مصر کی سفارتی کوششوں میں تیزی

مصر کی سفارتی کوششوں میں تیزی

?️

سچ خبریں: مصر نے بحیرہ احمر میں کشیدگی کو کم کرنے اور غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کے حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں اسی لیے مصری وزیر خارجہ کے جلد تہران کے دورے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق مصر، انصار اللہ اور ایران کے ساتھ مشاورت کے ذریعے یمن کے سیاسی بحران کے حل کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے جس اس کا مقصد بحیرہ احمر میں تناؤ کو کم کرنا اور خطے میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کا تحفظ کرنا ہے خاص طور پر جب سے سوئز کینال سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس سے مصر کی آمدنی پر منفی اثر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا امریکہ بحیرہ احمر میں اپنی چودھراہٹ دکھا سکے گا؟

العربی الجدید نے مزید کہا کہ حالیہ جولائی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، سوئز کینال کی آمدنی میں 23.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ کئی شپنگ کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کر چکی ہیں اور متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، قاہرہ میں سعودی حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت انصار اللہ کے وفد کی میزبانی کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ یمن میں سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔

مصر کی یہ سفارتی کوششیں قاہرہ، ریاض اور انقرہ کے درمیان مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں ہیں۔

مزید برآں، العربی الجدید نے اطلاع دی ہے کہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی جلد تہران کا دورہ کریں گے تاکہ خطے میں مشترکہ اقدامات پر مشاورت کی جا سکے۔

اس حوالے سے یمنی وزارت اطلاعات کے مشیر توفیق الحمیری نے العربی الجدید کو بتایا کہ اس وقت کے چیلنجز اسلامی حکومتوں کے درمیان فلسطین کی حمایت اور اسرائیلی دشمن کے خلاف اتحاد کی ضرورت کا تقاضا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انصار اللہ کے اقدامات عربی اور مصری اسٹریٹیجک سکیورٹی کے مفاد میں ہیں اور مصر اور سعودی عرب کو اس حوالے سے مشترکہ طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔

یمنی حکام نے اسرائیل کی بن گورین کینال کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے اقدامات کو اہم قرار دیا ہے۔

توفیق الحمیری نے العربی الجدید کو بتایا کہ جو فوج امریکیوں کی بحیرہ احمر میں فوجی موجودگی کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ یقیناً خطے اور دنیا میں ایک مؤثر قوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بحیرہ احمر میں اسرائیلی دشمن کی بحری نقل و حرکت پر پابندی لگانے سے اسرائیل کے بن گورین کینال کے منصوبے کو ناکام بنایا جا سکتا ہے، یمن کے یہ اقدامات سوئز کینال کی حمایت کے لیے ہیں۔

انصار اللہ کے میڈیا کے نائب سربراہ نصر الدین عامر نے بھی العربی الجدید کو بتایا کہ غزہ کی جنگ اور محاصرے کے خاتمے کے بغیر کوئی بھی اقدام بے سود ہے۔

مزید پڑھیں: بحیرہ احمر میں طاقت کا مظاہرہ؛ آئزن ہاور کو یمنیوں نے کیسے بھگایا ؟

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معلومات چاہے درست ہوں یا غلط بحر احمر میں ہماری کارروائیوں کو نہیں روک سکتی جب تک کہ غزہ کی جنگ اور محاصرہ ختم نہ ہو، اس کے علاوہ کوئی بھی قدم بے فائدہ ہوگا۔

مشہور خبریں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچیسن کالج کے طلبا و اساتذہ کے ساتھ نشست

?️ 12 فروری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ

اعلیٰ عدلیہ ججوں کیخلاف تنقیدی احکام جاری کرنے میں احتیاط برتے، سپریم کورٹ

?️ 18 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو

حماس کا آیت اللہ خامنہ ای کے نام خط

?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس  نے ایران کے مذہبی پیشوا آیت

مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں میں شویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے،رپورٹ

?️ 24 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ

کیا ریاستی ادارے غیر جانبدار ہوگئے ہیں؟

?️ 9 مارچ 2021 اسلام آباد {سچ خبریں}وزیراعظم عمران خان کی پے درپے شکستیں! ہفتے کو

بینظیر بھٹو نے جمہوریت، عوامی حقوق اور پاکستان کیلئے بے مثال جدوجہد کی۔ وزیراعظم

?️ 27 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ

غزہ کی پٹی کے شمال میں قابضین کی جارحیت سلسلہ جاری

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں: ایک بیان میں حماس نے اس بات پر زور دیا

وزیر خارجہ کی پی پی چیئرمین کو للکار، تمہارے سوالوں کا جواب دوں گا

?️ 14 فروری 2022ملتان (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چیئرمین پیپلز پارٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے