کی تشکیل کی منظوری دی گئی ہے، جو خلعِ سلاح اور عسکری ڈھانچوں کی تباہی کی نگرانی کرے گی۔ قرارداد یہ بھی کہتی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی صورت میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب حماس نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے غزہ پر بین الاقوامی قیمومت مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حماس کے مطابق سلامتی کونسل کی یہ کارروائی اسرائیل کے ان اہداف کو پورا کرنے کی کوشش ہے جو وہ دو سال کی جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قرارداد غزہ کو فلسطینی جغرافیے سے الگ کرنے اور ایسی نئی سیاسی حقیقت قائم کرنے کی کوشش ہے جو فلسطینی عوام کے قومی حقوق، حقِ خود ارادیت اور مستقبل کی آزاد ریاست کے تصور کے منافی ہے۔ حماس نے واضح کیا کہ مزاحمت ایک جائز حق ہے اور اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف اندرونی فلسطینی سطح پر اور سیاسی حل کے تناظر میں ہی ممکن ہے۔

مشہور خبریں۔

اگلی عرب سربراہی کانفرنس تنازعات کے خاتمے کا آغاز

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:آئندہ عرب سربراہی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے الجزائر کی

انصار اللہ کے سینئر رکن: ایران پر حملے کا مقصد خطے کا چہرہ بدلنا ہے

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن

آئینی ترمیم کا معاملہ: سینیٹ اجلاس کا وقت تیسری بار تبدیل، قومی اسمبلی اجلاس بھی 7 بجے ہوگا

?️ 19 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر اب

ہنیہ نے امت اسلامیہ سے فلسطین کی حمایت کا مطالبہ کیا

?️ 29 نومبر 2021سچ خبریں: یورپی ممالک میں برطانیہ فلسطین کا سب سے زیادہ حامی

سعودی عرب میں پھانسی کی سزاؤں میں اضافے پر اپوزیشن ایسوسی ایشن کا ردعمل

?️ 1 نومبر 2022سچ خبریں:سعودی عرب میں حزب اختلاف کی ایسوسی ایشن نے اس ملک

ایران-امریکہ مذاکرات کیسے ہونا چاہیے؟ صیہونیوں کی خام خیالی

?️ 20 اپریل 2025 سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے

نواں جائزہ تاخیر کا شکار، حکومت کی آئی ایم ایف سے شرائط میں نرمی کی درخواست

?️ 17 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے

امریکہ نے افغانستان کی حکمران جماعت کو تسلیم کرنے سے روک دیا: طالبان

?️ 1 ستمبر 2022سچ خبریں:   طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان سے امریکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے