مشرق وسطی میں اپنی موجودگی کم کرنے کے لئے نئی امریکی پالیسی

امریکی

?️

سچ خبریں:حالیہ ہفتوں میں افغانستان سمیت خطے کے ممالک میں پیش آنے والی صورتحال کے بارے میں نہایت تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ امریکی فوج کے انخلا کے حیرت انگیز اعلان کا مطلب ہے کہ طالبان کو ملک کا کنٹرول سنبھالنے کی ترغیب دلائی جائے۔

سعید الشہابی نے ایک کالم میں مشرق وسطی میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے معاملے کا تجزیہ کرتے ہوئےاس سلسلے میں واشنگٹن کی نئی پالیسیوں کا ذکرکیا۔
1- حالیہ ہفتوں میں افغانستان سمیت خطے کے ممالک میں پیش آنے والی صورتحال کے بارے میں نہایت تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ امریکی فوج کے انخلا کے حیرت انگیز اعلان کا مطلب ہے کہ طالبان کو اس ملک کا کنٹرول سنبھالنے کی ترغیب دی جائے۔

2۔ امریکہ اب طالبان یا داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین کے لئے براہ راست خطرہ کے طور پر نہیں دیکھتا ہے اس کے باوجود اس نے مشرق وسطی میں اپنے مفادات کی نگرانی کی ہے اور اسے یقین ہے کہ ان کی حفاظت کے لئےاس خطہ میں مستقل فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے۔

3۔ امریکیوں میں اس یقین کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ پورے مشرق وسطی پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے ایک طاقت کا ابھرنا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ ایران اور سعودی عرب اثر و رسوخ کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں ،تاہم یہ ایک تزویراتی رقابت ہے اور اس کے لیے بڑی تعداد میں امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے۔

4۔ایران چین اسٹریٹجک شراکت داری بھی ایک تجارتی معاہدے کی طرح دکھائی دیتی ہے جس کے تحت چین کو کم قیمت پر ایرانی تیل تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے اور امریکی حکمت عملی کے مطابق یہ ایسی شراکت میں تبدیل ہوجائیں گے جو براہ راست امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالتا ہےجبکہ چین کے جی سی سی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی ہیں جو سعودی عرب ، عراق اور ایران سے چین کو زیادہ تیل برآمد کرتے ہیں اور جی سی سی کے ممبران ایران سے کئی گنا زیادہ چین سے اسلحہ خریدتے ہیں۔

5۔خطے میں امریکی موجودگی کی ترجمانی کے لئے بہت سے مفروضے تھے جن میں سے بیشتر بدل چکے ہیں، ان میں سے ایک مفروضہ یہ بھی تھا کہ امریکہ تیل کی رساو کو یقینی بنانے ، اسرائیل کی مدد کے لئے اور ایک علاقائی یا بین الاقوامی طاقت جو خطے پر غلبہ حاصل کرنے اور امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرے گی، کو ابھرنے سے روکنے کے لئے خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا ۔

 

مشہور خبریں۔

قدس اور 48 علاقوں میں وائس آف فلسطین ریڈیو پر پابندی

?️ 21 مارچ 2023سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے آج پیر کے روز اعلان کیا کہ صیہونی

کیا پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر سر اٹھانے لگی ہے؟

?️ 11 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان  میں کورونا کیسز کی شرح 4 فی صد

ترکی کی 3,250 سیکیورٹی فورسز قطر بھیجی جائیں گی

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:  سلیمان سویلو نے ترکی کے جنوبی ساحلی شہر انطالیہ میں

سال 2024 کا پہلا مکمل سورج گرہن کب ہوگا؟

?️ 5 اپریل 2024سچ خبریں: سال 2024 کا پہلا سورج گرہن چار دن بعد 8

میں استعفیٰ نہیں دوں گا: برطانوی وزیراعظم کا کابینہ سے خطاب

?️ 7 جولائی 2022سچ خبریں:   کابینہ کے وزراء کے بڑے پیمانے پر استعفوں کے بعد

لبنانی صدارتی کیس پر ریاض اور پیرس کے درمیان اختلاف

?️ 13 ستمبر 2022سچ خبریں:     امریکی ثالث آموس ہوچسٹین کے حالیہ اقدامات اور کسی

ٹرمپ کا نیتن یاہو پر غزہ اور شام میں پالیسی تبدیل کرنے کا دباؤ

?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ایکس ایس نے اسرائیلی اور امریکی حکام

امریکا کا مکروہ چہرہ بے نقاب، امریکی فوج افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے

?️ 29 مئی 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اہم اجلاس ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے